Fi-Zilal-al-Quran - Yaseen : 19
قَالُوْا طَآئِرُكُمْ مَّعَكُمْ١ؕ اَئِنْ ذُكِّرْتُمْ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ
قَالُوْا : انہوں نے کہا طَآئِرُكُمْ : تمہاری نحوست مَّعَكُمْ ۭ : تمہارے ساتھ اَئِنْ : کیا ذُكِّرْتُمْ ۭ : تم سمجھائے گئے بَلْ : بلکہ اَنْتُمْ : تم قَوْمٌ : لوگ مُّسْرِفُوْنَ : حد سے بڑھنے والے
رسولوں نے کہا تمہاری فال بد تمہارے اپنے ساتھ لگی ہوئی ہے “ کیا یہ باتیں تم اس لیے کرتے ہو کہ تمہیں نصیحت کی گئی ؟ “ ” اصل بات یہ ہے کہ تم حد سے گزرے ہوئے لوگ ہو
قالوا طآئرکم معکم (36: 19) ” ۔ اس لیے کہ نیک فالی یا بدفالی دونوں جاہلیت کے خرافات میں ہیں۔ اور رسولوں کے مشن میں یہ بھی داخل ہے کہ اس وہم کو بھی دور کیا جائے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ کسی انسان کو شیر و شر باہر سے نہیں ملتا بلکہ خیر اور شر دراصل خود اس کے نفس کے اندر سے پیدا ہوتا ہے۔ خیر اور شر تو تمہارے ساتھ لگا ہوا ہے۔ تمہاری نیتوں اور تمہارے اعمال سے آنے والے خیر و شر کا گہرا ربط ہے اور خیر و شر کا مدار تمہارے اعمال پر ہے۔ یہ تمہارے اختیار میں ہے کہ تم آنے والے واقعات کو اپنے لیے بہتر بناؤ اور نیک انجام پاؤ یا اسے خود اپنے لیے شربنا دو کیونکہ اللہ لوگوں کے بارے میں وہی فیصلے کرتا ہے جن کے لیے ان کے نفوس میں میلان ہو اور اپنے عمل کی وجہ سے اس طرف انسانوں کا رجحان ہو۔ لہٰذا تمہارا شگون اور بدشگونی تمہارے ساتھ اور تمہارے نفوس کے اندر ہے۔ یہ ہے ایک قائم اور دائم حقیقت۔ رہی یہ بات کہ کسی کا منہ دیکھ کر فال بدلینا ، یا کسی جگہ سے بدشگونی یا الفاظ سے بدشگونی لینا یہ خرافات جاہلیت میں سے ایک موہوم بات ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں۔ اس لیے رسولوں نے کہا ائن ذکرتم (36: 19) ” یعنی تم ہمیں رجم کرنے کی دھمکی اسلئے دیتے ہو یا نہیں سخت سزا اسلئے دیتے ہو کہ ہم تمہیں نصیحت کر رہے ہیں اور راہ بد سے بجا رہے ہیں۔ بل انتم قوم مسرفون (36: 19) “۔ یعنی اپنی سوچ اور واقعات کو وزن کرنے میں تم حدود سے نکل چکے ہو۔ ، تم نصیحت کا بدلہ دھمکی سے دیتے ہو ، اور تشدد پر اتر آئے ہو۔ اور دعوت اسلامی کے جواب میں تشدد اور قتل کی بات کرتے ہو۔ جن لوگوں کے دلوں پر پردے پڑگئے تھے۔ ان کی جانب سے رسولوں کی دعوت کا جواب یہ دیا گیا اور یہ ہے مثال اس سرکش لوگوں کی جو ہمیشہ دعوت اسلامی کی راہ روک کر کھڑے ہوجاتے ہیں اور تشدد پر اتر آتے ہیں۔ جب بھی دعوت اسلامی کا آغاز ہوگا اس قسم کے لوگ متحرک ہوجائیں گے ۔ یہ ہے راہ و رسم دعوت اللہ کے کام کی۔ اس کے بالمقابل انسانوں میں سے ایک دوسرا نمونہ بھی ہوتا ہے جو نصیحت قبول کرکے اس کی اطاعت کرتا ہے۔ رحمن سے بن دیکھے ڈرتا ہے۔ اس لیے اس دوسرے نمونے کا رویہ بالکل پہلے رویے سے مختلف ہوتا ہے۔ اور اس کا ردعمل پہلے والے لوگوں کے ردعمل سے بالکل جدا ہوتا ہے۔
Top