Aasan Quran - An-Nisaa : 93
وَ مَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُهٗ جَهَنَّمُ خٰلِدًا فِیْهَا وَ غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِ وَ لَعَنَهٗ وَ اَعَدَّ لَهٗ عَذَابًا عَظِیْمًا
وَمَنْ : اور جو کوئی يَّقْتُلْ : قتل کردے مُؤْمِنًا : کسی مسلمان کو مُّتَعَمِّدًا : دانستہ (قصداً ) فَجَزَآؤُهٗ : تو اس کی سزا جَهَنَّمُ : جہنم خٰلِدًا : ہمیشہ رہے گا فِيْھَا : اس میں وَغَضِبَ اللّٰهُ : اور اللہ کا غضب عَلَيْهِ : اس پر وَلَعَنَهٗ : اور اس کی لعنت وَاَعَدَّ لَهٗ : اور اس کے لیے تیار کر رکھا ہے عَذَابًا : عذاب عَظِيْمًا : بڑا
کسی مسلمان کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ کسی دسرے مسلمان کو قتل کرے، الا یہ کہ غلطی سے ایسا ہوجائے۔ (56) اور جو شخص کسی مسلمان کو غلطی سے قتل کر بیٹھے تو اس پر فرض ہے کہ وہ ایک مسلمان غلام آزاد کرے اور دیت (یعنی خون بہا) مقتول کے وارثوں کو پہنچائے، الا یہ کہ وہ معاف کردیں۔ اور اگر مقتول کسی ایسی قوم سے تعلق رکھتا ہو جو تمہاری دشمن ہے، مگر وہ خود مسلمان ہو تو بس ایک مسلمان غلام کو آزاد کرنا فرض ہے، (خون بہا دینا واجب نہیں) (57)۔ اور اگر مقتول ان لوگوں میں سے ہو جو (مسلمان نہیں، مگر) ان کے اور تمہارے درمیان کوئی معاہدہ ہے تو بھی یہ فرض ہے کہ خوں بہا اس کے وارثوں تک پہنچایا جائے، اور ایک مسلمان غلام کو آزاد کیا جائے۔ (58) ہاں اگر کسی کے پاس غلام نہ ہو تو اس پر فرض ہے کہ دو مہینے تک مسلسل روزے رکھے۔ یہ توبہ کا طریقہ ہے جو اللہ نے مقرر کیا ہے، اور اللہ علیم و حکیم ہے۔
56: غلطی سے قتل ہونے کا مطلب یہ ہے کہ کسی انسان کو قتل کرنا مقصود نہیں تھا ؛ بلکہ یا تو بےخیالی میں گولی چل گئی یا مارنا تو کسی جانور کو تھا مگر نشانہ خطا ہونے کی وجہ سے کوئی انسان مرگیا، اس کو اصطلاح میں قتل خطا کہتے ہیں، اس کا حکم آیت نے بتایا ہے کہ ایک توقاتل پر کفارہ واجب ہوتا ہے اور ایک دیت، کفارہ یہ ہے کہ ایک مسلمان غلام آزاد کیا جائے اور اگر غلام میسر نہ ہو تو دو ماہ کے مسلسل روزے رکھے جائیں، اور دیت کی مقدار احادیث میں سو اونٹ یا دس ہزار دینار مقرر کی گئی ہے۔ 57: اس سے مراد وہ مسلمان ہے جو دارالحرب میں رہتا ہو، اگر اسے غلطی سے قتل کردیا جائے تو صرف کفارہ واجب ہے، دیت واجب نہیں ہے۔ 58: مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی ایسا غیر مسلم غلطی سے قتل ہوجائے جو مسلم ریاست کا شہری بن کر امن سے رہتا ہے (جسے اصطلاح میں ذمی کہتے ہیں) تو اس میں بھی دیت اور کفارہ اسی طرح واجب ہیں جیسے کسی مسلمان کو قتل کرنے پر واجب ہوتے ہیں۔
Top