تفسیر درِ منثور

Dure-Mansoor · 70. Al-Ma'aarij · Ayah 19

  1. اِنَّ الْاِنْسَانَ خُلِقَ هَلُوْعًاۙ﴿19﴾

    1. اِنَّ الْاِنْسَانَبیشک انسان
    2. خُلِقَپیدا کیا گیا
    3. هَلُوْعًابےصبرا۔ تھڑ دلا
Translation · Dure-Mansoor
بیشک انسان کم ہمت پیدا کیا گیا ہے
Tafseer · Dure-Mansoor
1۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ ابن عباس ؓ سے آیت ہلوعا کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ وہ ایسے ہی ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت اذا مسہ الشر جزوعا واذا مسہ الخیر منوعا جب اسے تکلیف پہنچتی ہے تو چلا اٹھتا ہے اور جب اسے مال ملتا ہے تو بڑا بخیل بن جاتا ہے پس ہلوع ہے۔ 2۔ طستی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انفع بن ارزق (رح) نے ان سے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت ان الانسان خلق ہلوعا کے بارے میں بتائیے تو فرمایا اس سے مراد ہے سخت تنگ دل اور گھبرانے والا۔ یہ ابو جہل بن ہشام کے بارے میں نازل ہوئی۔ پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں ؟ فرمایا ہاں کیا تو نے بشر بن ابی حازم کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا : لا مانعا للیتیم بخلقہ ولا مکبا بخلقہ ہلعا ترجمہ : اپنی فطر کے سبب وہ کسی یتین کی حمایت نہیں کرتا اور نہ ہی وہ اپنی فطر کے سبب کسی گھبرا جانے والے کو پچھاڑ سکتا ہے 3۔ ابن المنذر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ ان سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت ان الانسان خلق ہلوعا کے بارے میں پوچھا یعنی انسان کم ہمت پیدا کیا گیا فرمایا اس کے بعد وہ آیات پڑھو تو انہوں نے پڑھا آیت اذا مسہ الشر جزوعا واذا مسہ الخیر منوعا۔ فرمایا اس طرح انسانوں کو پیدا کیا گیا۔ ہلوعا کی تفسیر 4۔ ابن المنذر نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ ہلوعا سے مراد ہے بخیل اور گھبرا جانے والا 5۔ ابن المنذر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ ہلوعا سے مراد ہے تنگ دل 6۔ عبدالرزاق وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ہلوعا سے مراد ہے تنگ دل 6۔ عبد الرزاق وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ہلوعا سے مراد ہے سخت گھبراجانے والا 7۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ہلوعا سے مراد ہے لالچی اور حریص۔ 8۔ ابن المنذر نے حصین بن عبدالرحمن (رح) سے روایت کیا کہ ہلوعا سے مراد ہے حریص۔ 9۔ ابن المنذر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ ہلوعا سے مراد ہے وہ آدمی ہے جو مال کے جمع کرنے سے سیر نہ ہوتا ہو۔ 10۔ دیلمی نے علی ؓ سے مرفوعاً روایت کیا کہ لکھا جاتا ہے مریض کا کراہنا۔ اگر وہ صابر رہا تو اس کا کراہنا نیکیاں ہوں گی اور اگر گھبراتا رہا تو بےصبرا لکھا جائے گا اور اس کے لیے کوئی اجر نہ ہوگا۔