تفسیر درِ منثور
Dure-Mansoor · 74. Al-Muddaththir · Ayah 52
بَلْ یُرِیْدُ كُلُّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ اَنْ یُّؤْتٰى صُحُفًا مُّنَشَّرَةًۙ﴿52﴾
- بَلْ يُرِيْدُبلکہ چاہتا ہے
- كُلُّ امْرِۍہر آدمی
- مِّنْهُمْان میں سے
- اَنْ يُّؤْتٰىکہ وہ دئے جائیں
- صُحُفًاصحیفے
- مُّنَشَّرَةًکھلے ہوئے
Translation · Dure-Mansoor
بلکہ ان میں سے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ اسے کھلے ہوئے نوشتے دے دئیے جائیں
Tafseer · Dure-Mansoor
34۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت بل یرید کل امرء منہم ان یوتی صحفا منشرۃ۔ بلکہ ہر ایک آدمی ان میں سے چاہتا ہے کہ اسے کھلے ہوئے صحیفے دئیے جائیں۔ یعنی اس طرح سے کہ رب العالمین کی طرف سے فلاں بن فلاں کے نام جو صبح کے وقت ہر آدمی کے سر کے نیچے صحیفہ رکھا ہو جس کو وہ پڑھ لے۔
35۔ عبدبن حمید وابن المنذرنے قتادہ ؓ سے آیت بل یرید کل امرء منہم ان یوتی صحفا منشرۃ کے بارے میں روایت کیا کہ لوگوں میں سے کچھ کہنے والوں نے محمد ﷺ سے کہا۔ اگر آپ کو یہ بات خوش لگے کہ ہم آپ کی تابعداری کریں تو ہمارے پاس ایک خط لے آئیے کہ جس میں ہم کو آپ کی اتباع کا حکم دیا گیا ہو اور فرمایا کہ آیت کلا، بل لا یخافون الاٰخرۃ۔ ہرگز نہیں بلکہ وہ تو آخرت سے بھی نہیں ڈرتے۔ یہ اس وجہ سے جو قوم کو ہنسایا اور ان کو خراب کہا وہ یہ ہے کہ وہ لوگ آخرت سے نہیں ڈرتے اور نہ آخرت کے دن کی تصدیق کرتے ہیں مزید فرمایا آیت کلا انہ تذکرۃ۔ ہرگز نہیں بیشک یہ قرآن ایک نصیحت ہے۔ یعنی یہ قرآن ایک نصیحت ہے۔ یعنی یہ قرآن آیت ہو اہل التقوی واہل المغفرۃ۔ وہی ہے جس سے ڈرنا چاہیے اور وہی بخشنے والا ہے یعنی بلاشبہ ہمارے رب یہ حق رکھتے ہیں کہ ان کی حرام کردہ چیزوں سے بچا جائے گا۔ اور وہ اس لائق ہیں کہ اپنے بندوں کے بہت گناہوں کو معاف کردیں۔
36۔ ابن ابی شیبہ نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت کلا، بل لایخافون الاٰخرۃ۔ یعنی آخرت کا خوف نہ ہونا ہی وہ شی ہے جس نے ان کو ذلیل ورسوا کردیا۔
37۔ احمد والدارمی والترمذی والنسائی وابن ماجہ والبزار وابویعلی وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن عدی والحاکم وصححہ وابن مردویہ نے ابن مردویہ (رح) سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے اس آیت ہو اہل التقوی واہل المغفرۃ کو پڑھا اور فرمایا کہ تمہارے رب نے فرمایا میں اس لائق ہوں کہ مجھ سے ڈرا جائے جس شخص نے کسی اور کو میرے ساتھ معبود نہیں بنایا تو میں اس لائق ہوں کہ اس کی مغفرت کردوں۔
اللہ اس کا اہل ہے کہ اللہ سے ڈرا جائے
38۔ ابن مردویہ نے عبداللہ بن دینار (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابوہریرہ کو اور ابن عمر اور ابن عباس ؓ کو یہ فرماتے ہوئے سنا : کہ وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت ہو اہل التقوی واہل المغفرۃ۔ کے بارے میں پوچھا گیا آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں اس کا اہل ہوں کہ مجھ سے ڈرا جائے۔ اور میرے ساتھ کوئی شرک نہ بنایا جائے تو میں اس لائق ہوں کہ اس علاوہ جو گناہ ہوں ان کو بخش دوں۔
39۔ الحکم الترمذی نے نوادر الاصول میں حسن (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں سب سے بڑا عزت والا اور سب سے بڑا ہوں عفو و درگزر کے لحاظ سے اور اس لحاظ سے بھی عظیم اور بلند شان والا ہوں کہ میں دنیا میں اپنے بندے کے گناہوں کو چھپائے رکھوں اور اسے چھپانے کے بعد پھر اس کو رسوا کردوں۔ اور میں برابر اپنے بندے کی مغفرت کرتا رہوں گا۔ جب تک مجھ سے استغفار کرتا رہتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں اپنے بندے سے شرم کرتا ہوں کہ جب وہ اپنے ہاتھوں کو میری طرف اٹھائے اور میں اس کو خالی لوٹادوں۔ فرشتوں نے کہا ہمارا الہ اس کے اہل نہیں ہے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں شرم کرتا ہوں اپنے بندے سے اور اپنی باندی سے حیاء کرتا ہوں جب وہ اسلام میں بوڑھے ہوجائیں پھر اس کے بعد ان کو جہنم میں عذاب دوں (ذخیرہ الحفاظ 1038 سلسلۃ الضعیفہ 4036)