تفسیر درِ منثور

Dure-Mansoor · 75. Al-Qiyaama · Ayah 22

  1. وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍ نَّاضِرَةٌۙ﴿22﴾

    1. وُجُوْهٌبہت سے چہرے
    2. يَّوْمَئِذٍاس دن
    3. نَّاضِرَةٌتازہ (بارونق)
Translation · Dure-Mansoor
اس دن بہت سے چہرے تروتازہ ہوں گے
Tafseer · Dure-Mansoor
5۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وجوہ یومئذ ناضرۃ۔ کئی چہرے اس دن تروتازہ ہوں گے۔ مومنین کے چہرے قیامت کے روز خوبصورت ہوں گے 6۔ ابن المنذر والاجری فی الشریعۃ واللالکائی فی النسۃ اور بیہقی نے الرویہ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وجوہ یومئذ ناضرہ یعنی اس دن کئی چہرے انتہائی حسین ہوں گے آیت الی ربہا ناظرۃ اپنے رب کی طرف دیکھتے ہوں گے۔ 7۔ ابن المنذر ولآجری نے محمد بن کعب قرظی (رح) سے آیت وجوہ یومئذ ناضرہ کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ ان چہروں کو تروتازہ بنادیں گے اور ان کی طرف دیکھنے کے لیے خوبصورت بنادیں گے۔ 8۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم واللالکائی نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت وجوہ یومئذ ناضرۃ سے مراد ہے کہ اس دن کچھ چہرے انتہائی خوش ہوں گے۔ 9۔ عبد بن حمید وابن المنذر ابو صالح (رح) سے روایت کیا کہ آیت وجوہ یومئذ ناضرۃ یعنی اس دن کچھ چہرے پر رونق ہوں گے اپنے اندر پائی جانے والی نعمت کی وجہ۔ 10۔ ابن المنذر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت وجوہ یومئذ ناضرۃ سے مراد ہے سفید اور صاف ہونا آیت الی ربہا ناظرۃ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے چہرہ قدرت کی طرف دیکھتے ہوں گے۔ 11۔ ابن المنذر والآجری واللالکائی اور بیہقی نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وجوہ یومئذ ناضرۃ یعنی چہرے تروتازہ ہوں گے نعمت کی وجہ سے آیت الی ربہا ناظرہ یعنی وہ اللہ کی طرف پوری توجہ کے ساتھی دیکھ رہے ہوں گے۔ 12۔ الدارقطنی والآجری واللالکائی والبیہقی نے حسن (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ ناظرہ سے مراد حسن ہے یعنی وہ چہرے جو اپنے رب کی طرف دیکھیں گے تو وہ تروتازہ ہوجائیں گے۔ اس کے نور کی وجہ سے۔ 13۔ ابن جریر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت وجوہ یومئذ ناضرۃ یعنی اس دن کچھ چہرے بہت خوبصورت ہوں گے۔ آیت الی ربہا ناظرۃ یعنی خالق کی طرف دیکھتے ہوں گے۔ 14۔ عبد بن حمید نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وجوہ یومئذ ناضرہ یعنی اس دن کچھ چہرے بہت خوش ہوں گے آیت الی ربہا ناظرۃ یعنی تو اس نور کی طرف دیکھ جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کی آنکھوں میں عطا فرمایا اگر جنات، انسان، چوپائے اور ہر وہ چیز جس کو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا اس ساری مخلوق میں یہ نور رکھ دیا جائے۔ اور وہ ان کی آنکھوں کا نور اپنے بندوں میں سے کسی بندے کو دونوں آنکھوں میں رکھ دے پھر سورج سے ایک پردہ اٹھادیا جائے حالانکہ اس کے ستر پردے ہیں۔ تو وہ انسان اس پر قادر نہ ہوگا کہ وہ سورج کی طرف دیکھے اور سورج ایک جز ہے کرسی کے نور کے ستر اجزاء میں سے۔ اور کرسی ایک جز ہے عرشہ کے نور کے ستر اجزاء میں سے اور عرش ایک جز ہے نور کے ستر اجزاء میں سے۔ عکرمہ ؓ نے فرمایا دیکھو کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی آنکھ میں کتنا نور عطا فرمایا ہے کہ جس سے وہ رب کریم کے چہرہ قدرت کا کھلم کھلا دیدار کرے گا۔ 15۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے آیت وجوہ یومئذ ناضرۃ الی ربہا ناظرۃ کے بارے میں روایت کیا کہ تو اپنے رب کے چہرہ قدرت کی طرف دیکھے گا۔ قیامت کے روز رب تعالیٰ کا دیدار ہوگا 16۔ ابن مردویہ نے انس بن مالک ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت وجوہ یومئذ ناضرۃ الی ربہا ناظرۃ کے بارے میں فرمایا کہ وہ اپنے رب کی طرف دیکھیں گے بلاکیف بلاحد محدود اور بغیر کسی معلوم صفت کے۔ 17۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید والترمذی وابن جریر وابن المنذر والآجری فی الشریعۃ والدارقطنی فی الرویۃ والحاکم وابن مردویہ واللالکائی فی السنۃ اور بیہقی نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اہل جنت میں سے ادنیٰ جنتی درجہ کے لحاظ سے ایسا ہوگا جو اپنے باغات کو اپنی بیویوں کو، اپنی نعمتوں کو، اپنے خادموں کو اور اپنے پلنگوں کو ایک ہزار سال کے فاصلے سے دیکھے گا اور ان میں سب سے زیادہ مکرم اور مقرب اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ ہوگا جو صبح وشام اس کے چہرہ مبارک کی طرف دیکھے گا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت پڑھی آیت وجوہ یومئذناضرۃ۔ یعنی وہ سفید اور صاف شفاف ہوں گے آیت الی ربہا ناظرۃ یعنی ہر دن اللہ تعالیٰ کے چہرہ قدرت کو دیکھیں گے۔