تفسیر ابن عباس
Tafseer-Ibne-Abbas · 4. An-Nisaa · Ayah 39
وَ مَا ذَا عَلَیْهِمْ لَوْ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقَهُمُ اللّٰهُ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِهِمْ عَلِیْمًا﴿39﴾
- وَمَاذَااور کیا
- عَلَيْهِمْان پر
- لَوْ اٰمَنُوْااگر وہ ایمان لاتے
- بِاللّٰهِاللہ پر
- وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِیوم آخرت پر
- وَاَنْفَقُوْااور وہ خرچ کرتے
- مِمَّااس سے جو
- رَزَقَھُمُانہیں دیا
- اللّٰهُاللہ
- وَكَانَاور ہے
- اللّٰهُاللہ
- بِهِمْان کو
- عَلِيْمًاخوب جاننے والا
Translation · Tafseer-Ibne-Abbas
اور اگر یہ لوگ خدا پر اور روز قیامت پر ایمان لاتے اور جو کچھ خدا نے ان کو دیا تھا اس میں سے خرچ کرتے تو ان کا کیا نقصان ہوتا اور خدا ان کو خوب جانتا ہے
Tafseer · Tafseer-Ibne-Abbas
(39) ان یہود پر حالانکہ ان کا کوئی نقصان نہیں، رسول اللہ ﷺ قرآن کریم بعث بعدالموت اور جنت کی نعمتوں پر اگر یہ ایمان لے آئیں اور جو مال اللہ تعالیٰ نے ان کو دیا ہے وہ اللہ کی راہ میں خرچ کردیں تو ان کے لیے بہتر ہے لیکن اللہ تعالیٰ یہودیوں کو اچھی طرح جانتا ہے کہ انمیں سے کون ایمان لائے گا اور کون نہیں۔