Tafseer-e-Jalalain - Saad : 41
وَ اذْكُرْ عَبْدَنَاۤ اَیُّوْبَ١ۘ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَسَّنِیَ الشَّیْطٰنُ بِنُصْبٍ وَّ عَذَابٍؕ
وَاذْكُرْ : اور آپ یاد کریں عَبْدَنَآ : ہمارا بندہ اَيُّوْبَ ۘ : ایوب اِذْ نَادٰى : جب اس نے پکارا رَبَّهٗٓ : اپنا رب اَنِّىْ : بیشک میں مَسَّنِيَ : مجھے پہنچایا الشَّيْطٰنُ : شیطان بِنُصْبٍ : ایذا وَّعَذَابٍ : اور دکھ
اور ہمارے بندے ایوب کو یاد کرو جب انہوں نے اپنے رب کو پکارا کہ (بار الہا) شیطان نے مجھ کو ایذا اور تکلیف دے رکھی ہے
آیت نمبر 41 تا 64 ترجمہ : اور ہمارے بندے ایوب کا (بھی) ذکر کیجئے، جب اس نے اپنے رب کو پکارا کہ شیطان نے مجھے رنج اور دکھ دیا ہے اَنِّی اصل میں بأنّی تھا، دکھ اور رنج دینے کی نسبت شیطان کی طرف کی گئی ہے، اگرچہ ہر شئ اللہ کی طرف سے ہوتی ہے، یہ اللہ کے ادب کی وجہ سے ہے، پس اس سے کہا گیا اپنا پیر زمین پر مارو چناچہ پیر مارا تو پانی کا چشمہ ابل پڑا، پس کہا گیا یہ غسل کرنے کا اور پینے کا ٹھنڈا پانی ہے چناچہ ایوب (علیہ السلام) نے اس سے غسل کیا اور پیا، تو اس سے ان کی ظاہری اور باطنی ہر قسم کی بیماری ختم ہوگئی، اور ہم نے اسے اس کے اہل عطا کر دئیے بلکہ اس کے ساتھ اتنا اور بھی خاص اپنی رحمت سے (دیا) یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کی مردہ اولاد کو زندہ کردیا اور اتنے ہی ان کو اور عطا فرمائے، اور عقلمندوں کی نصیحت کے لئے اور اپنے ہاتھوں میں گھاس یا تنکوں کا ایک مٹھا لے کر اپنی بیوی کو مار دے، ایک روز اس کے دیر سے آنے کی وجہ سے قسم کھالی تھی کہ میں اس کو سو کوڑے ضرور لگاؤں گا، اور ضغث، گھاس یا سینکوں کے مٹھے کو کہتے ہیں، اور ترک ضرب کرکے تو حانث نہ ہو، چناچہ حضرت ایوب (علیہ السلام) نے اذخر یا کسی اور چیز کی سو سینکیں لیں اور ان سب کو ملا کر ایک ضرب ماردی سچ تو یہ ہے کہ ہم نے اسے بڑا صابر پایا وہ بڑا نیک اور اللہ کی طرف بہت رجوع کرنے والا بندہ تھا، ہمارے بندوں ابراہیم، اسحٰق، اور یعقوب کا بھی ذکر کیجئے جو عبادت میں بڑے قوی تھے، اور دین میں بصیرت والے تھے اور ایک قراءت میں عبدنا ہے، اور ابراھیم اس کا بیان ہے، اور اس کا مابعد عبدنا پر معطوف ہے اور ہم نے ان کو ایک خاص بات کے ساتھ مخصوص کردیا تھا اور وہ (بات) آخرت کی یاد ہے یعنی اس کو یاد رکھنا اور اس کے لئے عمل کرنا اور ایک قراءت میں اضافت بیانیہ کے ساتھ ہے اور یہ لوگ ہمارے نزدیک برگزیرہ بہتر لوگ تھے (اخیار) خَیّرْ مشدد کی جمع ہے اور اسماعیل والیسعَ وہ نبی ہیں اور لام زائدہ ہے اور ذوالکفل (علیہ الصلوٰۃ والسلام) کا