تفسیر درِ منثور
Dure-Mansoor · 71. Nooh · Ayah 7
وَ اِنِّیْ كُلَّمَا دَعَوْتُهُمْ لِتَغْفِرَ لَهُمْ جَعَلُوْۤا اَصَابِعَهُمْ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَ اسْتَغْشَوْا ثِیَابَهُمْ وَ اَصَرُّوْا وَ اسْتَكْبَرُوا اسْتِكْبَارًاۚ﴿7﴾
- وَاِنِّىْاور بیشک میں نے
- كُلَّمَاجب کبھی
- دَعَوْتُهُمْمیں نے پکارا ان کو
- لِتَغْفِرَ لَهُمْتاکہ تو بخش دے ان کو
- جَعَلُوْٓاانہوں نے ڈال لیں
- اَصَابِعَهُمْاپنی انگلیاں
- فِيْٓ اٰذَانِهِمْاپنے کانوں میں
- وَاسْتَغْشَوْااور اوڑھ لیے۔ ڈھانپ لیے
- ثِيَابَهُمْکپڑے اپنے
- وَاَصَرُّوْااور انہوں نے اصرار کیا
- وَاسْتَكْبَرُوااور تکبر کیا
- اسْتِكْبَارًاتکبر کرنا
Translation · Dure-Mansoor
اور بلاشبہ جب میں نے انہیں بلایا تاکہ آپ ان کی مغفرت فرمائیں تو انہوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں دے لیں اور اپنے کپڑے اوڑھ لیے اور اصرار کیا اور حد درجہ کا تکبر کیا
Tafseer · Dure-Mansoor
7۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت جعلوا اصابعہم فی اذنہم انہوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں رکھ لیں تاکہ آپ جو کہتے ہیں اس کو نہ سن سکیں۔ آیت واستغشوا ثیابہم اور انہوں نے اپنے کپڑے اوڑھ لیے۔ تاکہ وہ ان کے لیے ان جان ہوجائیں اور وہ ان کو نہ پہچان سکیں۔ آیت واستکبرا واستکبارا اور بہت بڑا تکبر کیا یعنی انہوں نے توبہ کرنا چھوڑ دی۔
8۔ سعید بن منصور وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت واستغشوا ثیابہم یعنی انہوں نے اپنے چہروں کو ڈھانک لیا تاکہ وہ نوح (علیہ السلام) کو نہ دیکھیں اور نہ ہی آپ کا کلام سنیں۔
9۔ عبد بن حمید نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ آیت واسغشوا ثیابہم یعنی وہ کپڑوں میں لپٹ جاتے۔