Asrar-ut-Tanzil - An-Nisaa : 157
یَسْئَلُوْنَكَ مَا ذَا یُنْفِقُوْنَ١ؕ۬ قُلْ مَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ خَیْرٍ فَلِلْوَالِدَیْنِ وَ الْاَقْرَبِیْنَ وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ؕ وَ مَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِیْمٌ
يَسْئَلُوْنَكَ : وہ آپ سے پوچھتے ہیں مَاذَا : کیا کچھ يُنْفِقُوْنَ : خرچ کریں قُلْ : آپ کہ دیں مَآ : جو اَنْفَقْتُمْ : تم خرچ کرو مِّنْ : سے خَيْرٍ : مال فَلِلْوَالِدَيْنِ : سو ماں باپ کے لیے وَالْاَقْرَبِيْنَ : اور قرابتدار (جمع) وَالْيَتٰمٰى : اور یتیم (جمع) وَالْمَسٰكِيْنِ : اور محتاج (جمع) وَابْنِ السَّبِيْلِ : اور مسافر وَمَا : اور جو تَفْعَلُوْا : تم کرو گے مِنْ خَيْرٍ : کوئی نیکی فَاِنَّ : تو بیشک اللّٰهَ : اللہ بِهٖ : اسے عَلِيْمٌ : جاننے والا
اور ان کے یہ کہنے کی وجہ سے کہ ہم نے مسیح عیسیٰ (علیہ السلام) مریم (علیہا السلام) کے بیٹے کو جو اللہ کے پیغمبر تھے قتل کردیا اور حالانکہ نہ انہوں نے ان کو قتل کیا اور نہ ان کو صلیب پر چڑھایا بلکہ انہیں شبہ ڈالا گیا اور یقینا جن لوگوں نے اس میں اختلاف کیا وہ ان کے بارے شک میں پڑے ہوئی ہیں سوائے گمان پر چلنے کے ان کے پاس اس کا علم نہیں اور انہوں نے ان کو یقینا قتل نہیں کیا تھا
Top