بھی ذکر کیجئے اور ذوالکفل کی نبوت کے بارے میں اختلاف ہے، کہا گیا ہے کہ انہوں نے سو نبیوں کی کفالت کی تھی جو قتل کے خوف سے فرار ہو کر ان کے پاس گئے تھے، اور یہ سب بہتر لوگ تھے اخیار خیر مشدد کی جمع ہے، اور یہاں ان کا یہ ذکر جمیل ہے اور یقین جانو متقیوں کے لئے جو ان میں شامل ہیں آخرت میں اچھا ٹھکانہ ہے یعنی ہمیشگی کی جنتیں ہیں جن کے دروازے ان کیلئے کھلے ہوئے ہیں جنّٰت عدن، حسن مآب سے بدل ہے یا عطف بیان ہے جن میں مسہریوں پر ٹیک لگائے بیٹھے ہوئے با فراغت طرح طرح کے میوے اور قسم قسم کی شرابوں کر رہے ہوں گے، اور ان کے پاس نیچی نظروں والی یعنی اپنی نظروں کو اپنے شوہروں پر محصور رکھنے والی ہم عمر حوریں ہوں گی یعنی (33) سالہ ہوں گی، اترابٌ تربٌ کی جمع ہے یہ مذکور وہی ہے جس کا تم سے یوم حساب کیلئے وعدہ کی جاتا تھا غیبت کے ساتھ اور بطور التفات کے خطاب کے ساتھ بیشک یہ ہمارا عطیہ ہے جس کا کبھی خاتمہ ہی نہیں یعنی انقطاع نہیں اور جملہ رزقنا سے ھال ہے یا انَّ کی خبر ثانی ہے یعنی دائمًا (حال کی صورت میں) دائمٌ (خبر ثانی کی صورت میں) یہ جو مذکور ہوا مومنین کیلئے ہے اور سرکشوں کیلئے برا ٹھکانہ ہے یہ جملہ مستانفہ ہے یہ جہنم ہے جس میں وہ داخل ہوں گے کیا ہی برا بچھونا ہے ؟ یہ عذاب جو مابعد سے مفہوم ہے کھولتا ہوا پانی اور پیپ ہے غساق (سین) کی تخفیف اور تشدید کے ساتھ ہے جو جہنمیوں کے زخموں سے بہے گا، اسے چکھو (اس کے علاوہ) مختلف اصناف ہیں یعنی ان کا عذاب مختلف انواع و اقسام کا ہوگا، اور آخر جمع اور افراد کے ساتھ ہے (یعنی آخر واُخَرُ ) یہ ایک قوم ہے جو سختی کے ساتھ تمہارے ہمراہ دوزخ میں داخل ہو رہی ہے، تو سردار کہیں گے ان کے لئے کوئی خوش آمدید نہیں یعنی ان کے لئے کسی قسم کی سہولت نہیں یہی تو جہنم میں جانے والے ہیں پیروکار جواب دیں گے، بلکہ تم ہی ہو جن کے لئے خوش آمدید نہیں، تم ہی نے تو کفر کو ہمارے سامنے پیش کیا تھا، لہٰذا ہمارے اور تمہارے لئے جہنم برا ٹھکانہ ہے اے ہمارے پروردگار جس نے (کفر کی رسم) ہمارے لئے نکالی ہو اس کے حق میں جہنم کی سزا دوگنی کر دے یعنی ان کے کفر میں عذاب دوگنا کر دے اور کفار مکہ کہیں گے حال یہ کہ وہ جہنم میں ہوں گے کیا بات ہے ہمیں وہ لوگ نطر نہیں آرہے جنہیں ہم دنیا میں برے لوگوں میں شمار کرتے تھے ؟ کیا ہم نے انکا مذاق بنا رکھا تھا ؟ سین کے ضمہ اور کسرہ کے ساتھ یعنی دنیا میں ہم ان کا مذاق اڑاتے تھے اور سُخْریّا میں (ی) نسبتی ہے یعنی آیا وہ غائب ہیں یا ان سے ہماری نگاہیں ہٹ گئی ہیں ؟ جس کی وجہ سے ہم ان کو نہیں دیکھ رہے ہیں اور وہ فقراء مسلمین ہیں جیسا کہ عمار، بلال، وصہیب و سلمان فارسی ؓ بلاشبہ یہ حق ہے اس کا وقوع ضروری ہے یقین جانو دوزخیوں کا یہ جھگڑا ضرور ہوگا جیسا کہ سابق میں گزر چکا ہے۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : بِنُصبٍ ، النُصبُ نون کے ضمہ اور صاد کے سکون کے ساتھ نَصْبٌ نون کے نصب اور صاد کے سکون کے ساتھ نُصبٌ دونوں کے ضمہ کے ساتھ، دکھ، تکلیف، بلاء (لغات القرآن) اُذْکُرْ عبدنا ایوُّب کا عطف قصہ علی القصہ کے طور پر اذکر عبدنا داؤد پر ہے۔ سوال : سلیمان (علیہ السلام) کے واقعہ کو ذکر کرتے وقت اُذکُرْ نہیں کہا گیا اس کی کیا وجہ ہے ؟ جواب : حضرت داؤد اور ان کے صاحبزادے سلیمان کے درمیان چونکہ کمال اتصال ہے گویا کہ دونوں کا ایک ہی قصہ ہے اس لئے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے قصہ کو اذکر سے شروع نہیں کیا۔ قولہ : اذکُرْ عبدناَ ایُّوبَ ، ایوبَ ، عبدناَ سے بدل یا عطف بیان ہے اور اذ نادٰی، ایوب سے بدل الاشتمال ہے۔ قولہ : ووھَبْنَا لَہٗ اھلہٗ واؤ عاطفہ ہے اس کا عطف محذوف پر ہے جس کی طرف مفسر نے فاغتسل مقدر مان کر اشارہ کردیا۔ قولہ : رحمَۃً ، وذِکریٰ دونوں بذریعہ عطف، وھبنَا کے مفعول لاجلہٖ ہیں۔ قولہ : ضغثًا، حُزمۃُ حشیشٍ سوکھی گھاس کا مٹھا حزمۃ مٹھا فارسی میں دستہ کہتے ہیں۔ قولہ : بخالصۃٍ یہ موصوف محذوف کی صفت ہے ای نخصلۃٍ خالصۃٍ ۔ قولہ : ذکری الدَّارِ کو مفسر (رح) نے ھی مبتداء محذوف کی خبر قرار دی ہے اس صورت میں ذکریٰ محلاً مرفوع ہوگا اور ایک قراءت میں ذکری الدَّار کو خالصۃٍ کا مضاف الیہ قرار دیا ہے اضافت بیانیہ ہوگی، اس صورت میں ذکریٰ محلاً مجرور ہوگا۔ قولہ : الیسع ھو ابن اخطوب بن العجوز۔ قولہ : مفتحۃً یہ جنت عدن سے حال ہے اور جنّٰت عدنٍ ، حسن مآب سے بدل یا عطف بیان ہے۔ قولہ : متقین، لَھُمْ کی ضمیر ھم سے حال ہے۔ قولہ : التفاتًا یعنی تُوْعدونَ (ت) کے ساتھ پڑھا جائے تو غیبَتْ سے خطاب کی جانب التفات ہوگا۔ قولہ : ھٰذا فلیذُوقُوْہُ حمیمٌ وغَسَّاقٌ، ھٰذا مبتداء ہے اور حمیمٌ وغسَّاقٌ معطوف معطوف علیہ سے مل کر مبتداء کی خبر ہے، عبارت میں تقدیم و تاخیر ہے، تقدیر عبارت یہ ہے ھٰذا حَمِیمٌ وغَسَّاقٌ فلیذُوْقُوْہُ ۔ قولہ : یُقال لھم قائل فرشتے ہوں گے، اس عبارت سے اشارہ کردیا کہ ھٰذا فوجٌ کلام مستانف ہے۔ قولہ : باتباعِھِم ای مع اتباعھم۔ قولہ : بَلْ انتم ای بل انتم احق بمَا قُلْتُمْ لَنا۔ قولہ : انتُمْ قدَّ مْتُمُوہُ یہ ان کی احقیت کی علت ہے۔ قولہ : فی النار یہ یا تو زِدہُ کا ظرف ہے یا عذابًا کی صفت ہے ای عَذَابًا کائنًا فی النار۔ قولہ : وھُمْ ، ھُم ضمیر رجالاً کی طرف راجع ہے۔ قولہ : وسلم انَ یہ کلام چونکہ ائمہ کفر و ضلال کا مکہ کے فقراء مسلمین کے بارے میں ہے لہٰذا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ لفظ سلیمان کو حذف کردیا جائے اس لئے کہ یہ مدینہ میں ایمان لائے تھے۔ تفسیر و تشریح مذکورہ آیات میں حضرت ایوب (علیہ السلام) کا واقعہ آپ ﷺ کو صبر کی تلقین کیلئے لایا گیا ہے، یہ واقعہ تفصیل کے ساتھ سورة انبیاء میں گزر چکا ہے، حضرت ایوب (علیہ السلام) کے نسب کے بارے میں یہ بات وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ وہ نبی اسرائیل میں سے تھے اور یہ کہ ان کے والد کا نام اموص تھا، ابن جریر نے آپ کا نسب اس طرح بیان کیا ہے ایوب بن اموص بن روم بن عیص بن اسحٰق (علیہ السلام) (روح المعانی) نُصبٌ سے جسمانی تکلیف اور عذاب سے اہلی و مالی نقصان مراد ہے۔ مسنی۔۔۔ وعذابٍ شیطان نے مجھے رنج و آزار پہنچایا ہے، بعض مفسرین نے شیطان کے ربج و آزار پہنچانے کی یہ تفصیل بیان کی ہے کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) جس بیماری میں متلا ہوئے وہ شیطان کے تسلط کی وجہ سے آئی تھی۔ اور اس کی صورت یہ پیش آئی تھی کہ ایک مرتبہ فرشتوں نے حضرت ایوب (علیہ السلام) کی بہت تعریف کی، جس پر شیطان کو بہت حسد ہوا، تو شیطان نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی مجھے اس کے جسم، مال، اولاد پر ایسا تسلط عطا فرما کہ جس سے میں اسکے ساتھ جو چاہوں کروں، چونکہ اللہ تعالیٰ کو حضرت ایوب (علیہ السلام) کی آزمائش مقصود تھی اسلئے شیطان کو یہ حق دیدیا گیا اور اس نے آپ کو اس بیماری میں مبتلا کردیا۔ لیکن محقق مفسرین نے اس واقعہ کی تردید کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ قرآن کریم کی تصریح کے مطابق انبیاء (علیہ السلام) پر شیطان کو تسلط حاصل نہیں ہوسکتا، اس لئے یہ ممکن نہیں کہ شیطان نے آپ کو بیمار کردیا ہو۔ بعض حضرات نے شیطان کے رنج و آزار پہنچانے کی یہ تشریح کی ہے کہ بیماری کی حالت میں شیطان حضرت ایوب (علیہ السلام) کے دل میں طرح طرح کے وسوسے ڈالا کرتا تھا، اس سے آپ کو اور زیادہ تکلیف ہوتی تھی یہاں آپ نے اسی کا ذکر فرمایا ہے۔ (معارف) مگر اس آیت کی سب سے بہتر توضیح اور شیطانی رنج و آزار کی تشریح وہ ہے جو امام احمد بن حنبل (رح) نے کتاب الزبد میں ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) کی بیماری کے زمانہ میں ایک بار شیطان ایک طبیب کی شکل میں حضرت ایوب (علیہ السلام) کی بیوی، ” رحمت “ کو ملا، ایوب ( علیہ السلام) کی بیوی نے طبیب سمجھ کر علاج کی درخواست کی، شیطان نے کہا اس شرط پر علاج کرتا ہوں کہ اگر ان