تفسیر درِ منثور
Dure-Mansoor · 76. Al-Insaan · Ayah 21
Tafseerعٰلِیَهُمْ ثِیَابُ سُنْدُسٍ خُضْرٌ وَّ اِسْتَبْرَقٌ١٘ وَّ حُلُّوْۤا اَسَاوِرَ مِنْ فِضَّةٍ١ۚ وَ سَقٰىهُمْ رَبُّهُمْ شَرَابًا طَهُوْرًا﴿21﴾
- عٰلِيَهُمْ ثِيَابُانکے اوپر کی پوشاک
- سُنْدُسٍباریک ریشم
- خُضْرٌسبز
- وَّاِسْتَبْرَقٌ ۡاور دبیز ریشم (اطلس)
- وَّحُلُّوْٓااور انہیں پہنائے جائیں گے
- اَسَاوِرَکنگن
- مِنْ فِضَّةٍ ۚچاندی کے
- وَسَقٰىهُمْاور انہیں پلائے گا
- رَبُّهُمْان کا رب
- شَرَابًاایک شراب (مشروب)
- طَهُوْرًانہایت پاک
Translation · Dure-Mansoor
ان پر باریک ریشم کے سبز کپڑے ہوں گے اور دبیز ریشم کے بھی اور ان کو چاندی کے کنگن پہنائی جائیں گے اور ان کا رب انہیں شراب طہور پلائے گا
Tafseer · Dure-Mansoor
61۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے ابو الجوزاء (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس کو یوں پڑھتے تھے۔ آیت علیہم ثیاب سندس خضر ان پر سبز ریشم کے کپڑے ہوں گے۔ پھر فرمایا کہ سبز ہونے کی وجہ یہ ہوگی کہ اس کے رہنے والوں کے اکثر کپڑے سبز ہوں گے۔
62۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت شرابا طہورا پاکیزہ شراب ان پینے کی چیزوں میں سے ہے جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔
63۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت شرابا طہورا ان اشربہ میں ہے جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔
اہل جنت کا کھانا پینا
64۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن المنذر نے ابوقلابہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وسقہم ربہم شرابا طہورا۔ اور ان کا رب ان کو پاکیزہ شراب پلائے۔ یعنی جب اہل جنت کھانے میں سے اور پینے میں سے کھایا پی چکے ہوں گے جو اللہ تعالیٰ چاہیں گے تو ان کو پاکیزہ شراب کی طرف بلایا جائے گا اور اس کو پئیں گے تو وہ ان کو پاک کردے گی۔ اور جو کچھ انہوں نے کھایا اور پیا تھا وہ مشک کی خوشبو کی ہوا کے ساتھ ان کے چمڑوں سے بہہ جائے گا اور اس کے سبب ان کے پیٹ چھوٹے اور بدلے ہوجائیں گے۔
65۔ ہناد وعبد بن حمید وابن المنذر نے ابراہیم تیمی (رح) سے اس آیت وسقہم ربہم شرابا طہور ا کے بارے میں روایت کیا کہ ان کے اعضاء سے مشک کی خوشبو کی طرح ایک پسینہ بہے گا اور سارا کھانا پینا ہضم ہوجائے گا۔