تفسیر درِ منثور

Dure-Mansoor · 74. Al-Muddaththir · Ayah 50

  1. كَاَنَّهُمْ حُمُرٌ مُّسْتَنْفِرَةٌۙ﴿50﴾

    1. كَاَنَّهُمْگویا کہ وہ
    2. حُمُرٌگدھے
    3. مُّسْتَنْفِرَةٌبھاگے ہوئے
Translation · Dure-Mansoor
گویا کہ وہ وحشی گدھے ہیں
Tafseer · Dure-Mansoor
18۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے آیت کانہم حمر۔ گویا کہ وہ گدھے ہیں میں کان کو مثقلہ اور مستنفرۃ میں فاء کسرہ کے ساتھ پڑھا۔ 23۔ عبد بن حمید نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت کانہم حمر مستنفرۃ فرت من قسورۃ۔ گویا کہ وہ بدکنے والے گدھے ہیں جو شیر سے بھاگے ہیں یعنی وہ وحشی جانور جو اپنے تیر مارنے والے سے بھاگتا ہے۔ 24۔ عبد بن حمید نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ آیت فرت من قسورۃ سے مراد ہے شکاری۔ 25۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت فرت من قسورۃ سے مراد ہے شکاری تیر پھینکنے والا۔ 26۔ عبد بن حمید نے ابو مالک (رح) سے روایت کیا کہ قسورۃ سے مراد ہے تیر پھینکنے والا۔ 27۔ الخطیب فی تاریخہ عطا بن ابی رباح (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔ 28۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ قسورۃ سے مراد ہے تیر۔ 29۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” من ق سورة “ سے مرد ہے شکاروں کی رسیاں۔ 30۔ سفیان بن عیینہ فی تفسیرہ وعبدالرزاق وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ من قسورۃ سے مراد ہے لوگوں کی آوازیں۔ 31۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ نے ” من قسورۃ “ کے بارے میں روایت کیا کہ قسورۃ سے مراد ہے شیر مگر عرب کی زبان میں اسد کو کہتے ہیں۔ اور حبشہ کی زبان میں قسورۃ کہتے ہیں 32۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ آیت فرت من قسورۃ سے مراد شیر ہے۔ 33۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے سدی سے روایت کیا اور انہوں نے ابو صالح (رح) سے روایت کیا کہ کافروں نے کہا اگر محمد ﷺ سچے ہیں تو چاہیے کہ صبح کے وقت ہم میں سے ہر آدمی کے سر کے نیچے ایک پرچہ ہو جس میں اس کی دوزخ سے براءت اور اس سے امن کھا ہوا ہو۔ تو اس وقت یہ آیت نازل ہوئی آیت بل یرید کل امرء منہم ان یوتی صحفا منشرۃ۔