Fahm-ul-Quran - Al-Maaida : 54
فَاِنْ زَلَلْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْكُمُ الْبَیِّنٰتُ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ
فَاِنْ : پھر اگر زَلَلْتُمْ : تم ڈگمگا گئے مِّنْۢ بَعْدِ : اس کے بعد مَا : جو جَآءَتْكُمُ : تمہارے پاس آئے الْبَيِّنٰتُ : واضح احکام فَاعْلَمُوْٓا : تو جان لو اَنَّ : کہ اللّٰهَ : اللہ عَزِيْزٌ : غالب حَكِيْمٌ : حکمت والا
اور کہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ہم کو ہمارا حصہ حساب کے دن سے پہلے ہی دیدے
استہزائے کفار : 16: وَقَالُوْا رَبَّنَا عَجِّلْ لَّنَا قِطَّنَا (اور یہ لوگ کہتے ہیں اے ہمارے رب ہمارا حصہ ہم کو پہلے دے دے) جنت والا حصہ۔ کیوں کہ رسول (علیہ السلام) نے مؤمنین کے ساتھ وعدئہ جنت کو ذکر کیا تو کفار بطور استہزاء کہنے لگے۔ ہمیں تو ہمارا حصہ اس میں سے جلدی دے دو یا بقول تمہارے اگر ہم عذاب کے حقدار ہیں تو عذاب والا حصہ جلدی ملا دو ۔ جیسا دوسرے موقعہ پر فرمایا ویستعجلونک بالعذاب ] الحج : 47[ القطؔ کسی چیز کا حصہ۔ کیونکہ وہ اسی کا ٹکڑا ہوتا ہے۔ یہ قطہؔ سے ہے جبکہ اس کو کاٹا جائے۔ اس لئے انعامی دستاویز کو قطؔ کہتے ہیں۔ کیونکہ وہ کاغذ کا ٹکڑا ہوتا ہے۔ قَبْلَ یَوْمِ الْحِسَابِ (قیامت کے دن سے پہلے)
Top