تفسیر درِ منثور

Dure-Mansoor · 68. Al-Qalam · Ayah 42

  1. یَوْمَ یُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ وَّ یُدْعَوْنَ اِلَى السُّجُوْدِ فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَۙ﴿42﴾

    1. يَوْمَ يُكْشَفُجس دن کھول دیاجائے گا
    2. عَنْ سَاقٍپنڈلی سے
    3. وَّيُدْعَوْنَاور وہ بلائے جائیں گے
    4. اِلَى السُّجُوْدِطرف سجدوں کے
    5. فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَتو وہ استطاعت نہ رکھتے ہوں گے
Translation · Dure-Mansoor
جس دن ساق کی تجلی فرمائی جائے گی اور یہ لوگ سجدہ کی طرف بلائے جائیں گے سو سجدہ نہ کرسکیں گے
Tafseer · Dure-Mansoor
ہر مومن مرد و عورت کا سجدہ کرنا 1۔ البخاری وابن المنذر نے ابو سعید ؓ سے روایت کیا کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ فرماتے وہئے سنا کہ ہمارے رب اپنی پنڈلی کو کھولیں گے تو ان کے لیے ہر مومن مرد اور ہر مومن عورت سجدہ کرے گی۔ اور وہ آدمی باقی رہے گا جو دنیا میں ریا کاری اور شہرت کے لیے سجدہ کرتا تھا۔ وہ چاہے گا کہ سجدہ کرے تو اس کی پیٹھ ایک طبق بن جائے گی۔ یعنی اس کی پیٹھ اکڑ جائے گی اور وہ سجدہ نہیں کرسکے گا۔ 2۔ ابن مندہ نے الرد علی الجہینہ میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا آیت یوم یکشف عن ساق جس دن پنڈلی سے کھولا جائے گا یعنی اللہ تعالیٰ اپنی پنڈلی کو کھولیں گے۔ 3۔ عبدالرزاق وعبد بن حمیدوابن المنذر وابن مندہ نے ابن مسعود ؓ سے آیت یوم یکشف عن ساق کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ دونوں ساقوں سے پردہ اٹھائیں گے۔ ابن مندہ (رح) نے کہا ابن مسعود ؓ کی قراءت میں شاید یوں ہے۔” یکشف “ یاء کے فتح اور شین کے کسرہ کے ساتھ۔ 4۔ ابو یعلی وابن جریر وابن المنذر وابن مردویہ اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں وضعفہ وابن عساکر نے ابو موسیٰ ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے آیت یوم یکشف عن ساق کے بارے میں فرمایا کہ جس دن ایک عظیم نور سے پردہ اٹھایا جائے گا اور لوگ اس کے لیے سجدہ میں گرپڑیں گے۔ 5۔ فریابی و سعید بن منصور وابن مندہ و بیہقی نے الاسماء والصفات میں ابراہیم النخعی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے آیت یوم یکشف عن ساق کے بارے میں روایت کیا کہ ایک امر عظیم سے پردہ اٹھایا جائے گا پھر فرمایا قد قامت الحرب بنا علی ساق۔ تحقیق جنگ ساق پر کھڑی ہوگی یعنی گھمسان کی جنگ ہوگی۔ اور ابن مسعود ؓ نے فرمایا وہ اپنی ساق سے پردہ اٹھائے گا تو ہر مومن سجدہ میں گرپڑے گا اور کافر کی پیٹھ انکار کردے گی۔ اور وہ ایک ہی ہڈی کی طرح ہوجائے گی۔ 6۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم والحاکم وصححہ والبیہقی فی الاسماء والصفات عکرمہ کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت یوم یکشف عن ساق کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا جب قرآن میں سے کوئی چیز تم پر مخفی اور پوشیدہ ہو تو اس کو شعر میں ڈھونڈو کیونکہ وہ عرب کا دیوان ہے۔ کیا تم نے شاعر کا قول نہیں سنا اصبر عناق انہ شر باق میں صبر کرتا ہوں مصیبت پر کیونکہ وہ باقی رہنے والا شر ہے قد سن لی قومک ضرب الاعناق تحقیق میرے لیے تیری قوم نے مصائب کا مقابلہ کرنے کا طریقہ قائم کیا ہے وقامت الحرب بنا علی ساق اور ہمارے لیے جنگ پنڈلی پر کھڑی ہے (یعنی گھمسان کی جنگ جاری ہے ) ابن عباس ؓ نے فرمایا یہ دن سخت مصیبت اور شدت کا ہے۔ 7۔ الطستی نے اپنے مسائل میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ارزق (رح) نے ان سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت یوم یکشف عن ساق کے بارے میں پوچھا تو فرمایا اس سے مراد ہے جس دن آخرت کی شدت سے پردہ اٹھایا جائے گا پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں ؟ فرمایا ہاں کیا تو نے شاعر کا یہ قول نہیں سنا۔ قد قامت الحرب بنا ساق جنگ ہمارے اپنے پنڈلی پر کھڑی ہے یعنی جنگ شدت اختیار کرگئی ہے 8۔ ابن ابی حاتم والبیہقی نے الاسماء والصفات میں ابن عباس ؓ سے آیت یوم یکشف عن ساق کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد قیامت کے دن کے خوف اور گھبراہٹ کے سبب انتہائی شدید خوفزدہ کردینے والا امر ہے۔ 9۔ ابن مندہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت یوم یکشف عن ساق سے مراد ہے آخرت کی شدت اور سختی۔ 10۔ فریابی وعبد بن حمید وابن المنذر وابن مندہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت یوم یکشف عن ساق سے مراد ہے جس دن کام کی شدت اور اس کی عظمت سے پردہ اٹھایا جائے گا اور ابن عباس ؓ فرماتے تھے کہ وہ ایک سخت گھڑی ہے جو قیامت کے دن ہوگی۔ 11۔ بیہقی نے الاسماء والصفات میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے آیت یوم یکشف عن ساق پڑھا اور فرمایا کہ اس سے قیامت مراد ہے اور اس سے اس کی شدت کا ارادہ کیا گیا۔ 12۔ البیہقی نے ابن عباس ؓ سے آیت یوم یکشف عن ساق کے بارے میں روایت کیا کہ جس دن امر ظاہر کیا جائے گا اور اعمال ظاہر ہوں گے۔ اور امر کو ظاہر کرنے سے مراد آخرت کا داخل ہونا اور اس سے پردے کو ہٹانا ہے۔ 13۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن مندہ نے عمرو بن دینار (رح) کے طریق سے روایت کیا کہ ابن عباس ؓ اس طرح پڑھتے تھے آیت یوم تکشف عن ساق تاء کی فتح کے ساتھ ابو حاتم سجسستانی (رح) نے کہا کہ اس سے مراد ہے آخرت اپنی ساق سے پردہ دور کردے گی تو اس میں سے وہ سب ظاہر ہوجائے گا جو غائب تھا۔ 14۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح پڑھا آیت یوم یکشف عن ساق یار اور یاء کے رفع کے ساتھ۔ 15۔ عبد بن حمید وابن المنذر اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ ان سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت یوم یکشف عن ساق کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا کہ عرب کے لوگوں میں جن جب جنگ وجدال شدت اختیار کرجاتا اور ان کے درمیان معاملہ بہت بڑھ جاتاتو اس کی شدت کے سبب کہتے تھے کہ لڑائی نے ساق سے پردہ اٹھالیا ہے تو اللہ تعالیٰ نے اس قیامت کے دن کی شدت اور سختی کو اسی انداز میں بیان فرمایا جو وہ جانتے تھے۔ 16۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ ان سے آیت یوم یکشف عن ساق کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ سخت غصے ہوگئے۔ اور فرمایا کہ لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنی پنڈلی مبارک کھول دیں گے۔ بلاشبہ شدید امر سے پردہ اٹھایا جائے گا۔ کفار کو آخرت میں سجدہ پر قدرت نہ ہوگی 17۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وقدکانوا یدعون الی السجود وہم سلمون۔ دنیا میں ان کو سجدہ کرنے کی دعوت دی جاتی تھی اور وہ سجدہ نہیں کرتے تھے حالانکہ وہ صحیح سالم تھے۔ سے مراد وہ کافر ہیں۔ جو دنیا میں بلائے جاتے تھے۔ حالانکہ وہ امن والے ہوتے تھے۔ اور آج ان کو بلایا جائے گا اور وہ ڈر رہے ہوں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ سبحانہ نے خبردی کہ وہ حائل ہیں بیشک وہ اہل شرک اور اپنی اطاعت اور عبادت کے درمیان دنیا وآخرت میں حائل ہیں پس دنیا میں اس طرح کہ اس نے فرمایا کہ وہ سننے کی طاقت نہیں رکھتے ہیں۔ اور یہی ان کی اطاعت ہے اور نہ وہ دیکھ سکتے ہیں اور فرمایا کہ وہ آخرت میں بھی طاقت نہیں رکھیں گے۔ سجدہ کرنے کی اور ان کی آنکھیں جھکی ہوئی ہوں گی۔ 18۔ ابن المنذر نے مجاہد (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ ہم کو خبر دی گئی کہ ایمان والے منافقین سے جدا ہوجائیں گے قیامت کے دن۔ تو ایمان والے سجدہ کریں گے اور منافقین کی پیٹھیں سخت ہوجائیں گی وہ سجدہ نہیں کرسکیں گے۔ اور ایمان والوں کے سجدوں کی وجہ سے ان کی زجروتوبیخ اور حسرت و ندامت میں اضافہ ہوجائے گا۔ 19۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے آیت یوم یکشف عن ساق کے بارے میں روایت کیا کہ جس دن بڑی بلا سے پردہ اٹھایا جائے گا۔ 20۔ عبد بن حمی دنے ابراہیم النخعی (رح) سے روایت کیا کہ آیت یوم یکشف عن ساق سے مراد ہے کہ جس دن اس امر عظیم سے پردہ اٹھایا جائے گا جو بہت شدید ہے۔ 21۔ عبد بن حمید نے ربیع بن انس (رح) سے روایت کیا کہ آیت یوم یکشف عن ساق میں ساق سے مراد ہے پردہ۔ یعنی جس دن وہ پردہ سے ظاہر ہوگا تو وہ سجدہ میں گرپڑیں گے جو دنیا میں اس کے ساتھ ایمان لائے اور دوسروں کو سجود کی طرف بلایا جائے گا مگر وہ سجدہ نہ کرسکیں گے کیونکہ وہ دنیا میں ایمان نہیں لائے تھے۔ اور نہ وہ اسے دیکھ سکیں گے۔ اور وہ سجدوں کی طاقت نہ رکھیں تھے حالانکہ وہ دنیا میں صحیح سالم تھے۔ 22۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت یوم یکشف عن ساق سے مراد ہے کہ جس دن بہت زیادہ خوف اور گھبراہٹ پیدا کرنے والے امر سے پردہ اٹھایا جائے گا آیت ویدعون الی السجود فلا یستطیعون۔ یعنی یہ قایتم کے دن ہوگا اور ہم کو ذکر کیا گیا کہ نبی اکرم ﷺ فرماتے تھے کہ ایمان والوں کو قیامت کے دن سجدوں کی اجازت دی جائے گی۔ تو مومنین سجدہ کریں گے اور مومنین کے درمیان منافق ہوں گے تو منافق کی پیٹھ سجدہ کرنے سے تنگ ہوجائے گی اور اللہ تعالیٰ مومنین کے سجوں کو ان کے لیے ڈانٹ ڈپٹ، حقارت، ذلت، ندامت اور حسرت کا سبب بنادیں گے۔ اور آیت وقدکانوا یدعون الی السجود وہم سلمون۔ سے مراد ہے کہ ان کو نمازوں میں سجود کی طرف بلایا جاتا تھا۔ حالانکہ وہ صحیح سالم تھے۔