Tafseer-Ibne-Abbas - Saad : 28
اَمْ نَجْعَلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَالْمُفْسِدِیْنَ فِی الْاَرْضِ١٘ اَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِیْنَ كَالْفُجَّارِ
اَمْ : کیا نَجْعَلُ : ہم کردیں گے الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا : جو لوگ ایمان لائے وَعَمِلُوا : اور انہوں نے عمل کیے الصّٰلِحٰتِ : اچھے كَالْمُفْسِدِيْنَ : ان کی طرح جو فساد پھیلاتے ہیں فِي الْاَرْضِ ۡ : زمین میں اَمْ : کیا نَجْعَلُ : ہم کردیں گے الْمُتَّقِيْنَ : پرہیزگاروں كَالْفُجَّارِ : فاجروں (بدکرداروں) کی طرح
جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے کیا ان کو ہم انکی طرح کردیں گے جو ملک میں فساد کرتے ہیں یا پرہیزگاروں کو بدکاروں کی طرح کردیں گے
کیا ہم لوگوں کو جو کہ رسول اکرم اور قرآن کریم پر ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کیے جیسا کہ حضرت علی، حضرت حمزہ، حضرت عبیدہ بن حارث کو ان لوگوں کے برابر کردیں گے جو کہ شرک کرتے پھرتے ہیں جیسا کہ عتبہ شیبہ ولید بن عتنبہ اور کیا ہم کفر و شرک اور برائیوں سے بچنے والوں کو کافروں کی طرح کردیں گے۔ غزوہ بدر میں عتبہ، شیبہ، ولید نے حضرت علی، حضرت حمزہ، حضرت عبیدہ سے مقابلہ کیا نتیجہ یہ ہوا کہ حضرت علی نے ولید بن عتنبہ کو اور حضرت حمزہ نے عتبہ بن ربیعہ کو اور حضرت عبیدہ نے شیبہ کو قتل کردیا۔
Top