Tafseer-Ibne-Abbas - Al-Baqara : 100
وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ لَمَسَّكُمْ فِیْ مَاۤ اَفَضْتُمْ فِیْهِ عَذَابٌ عَظِیْمٌۚۖ
وَلَوْلَا : اور اگر نہ فَضْلُ اللّٰهِ : اللہ کا فضل عَلَيْكُمْ : تم پر وَرَحْمَتُهٗ : اور اس کی رحمت فِي الدُّنْيَا : دنیا میں وَالْاٰخِرَةِ : اور آخرت لَمَسَّكُمْ : ضرور تم پر پڑتا فِيْ مَآ : اس میں جو اَفَضْتُمْ : تم پڑے فِيْهِ : اس میں عَذَابٌ : عذاب عَظِيْمٌ : بڑا
ان لوگوں نے جب جب (خدا سے) عہد واثق کیا تو ان میں سے ایک فریق نے اسکو (کسی چیز کی طرح) پھینک دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ان میں اکثر بےایمان ہیں
100: اَوَکُلَّمَا : (کیا جب کبھی) اَوَ اس میں وَائو محذوف پر عطف کے لیے آیا ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے۔ أکفروا بالاٰیٰت البینات وکلما۔ کیا انہوں نے واضح آیات کا انکار کیا اور جب بھی۔ عٰھَدُوْاعَھْدًا نَّبَذَہٗ : (وہ کوئی عہد کرتے ہیں توڑ دیا) اس عہد کو نبذ کا معنی اس کو توڑ دیا۔ اور اس کا انکار کردیا۔ فَرِیْقٌ مِّنْھُمْ : (ایک گروہ نے ان میں سے) فرمایا کیونکہ ان میں سے بعض ایسے بھی تھے جنہوں نے نہیں توڑا۔ بَلْ اَکْثَرُھُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ : (بلکہ اکثریت ان کی تو ایمان ہی نہیں رکھتی) یعنی تورات کے ساتھ۔ پس وہ دین میں کسی چیز پر نہیں اس لیے وعدہ توڑنے کو گناہ نہیں سمجھتے۔ اور نہ اس کی پرواہ کرتے ہیں۔
Top