تفسیر درِ منثور
Dure-Mansoor · 74. Al-Muddaththir · Ayah 48
فَمَا تَنْفَعُهُمْ شَفَاعَةُ الشّٰفِعِیْنَؕ﴿48﴾
- فَمَا تَنْفَعُهُمْاور انہیں نفع نہ دیا
- شَفَاعَةُسفارش
- الشّٰفِعِيْنَسفارش کرنے والوں
Translation · Dure-Mansoor
سو ان کو سفارش کرنے والوں کی سفارش کام نہ دے گی
Tafseer · Dure-Mansoor
11۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت فما تنفعہم شفاعۃ الشفعین یعنی ان کو کسی سفارش کرنے والے کی کوئی سفارش نفع نہیں دے گی۔
12۔ ابن مردویہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میری سفارش سے ضرور نکلتے رہیں گے۔ ایمان والے دوزخ میں سے یہاں تک کہ اس میں کوئی باقی نہ رہے گا۔ سوائے ان کے جن کا ذکر اس آیت میں ہے۔ آیت ما سلککم فی سقر سے لے کر آیت شفاعۃ الشفعین تک
ہر مومن کے حق میں شفاعت ہوگی
13۔ ابن مردویہ نے عبدالرحمن بن میمون (رح) سے روایت کیا کہ کعب ؓ ایک دن عمر بن خطاب ؓ کے پاس آئے۔ عمر ؓ نے ان سے فرمایا مجھ سے بیان کیجیے کہ جہاں محمد ﷺ کی سفارش قیامت کے دن ختم ہوجائے گی۔ کعب ؓ نے فرمایا کہ تحقیق اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں آپ کو خبر دی ہے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں آیت ماسلککم فی سقر سے لے کر الیقین تک کعب ؓ نے فرمایا اس دن آپ ﷺ شفاعت فرمائیں گے یہاں تک کہ ان تک پہنچ جائیں گے۔ جنہوں نے کبھی نماز نہیں پڑھی اور نہ کبھی کسی مسکین کو کھانا کھلایا۔ اور نہ ہی قیامت کے دن دوبارہ اٹھائے جانے پر ایمان لایا۔ جب ان لوگوں کو شفاعت پہنچے گی تو کوئی باقی نہیں رہے گا جس میں خیر اور نیکی ہو۔
14۔ ابن مردویہ نے انس ؓ سے روایت کیا کہ نبی مکرم ﷺ نے فرمایا دوزخ والوں میں سے ایک ادنی دوزخی کو لایا جائے گا قیامت کے دن۔ اللہ تعالیٰ اس سے فرمائیں گے سونے اور چاندی سے بھری ہوئی زمین تو فدیہ میں دے سکتا ہے ؟ اگر تجھے مل جائے وہ کہے گا ہاں اگر میں اس پر قادر ہوجاؤں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں تو نے جھوٹ کہا تو مجھے اس کی رغبت دلاتا تھا۔ جو تجھ پر انتہائی آسان ہو کہ تو مجھ سے سوال کر تو میں تجھ کو عطا کروں اور اگر تو مجھ سے مغفرت طلب کرے تو میں تیری مغفرت کردوں گا اور اگر تو مجھ سے دعا کرے تو میں تیری دعا کو قبول کروں گا لیکن تو مجھ سے نہیں ڈرا دن رات میں ایک ساعت بھی اور نہ کبھی مجھ سے کوئی امید اور آرزو وابستہ کی اور نہ کبھی میری سزا سے خوفزدہ ہوا۔ اور اس کے سوا اور کچھ نہیں مگر وہی جو اس سے بڑھ کر مشقت آمیز اور تکلیف دہ ہے۔ تو پھر اس سے کہا جائے گا آیت ماسلککم فی سقر قالوا لم نک من المصلین سے لے کر آیت حتی اتٰنا الیقین تک۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں آیت فما تنفعہم شفاعۃ الشفعین۔ نہیں نفع دے گی ان کو سفارش کرنے والوں کی سفارش۔
15۔ ابن مردویہ نے صہیب الفقیر (رح) سے روایت کیا کہ ہم مکہ میں تھے اور میرے ساتھ طلق بن حبیب (رح) تھے ہم خوارج کی رائے رکھتے تھے اور ہم تک یہ خبر پہنچی کہ جابر بن عبداللہ ؓ شفاعت کے بارے میں کچھ فرماتے ہیں۔ ہم ان کے پاس آئے اور ہم نے ان سے کہا ہم کو آپ کی طرف سے یہ خبر پہنچی ہے کہ شفاعت کے بارے میں آپ کا نظریہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کے خلاف ہے جو اللہ کی کتاب میں ہے۔ انہوں نے ہمارے چہروں کی طرد یکھا اور فرمایا تم اہل عراق میں سے ہو۔ ہم نے کہا ہاں۔ تو وہ مسکرائے اور فرمایا تم نے اللہ کی کتاب میں سے کہاں پایا ؟ میں نے کہا جہاں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں آیت ربنا انک من تدخل النار فقد اخزیتہ۔ (آل عمران آیت 192) اے ہمارے رب جس کو آپ دوزخ میں داخل فرمادیں تو یقینی طور پر آپ نے اس کو رسوا کردیا) ۔ آیت یریدون ان یخرجوا من النار وما ہم بخرجین منہا (المائدہ آیت 37) اور دوزخ سے نکلنے کا ارادہ کرتے ہیں حالانکہ وہ اس میں سے نکلنے والے نہیں۔ آیت کلما ارادوا ان یخرجوا منہا اعیدوا فیہا (السجدہ آیت 20) اور جب وہ اس میں سے نکلنے کا ارادہ کریں گے تو اس میں دوبارہ لوٹادئیے جائیں۔ اور قرآن میں ان جیسی اور آیتیں یہ سن کر جابر بن عبداللہ ؓ نے فرمایا تم اللہ کی کتاب کو زیادہ جانتے ہو یا میں جانتا ہوں۔ ہم نے کہا بلکہ آپ ہی زیادہ جانتے ہیں تو انہوں نے فرمایا اللہ کی قسم ! میں اس کے نازل ہونے کے وقت حاضر تھا رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک میں۔ اور شفاعۃ الشافعین کے نزول کے وقت میں۔ اور البتہ یقینی طور پر میں نے اس کی تاویل کو رسول اللہ ﷺ سے سنا۔ بلاشبہ شفاعت اس کے نبی کے لیے ہے اللہ کی کتاب میں۔ اور اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں فرمایا جو سورة مدثر میں ذکر کی گئی۔ یعنی آیت ماسلککم فی سقر قالوا لم نک من المصلین۔ الایۃ۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ وہ شفاعت حلال کی گئی ہے۔ اس شخص کے لیے جو اس حال میں مرے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہو میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا۔ کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا فرمایا اور اس پر کسی سے مدد نہیں لی۔ اور اس بارے میں نہ کسی سے مشورہ فرمایا۔ سو جس کو چاہیں گے اپنی رحمت سے جنت میں داخل فرمائیں گے۔ اور جس کو چاہیں گے دوزخ میں داخل کریں گے۔ پھر بلاشبہ اللہ تعالیٰ توحید والوں پر مہربانی فرمائیں گے اور ایک فرشتے کو اپنے پاس سے پانی اور روشنی دے کر بھیجیں گے وہ جہنم میں داخل ہوگا اور وہ پانی کو چھڑکے گا مگر وہ پانی نہیں پہنچے گا مگر اس کو جس کو اللہ چاہیں گے۔ اور نہیں پہنچے گا مگر جو دنیا سے اس حال میں نکلا کہ اس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہو وہ ان کو نکالے گا یہاں تک کہ ان کو جنت کے قریب سرزمین میں ڈال دے گا۔ پھر وہ اپنے رب کے پاس لوٹے گا۔ تو اللہ تعالیٰ اس کے پانی اور روشنی کو اور زیادہ کردیں گے۔ پھر وہ داخل ہوگا اور پانی کو جھڑکے گا۔ مگر ہو پہنچے گا جس کو اللہ چاہیں گے۔ پھر وہ اس شخص کو پہنچے گا جو دنیا سے اس حال میں نکلا کہ اس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہو پھر وہ ان کو نکالے گا اور جنت کے قریب میں ڈال دے گا پھر اللہ تعالیٰ شفاعت کرنے والوں کو اجازت فرمائیں گے۔ وہ لوگ ان کے لیے شفاعت کریں گے اور اللہ تعالیٰ ان کو جنت میں داخل فرمائیں گے اپنی رحمت سے اور شفاعت کرنے والوں کی شفاعت سے۔
16۔ بیہقی نے البعث میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ ایمان والوں میں سے ایک قوم کو عذاب دیں گے۔ پھر ان کو محمد ﷺ کے شفاعت سے جہنم سے نکالیں گے۔ یہاں تک کہ کوئی باقی نہیں رہے گا سوائے ان لوگو کے جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں فرمایا آیت ما سلککم فی سقر سے لے کر آیت شفاعۃ الشافعین تک۔