تفسیر درِ منثور

Dure-Mansoor · 70. Al-Ma'aarij · Ayah 8

  1. یَوْمَ تَكُوْنُ السَّمَآءُ كَالْمُهْلِۙ﴿8﴾

    1. يَوْمَجس دن
    2. تَكُوْنُ السَّمَآءُہوگا آسمان
    3. كَالْمُهْلِتیل کی تلچھٹ کی طرح
Translation · Dure-Mansoor
جس دن آسمان تیل کی تلچھٹ کی طرح ہوگا
Tafseer · Dure-Mansoor
3۔ احمد وعبد بن حمید وابن المنذر والخطیب فی المتفق والمفترق اور ضیاء نے المختارہ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت یوم تکون السماء کالمہل جس دن آسمان پگھلے ہوئے تانبے کی مانند ہوگا یعنی اب آسمان سبز رنگ کا ہے۔ اور بیشک قیامت کے دن وہ سرخ رنگ میں بدل جائے گا۔ 4۔ الطستی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ارزق (رح) نے ان سے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت یوم تکون السماء کالمہل کے بارے میں بتائیے فرمایا کہ قیامت کے دن کے خوف سے آسمان تیل کی تلچھٹ اور بیڈی کی سیاہی کی مانند ہوجائے گا۔ پھر فرمایا کیا عرب کے لوگ اس سے واقف ہیں ؟ فرمایا کیا تو نے شاعر کا قول نہیں سنا۔ تنا دی بہ القسم الصموم کانہا تبطنت الاقراب من عرق مہلا ترجمہ : کھولتا ہوا گرم پانی اس سے ظاہر ہورا ہے گویا کہ پہلو ہڈیوں سے پگھل کر اندر گھس گئے ہیں 5۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت یوم تکون السماء کالمہل سے مراد ہے تیل کی تلچھٹ وتکون الجبال کالعہن المنفوش۔ اور پہاڑ دھنی ہوئی رنگدار روئی کی طرح ہوں گے جیسے اون آیت یبصرونہم۔ وہ انہیں دکھائے جائیں گے یعنی مومن کافروں کو دیکھیں گے۔ کافر دوست ایک دوسرے کو نہ پوچھے گا۔