Ahsan-ut-Tafaseer - Al-Baqara : 215
وَ اِنْ تُكَذِّبُوْا فَقَدْ كَذَّبَ اُمَمٌ مِّنْ قَبْلِكُمْ١ؕ وَ مَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ
وَاِنْ : اور اگر تُكَذِّبُوْا : تم جھٹلاؤگے فَقَدْ كَذَّبَ : تو جھٹلا چکی ہیں اُمَمٌ : بہت سی امتیں مِّنْ قَبْلِكُمْ : تم سے پہلی وَمَا : اور نہیں عَلَي : پر (ذمے) الرَّسُوْلِ : رسول اِلَّا : مگر الْبَلٰغُ : پہنچا دینا الْمُبِيْنُ : صاف طور پر
(اے محمد ﷺ لوگ تم سے پوچھتے ہیں کہ (خدا کی راہ میں) کس طرح کا مال خرچ کریں۔ کہہ دو کہ (جو چاہو خرچ کرو لیکن) جو مال خرچ کرنا چاہو وہ (درجہ بدرجہ اہل استحقاق یعنی) ماں باپ کو اور قریب کے رشتہ داروں کو اور یتیموں کو اور محتاجوں کو اور مسافروں کو (سب کو دو ) اور جو بھلائی تم کرو گے خدا اس کو جانتا ہے
ابن جریر 1۔ نے اپنی تفسیر میں ابن جریج سے روایت کی ہے کہ بعض صحابہ نے آنحضرت ﷺ سے نفل صدقہ کے خرچ کا محل اور موقع دریافت کیا تھا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ اس صورت میں جب کہ نزول اس آیت کا خود نفلی صدقہ کے حکم میں ہے تو زکوٰۃ کی آیت سے اس آیت کو منسوخ ٹھہرانے کی ضرورت نہیں زکوٰۃ کا حکم اور زکوٰۃ کے خرچ کا محل موقع جدا ہے اور اس آیت میں نفلی صدقہ کا حکم اور اس کے خرچ کے محل کا موقع بیان ہوا ہے جو زکوٰۃ سے بالکل جدا ہے خرچ کے محل و موقعوں میں سے ایک موقع جہاد کا بھی ہے کس لئے کہ جہاد میں ہتھیار سواری وغیرہ ضروریات کے لئے خرچ درکار ہوتا ہے اس لئے اسی ذیل میں اللہ تعالیٰ نے جہاد کا بھی ذکر فرمادیا۔ ہے جمہور علماء کے نزدیک جہاد فرض کفایہ ہے۔
Top