Tafseer-e-Jalalain - Al-Baqara : 158
اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْتُمُوْنَ مَاۤ اَنْزَلْنَا مِنَ الْبَیِّنٰتِ وَ الْهُدٰى مِنْۢ بَعْدِ مَا بَیَّنّٰهُ لِلنَّاسِ فِی الْكِتٰبِ١ۙ اُولٰٓئِكَ یَلْعَنُهُمُ اللّٰهُ وَ یَلْعَنُهُمُ اللّٰعِنُوْنَۙ
اِنَّ : بیشک الَّذِيْنَ : جو لوگ يَكْتُمُوْنَ : چھپاتے ہیں مَآ : جو اَنْزَلْنَا : ہم نے نازل کیا مِنَ : سے الْبَيِّنٰتِ : کھلی نشانیاں وَالْهُدٰى : اور ہدایت مِنْۢ بَعْدِ : اس کے بعد مَا بَيَّنّٰهُ : ہم نے واضح کردا لِلنَّاسِ : لوگوں کے لیے فِي الْكِتٰبِ : کتاب میں واُولٰٓئِكَ : اور یہی لوگ يَلْعَنُهُمُ : لعنت کرتا ہے ان پر اللّٰهُ : اللہ وَيَلْعَنُهُمُ : اور لعنت کرتے ہیں ان پر اللّٰعِنُوْنَ : لعنت کرنے والے
بیشک (کوہ) صفا اور مروہ خدا کی نشانیوں میں سے ہیں تو جو شخص خانہ کعبہ کا حج یا عمرہ کرے اس پر کچھ گناہ نہیں کہ دونوں کا طواف کرے (بلکہ طواف ایک قسم کا نیک کام ہے) اور جو کوئی نیک کام کرے تو خدا قدر شناس اور دانا ہے
اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَآئِرِ اللہِ صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنا، حض کا ایک رکن ہے لیکن قرآن کے الفاظ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْہِ اَنْ یَّطَّوَّفَ بِھِمَا سے بعض صحابہ ؓ کو یہ شبہ ہوا کہ شاید یہ ضروری نہیں ہے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کے علم میں جب یہ بات آئی تو انہوں نے فرمایا : اگر اس کا یہ مطلب ہوتا تو پھر اللہ تعالیٰ یوں فرماتا : فَلَا جُنَاحَ عَلَیْہِ ان لایطَّوَّف بھمَا اگر ان کا طواف نہ کرے تو کوئی گناہ نہیں، پھر حضرت عائشہ ؓ نے اس آیت کا شان نزول بیان فرمایا کہ انصار قبول اسلام سے پہلے مناۃ طاغیہ (بت) کے نام کا تلبیہ پکارتے تھے جس کی وہ مشلل پہاڑی کے اوپر عبادت کرتے تھے، اور پھر مکہ پہنچ کر ایسے لوگ صفا ومروہ کے درمیان سعی کو گناہ سمجھتے تھے، مسلمان ہونے کے بعد انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے معلوم کیا تو یہ آیت نازل ہوئی، جس میں کہا گیا ہے کہ صفا ومروہ کے درمیان سعی گناہ نہیں۔ (صحیح بخاری، کتاب الحج) ۔ بعض حضرات نے اس کا پس منظر اس طرح بیان کیا ہے کہ جاہلیت میں مشرکوں نے صفا پہاڑی پر ایک بت جس کا نام اساف اور مروہ پر ایک دوسرا بت جس کا نام نائلہ تھا، رکھ لئے تھے، جنہیں وہ سعی کے دوران چھوتے اور بوسہ دیتے تھے جب یہ لوگ مسلمان ہوئے تو ان کے ذہن میں آیا کہ صفا اور مروہ کے درمیان سعی تو شاید گناہ ہو کیونکہ اسلام سے قبل دو بتوں کی وجہ سے سعی کرتے تھے، اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ان کے اس وہم اور خلش کو دور فرما دیا، اب یہ سعی ضروری ہے جس کا آغاز صفا سے اور خاتمہ مروہ پر ہوتا ہے۔ (ایسر التفاسیر) ایک فقہی مسئلہ : سعی بین الصفا والمروہ امام احمد بن حنبل (رح) تعالیٰ کے نزدیک سنت، مستحب ہے اور امام مالک اور شافعی رحمہما اللہ تعالیٰ کے نزدیک فرض ہے اور امام ابوحنیفہ (رح) تعالیٰ کے نزدیک واجب اس کی ترک سے ایک بکری ذبح کرنا لازم ہے۔
Top