Tafseer-Ibne-Abbas - Saad : 70
اِنْ یُّوْحٰۤى اِلَیَّ اِلَّاۤ اَنَّمَاۤ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ
اِنْ يُّوْحٰٓى : نہیں وحی کی جاتی اِلَيَّ : میری طرف اِلَّآ : سوائے اَنَّمَآ : یہ کہ اَنَا نَذِيْرٌ : میں ڈرانے والا مُّبِيْنٌ : صاف صاف
میری طرف تو یہی وحی جاتی ہے کہ میں کھلم کھلا ہدایت کرنے والا ہوں
(70۔ 71) میرے پاس جو وحی آتی ہے وہ اس وجہ سے آتی ہے کہ میں صاف عربی زبان میں ڈرانے والا پیغمبر ہوں اب اللہ تعالیٰ فرشتوں کی اس گفتگو کا ذکر کرتے ہیں اور آپ کو حکم دیتے ہیں کہ اسے آپ ان لوگوں کے سامنے بیان کریں جبکہ آپ کے پروردگار نے فرمایا کہ میں آدم کو پیدا کرنے والا ہوں۔
Top