Tafseer-e-Haqqani - Saad : 86
قُلْ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِیْنَ
قُلْ : فرما دیں مَآ : نہیں اَسْئَلُكُمْ : میں مانگتا تم سے عَلَيْهِ : اس پر مِنْ اَجْرٍ : کوئی اجر وَّمَآ اَنَا : اور نہیں میں مِنَ : سے الْمُتَكَلِّفِيْنَ : بناوٹ کرنے والے
اور (اے رسول ! ) کہہ دو میں اس پر تم سے کچھ مزدوری تو نہیں مانگتا اور نہ میں جھوٹ بات بنانے والا ہوں۔
اس تذکرے کے بعد آنحضرت ﷺ کو ارشاد فرماتا ہے کہ قل ما اسئلکم علیہ من اجر کہ کہہ دو کار بار نبوت پر میں تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا ہوں، یعنی اس میں میری کوئی ذاتی غرض نہیں، پھر تم کو کیوں بدگمانی ہے۔ وما انا من المتکلفین اور نہ میں تصنع اور بناوٹ کرنے والا ہوں کہ تم کو جھوٹ کا شبہ ہو۔ ہر بات میں بناوٹ اور تکلف و تصنع ممنوع ہے۔ ان ھو الا ذکر للعالمین یہ قرآن صرف جہان کے سمجھانے اور بھلائی کے لیے ولتعلمن نباہ بعد حین اور اس کی صداقت تم کو موت کے بعد معلوم ہوجاوے گی۔
Top