کی شفاء ہوجائے ت ویوں کہہ دینا کہ تو نے ان کو شفا دی، میں اور کچھ معاوضہ نہیں چاہتا، بیوی نے حضرت ایوب (علیہ السلام) سے صورت حال کا تذکرہ کیا، حضرت ایوب (علیہ السلام) نے فرمایا بھلی مانس وہ تو شیطان تھا، میں عہد کرتا ہوں کہ اگر اللہ تعالیٰ مجھے شفا دیدے تو میں تجھ کو سو قمچیاں ماروں گا، حضرت ایوب (علیہ السلام) کو اس واقعہ سے رنج ہوا، حضرت ایوب (علیہ السلام) یہاں اسی رنج و تکلیف کا تذکرہ فرما رہے ہیں۔ مسنِی۔۔۔ وعذابٍ رنج و آزار کی نسبت شیطان کی طرف کی گئی ہے، حالانکہ سب کچھ کرنے والا صرف اللہ ہے، ممکن ہے کہ کسی شیطانی وسوسہ سے ہی کوئی ایسا عمل ہوا ہو جو اس آزمائش کا سبب بنا ہو، شیطان کو چونکہ انبیاء پر بھی وسوسہ کی قدرت حاصل ہے تو ممکن ہے کہ شیطان حضرت ایوب (علیہ السلام) پر وسوسہ کے ذریعہ اثر انداز ہوا ہو لا سلطان لہ الا الوسوسۃ (روح المعانی) یا پھر یہ ہوسکتا ہے کہ ادبًا رنج و آزار کی نسبت شیطان کی طرف کردی گئی ہو اس لئے کہ شر کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرنا سوء ادبی ہے۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) کا مرض : قرآن کریم میں اتنا تو بتایا گیا ہے کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) کو ایک شدید قسم کا مرض لاحق ہوگیا تھا، لیکن اس مرض کی نوعیت نہیں بتائی گئی، احادیث میں بھی اس مرض کی کوئی تفصیل مذکور نہیں، البتہ بعض آثار سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے جسم کے ہر حصہ پر پھوڑے نکل آئے تھے، یہاں تک کہ گھن کی وجہ سے لوگوں نے آپ کو آبادی سے دور کسی جگہ پر ڈال دیا، لیکن بعض محقق مفسرین نے ان آثار کو درست تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) پر بیماریاں تو آسکتی ہیں مگر ان کو کسی ایسی بیماری میں مبتلا نہیں کیا جاتا کہ لوگ ان سے گھن اور نفرت کرنے لگیں، لہٰذا مذکورہ آثار قابل اعتبار نہیں۔ (ملخص روح المعانی) خُذْ بیدکَ ضَغْثًا اس واقعہ کا پس منظر سابق میں گزر چکا ہے، چند مسائل درج ذیل ہیں : مسئلہ : اگر کوئی شخص کسی کو سو قمچیاں مارنے کی قسم کھالے اور بعد میں سو قمچیاں الگ الگ مارنے کی بجائے تمام قمچیوں کا ایک مٹھا بنا کر ایک ہی مرتبہ مار دے تو اس سے قسم پوری ہوجاتی ہے، اس لئے حضرت ایوب (علیہ السلام) کو ایسا کرنے کا حکم دیا گیا، یہی امام ابوحنیفہ کا مسلک ہے، لیکن جیسا کہ علامہ ابن ہمام نے لکھا ہے اس کیلئے دو شرطیں ضروری ہیں ایک تو یہ کہ اس شخص کے بدن پر ہر قمچی طولاً یا عرضاً ضرور لگے، دوسری شرط یہ کہ اس کو ہر قمچی سے کچھ نہ کچھ تکلیف ضرور ہو، اگر اتنی آہستہ قمچیاں بدن سے لگائی گئیں کہ مطلقاً تکلیف نہ ہوئی تو قسم پوری نہ ہوگی۔ (فتح القدیر لابن ھمام) حیلوں کی شرعی حیثیت : اس آیت سے دوسرا مسئلہ یہ معلوم ہوا کہ کسی نامناسب یا مکروہ بات سے بچنے کیلئے کوئی شرعی عذر اختیار کیا جائے تو وہ جائز ہے، ظاہر ہے کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) کی قسم کا تقاضہ تو یہ تھا کہ بیوی کو سو قمچیاں ماریں لیکن چونکہ ان کی زوجہ مطہرہ بےگناہ تھیں اور انہوں نے حضرت ایوب (علیہ السلام) کی بےمثال خدمت انجام دی تھی اس لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب (علیہ السلام) کو ایک حیلہ کی تلقین فرمائی، اور یہ تصریح کردی کہ اس طرح ان کی قسم پوری ہوجائے گی، اس لئے یہ واقعہ حیلہ کے جواز پر دلالت کرتا ہے۔ (معارف) مقاصد شرعیہ کو باطل کرنے کیلئے حیلہ حرام ہے : اس قسم کے حیلے اسی وقت جائز ہوتے ہیں جبکہ ان کو مقاصد شرعیہ کے ابطال کا ذریعہ نہ بنایا جائے، اگر حیلہ کا مقصد یہ ہو کہ حیلہ کے ذریعہ کسی کے حق کو باطل کیا جائے یا کسی صریح فعل احرام کو اپنے لئے حلال کرلیا جائے تو ایسا حیلہ بالکل ناجائز ہے، مثلاً زکوٰۃ سے بچنے کیلئے بعض لوگ یہ حیلہ کرتے ہیں کہ سال کے ختم ہونے سے ذرا پہلے اپنا مال بیوی کو دیدیتے ہیں، پھر کچھ عرصہ بعد بیوی نے اس مال کا مالک پھر شوہر کو بنادیا، اس طرح کسی پر زکوٰۃ واجب نہیں ہوئی، ایسا کرنا چونکہ مقاصد شرعیہ کو باطل کرنے کی ایک کوشش ہے اسلئے حرام ہے اور شاید اس کا وبال ترک زکوٰۃ سے زیادہ ہو۔ اخلصنٰھم بخالصۃ ذکری الدارِ فکر آخرت انبیاء (علیہم السلام) کا امتیازی وصف ہوتا ہے، اس آیت میں انبیاء کے اسی وصف خاص کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، ذکری الدار کے لفظی معنی ہیں گھر کی یاد، اور گھر سے مراد آخرت ہے لفظ آخرت اختیار کرنے کے بجائے دار کا لفظ اختیار کرنے سے اس بات پر تنبیہ کی گئی ہے کہ انسان کو اپنا اصلی گھر آخرت ہی کو سمجھنا چاہیے، اور اسی کی فکر کو اپنے افکار و اعمال کی بنیاد بنانا چاہیے۔ واذکر اسمعیل والیسع، الیسع عجمی لفظ ہے الف لام تعریف کیلئے ہے، اس کا غیر عربی ہونا الف لام کے دخول کیلئے مانع نہیں ہے، بعض عجمی اسماء پر بھی الف لام تعریف کا داخل ہوجاتا ہے، جیسا کہ الاسکندریہ وغیرہ، حضرت یسع انبیاء بنی اسرائیل میں سے ہیں قرآن کریم میں ان کا صرف دو جگہ ذکر آیا ہے ایک سورة انعام میں اور دوسرے یہاں، دونوں میں سے کسی جگہ بھی آپ کی تفصیلی حالات مذکور نہیں، تاریخ کی کتابوں سے منقول ہے کہ آپ حضرت الیاس (علیہ السلام) کے چچا زاد بھائی ہیں، اور ان کے نائب و خلیفہ بھی۔ (معارف)
Top