Tafseer-Ibne-Abbas - Saad : 3
كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ قَرْنٍ فَنَادَوْا وَّ لَاتَ حِیْنَ مَنَاصٍ
كَمْ : کتنی ہی اَهْلَكْنَا : ہم نے ہلاک کردیں مِنْ قَبْلِهِمْ : ان سے قبل مِّنْ قَرْنٍ : امتیں فَنَادَوْا : تو وہ فریاد کرنے لگے وَّلَاتَ : اور نہ تھا حِيْنَ : وقت مَنَاصٍ : چھٹکارا
ہم نے ان سے پہلے بہت سی امتوں کو ہلاک کردیا تو وہ (عذاب کے وقت) لگے فریاد کرنے اور وہ رہائی کا وقت نہیں تھا
قریش سے پہلے بہت سی امتوں کو ہم ہلاک کرچکے ہیں تو انہوں نے ہلاکت کے وقت فرشتوں کو بہت پکارا مگر اس وقت بھاگنے اور چھٹکارا پانے کا کہاں وقت تھا سو پکڑے گئے پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کردیا۔ اور ان کی یہ عادت تھی کہ جب کسی دشمن سے لڑتے تو مناص مناص کر کے ایک دوسرے کو پکارتے تھے، مقصود یہ ہوتا ایک دم حملہ کریں۔ چناچہ جس کے مقدر میں بچنا ہوتا تھا وہ بچ جاتا تھا اور جس وقت ان پر دشمن غلبہ حاصل کرلیتا تھا تو کچھ لوگ ان میں سے پیش قدمی کر کے پکارتے تھے مناص مناص (زبر کے ساتھ) یعنی بھاگو بھاگو چناچہ سب لڑائی سے بھاگ جاتے تھے تو وہاں بھی انہوں نے فرشتوں کو پکارنا شروع کیا باقی وہاں فرار ہونے اور خلاصی کا کہاں وقت تھا۔
Top