Tafseer-Ibne-Abbas - Saad : 6
وَ انْطَلَقَ الْمَلَاُ مِنْهُمْ اَنِ امْشُوْا وَ اصْبِرُوْا عَلٰۤى اٰلِهَتِكُمْ١ۖۚ اِنَّ هٰذَا لَشَیْءٌ یُّرَادُۖۚ
وَانْطَلَقَ : اور چل پڑے الْمَلَاُ : سردار مِنْهُمْ : ان کے اَنِ : کہ امْشُوْا : چلو وَاصْبِرُوْا : اور جمے رہو عَلٰٓي اٰلِهَتِكُمْ ښ : اپنے معبودوں پر اِنَّ ھٰذَا : بیشک یہ لَشَيْءٌ : کوئی شے (بات) يُّرَادُ : ارادہ کی ہوئی (مطلب کی)
تو ان میں جو معزز تھے وہ چل کھڑے ہوئے (اور بولے) کہ چلو اپنے معبودوں (کی پوجا) پر قائم رہو بیشک یہ ایسی بات ہے جس سے (تم پر شرف و فضیلت) مقصود ہے
اور ان کفار قریش کے رئیس عتبہ، شیبہ ابی خلف، ابو جہل مجلس سے یہ کہتے ہوئے چلے کہ یہاں سے چلو چلو ابو جہل نے ان سرداروں سے کہا، کہ ہم بات اب کراچکے اپنے معبودوں کے پاس چلو اور ان ہی کی عبادت پر قائم رہو محمد سب کو تباہ کرنا چاہتے ہیں یا یہ کہ یہ تو کوئی مطلب کی بات معلوم ہوتی ہے اس کے ذریعے یہ حکومت کرنا چاہتے ہیں۔
Top