تفسیر درِ منثور

Dure-Mansoor · 74. Al-Muddaththir · Ayah 8

  1. فَاِذَا نُقِرَ فِی النَّاقُوْرِۙ﴿8﴾

    1. فَاِذَاپھر جب
    2. نُقِرَپھونکاجائے گا
    3. فِي النَّاقُوْرِصور میں
Translation · Dure-Mansoor
پھر جب صور پھونکا جائے گا
Tafseer · Dure-Mansoor
30۔ ابن جریر وابن المنذر وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے بارے میں نقل کیا ہے آیت فاذا نقر فی الناقور جب صور میں پھونکا جائے گا۔ یعنی صور میں یوم عسیر وہ دن سخت ہوگا۔ یعنی انتہائی شدید اور سخت دن۔ 31۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت فاذا نقر فی الناقور یعنی جب صور میں پھونکا جائے گا۔ 32۔ عبد بن حمید نے عکرمہ، ابو مالک اور عامر رحمہم اللہ سے اسی طرح روایت کیا۔ 33۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت الناقور سے مراد ہے صور اور وہ بگل کی طرح ایک چیز ہے۔ 34۔ ابن ابی شیبہ والطبرانی وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہ آیت فاذا نقر فی الن اور نازل ہوئی۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے کیسا انعام فرمایا ہے حالانکہ صور پھونکنے والا فرشتہ سینگ کو منہ میں ڈالے پیشانی جھکائے یہ سننے کے لیے منتظر ہے کہ اسے کب حکم دیا جاتا ہے۔ صحابہ ؓ نے عرض کیا یارسول اللہ ہم کیسے کہیں اس بارے میں فرمایا تم کہو آیت وقالوا حسبنا اللہ ونعم الوکیل علی اللہ توکلنا ہم کو اللہ کافی ہے اور بہترین کارساز ہے ہم نے اللہ پر بھروسہ کیا۔ 35۔ ابن سعد والحام نے بہز بن حکیم ؓ سے روایت کیا کہ ہم کو زرارہ بن اوفی ؓ نے امامت کرائی اور سورة مدثر پڑھی۔ جب اس آیت فاذا نقر فی الناقور پر پہنچے۔ تو مردہ ہو کر گرپڑے۔ اور میں نے ان کے اٹھانے والوں میں سے تھا۔