Tafseer-Ibne-Abbas - Saad : 44
وَ خُذْ بِیَدِكَ ضِغْثًا فَاضْرِبْ بِّهٖ وَ لَا تَحْنَثْ١ؕ اِنَّا وَجَدْنٰهُ صَابِرًا١ؕ نِعْمَ الْعَبْدُ١ؕ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ
وَخُذْ : اور تو لے بِيَدِكَ : اپنے ہاتھ میں ضِغْثًا : جھاڑو فَاضْرِبْ بِّهٖ : اس سے مار اس کو وَلَا تَحْنَثْ ۭ : اور قسم نہ توڑ اِنَّا : بیشک ہم وَجَدْنٰهُ : ہم نے اسے پایا صَابِرًا ۭ : صابر نِعْمَ الْعَبْدُ ۭ : اچھا بندہ اِنَّهٗٓ : بیشک وہ اَوَّابٌ : (اللہ کی طرف) رجوع کرنے والا
اور اپنے ہاتھ جھاڑو لو اور اس سے مارو اور قسم نہ توڑو بیشک ہم نے ان کو ثابت قدم پایا بہت خوب بندے تھے بیشک وہ رجوع کرنے والے تھے
اور یہ بھی کہا کہ اے ایوب ایک سو سینکوں کی جھاڑو لو اور اپنی بیوی رحمتہ بنت یوسف کو اس سے مارو اور اپنی قسم نہ توڑو کیونکہ ان کی بیوی نے ایک ایسی بات کہی تھی جس کو اللہ تعالیٰ نے پسند نہیں فرمایا تھا اس پر حضرت ایوب نے قسم کھائی تھی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے شفا دے دی تو میں اس کو سو کوڑے ماروں گا۔ بیشک ہم نے ان کو تکالیف پر بڑا صابر پایا بہت اچھے بندے تھے اور اللہ کی اطاعت کی طرف بہت رجوع کرتے تھے۔
Top