Tafseer-Ibne-Abbas - Saad : 4
وَ عَجِبُوْۤا اَنْ جَآءَهُمْ مُّنْذِرٌ مِّنْهُمْ١٘ وَ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا سٰحِرٌ كَذَّابٌۖۚ
وَعَجِبُوْٓا : اور انہوں نے تعجب کیا اَنْ : کہ جَآءَهُمْ : ان کے پاس آیا مُّنْذِرٌ : ایک ڈرانے والا مِّنْهُمْ ۡ : ان میں سے وَقَالَ : اور کہا الْكٰفِرُوْنَ : (جمع) کافر ھٰذَا سٰحِرٌ : یہ جادوگر كَذَّابٌ : جھوٹا
اور انہوں نے تعجب کیا کہ ان کے پاس انہیں میں سے ہدایت کرنے والا آیا اور کافر کہنے لگے کہ یہ تو جادوگر ہے جھوٹا
اور ان کفار قریش نے اس بات سے تعجب کیا کہ ان کی قوم میں سے ایک پیغمبر ڈرانے والا آگیا اور کفار مکہ یہاں تک کہنے لگے کہ نعوذ باللہ محمد ساحر اور دعوی نبوت میں جھوٹے ہیں۔
Top