Jawahir-ul-Quran - Saad : 41
وَ اذْكُرْ عَبْدَنَاۤ اَیُّوْبَ١ۘ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَسَّنِیَ الشَّیْطٰنُ بِنُصْبٍ وَّ عَذَابٍؕ
وَاذْكُرْ : اور آپ یاد کریں عَبْدَنَآ : ہمارا بندہ اَيُّوْبَ ۘ : ایوب اِذْ نَادٰى : جب اس نے پکارا رَبَّهٗٓ : اپنا رب اَنِّىْ : بیشک میں مَسَّنِيَ : مجھے پہنچایا الشَّيْطٰنُ : شیطان بِنُصْبٍ : ایذا وَّعَذَابٍ : اور دکھ
اور یاد کر ہمارے بندے ایوب کو35 جب اس نے پکارا اپنے رب کو کہ مجھ کو لگا دی شیطان نے ایذا اور تکلیف
35:۔ ” واذکر الخ “۔ یہ تیسری نقلی دلیل ہے حضرت ایوب (علیہ السلام) کی قوم مسئلہ توحید کی وجہ سے ان کی مخالف ہوگئی اور اللہ کی طرف سے ایک شدید بیماری کی شکل میں ان پر ابتلاء آیا جس کی وجہ سے شہر والوں نے ان کو شہر سے نکال دیا آخر انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تو اللہ نے ان کو اس بیماری سے شفا عطا فرمائی۔ جس کا اپنا یہ حال ہو وہ کسی طرح شفیع غالب نہیں بن سکتا۔ ” انی مسنی الشیطان الخ “ ” نصب “ شدت، تکلیف۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) کی بیماری طول پکڑ گئی اور وہ اٹھارہ سال اس میں مبتلا رہے اس بیماری کی وجہ سے انہوں نے سخت تکلیف اٹھائی۔ ایک دن ان کی بیوی کسی کام سے جا رہی تھیں۔ راستے میں ایک طبیب دیکھا جو حقیقت میں شیطان تھا اور انسانی شکل میں متمثل ہو کر سامنے آیا اس سے اپنے خاوند کی بیماری کا ذکر کیا تو شیطان (بصورت طبیب) نے کہا کہ میں اس شرط پر علاج کروں گا کہ جب تمہارا خاوند میرے علاج سے تندرست ہوجائے تو تم غیر اللہ کے نام کی قربانی دو گی۔ بیوی صاحبہ چونکہ حضرت ایوب (علیہ السلام) کی بیماری کی وجہ سے نہایت غمزدہ اور دلگیر تھیں اس لیے ان کے دل میں شیطان کے قول کی طرف کچھ میلان ہوگیا انہوں نے یہ واقعہ حضرت ایوب (علیہ السلام) سے ذکر کیا تو وہ فورًا سمجھ گئے کہ وہ شیطان ہے اور اس سے انہیں نہایت ہی شدید روحانی تکلیف پہنچی اور نہایت عاجزی اور زاری سے اللہ کی بارگاہ میں دعا کی بارے الٰہا ! میری طویل مصیبت کی وجہ سے اب تو شیطان کو بھی یہ توقع ہوچلی ہے کہ ہم شرک کرنے پر آمادہ ہوجائیں گے۔ میرے پروردگار ! شیطان نے اپنے اس بول سے مجھے سخت اذیت دی ہے اب مجھ پر مہربانی فرما اور اس مصیبت سے نجات عطا کر۔ ان الشیطان تعرض لامرتہ بصورۃ طبیب۔ فقالت لہ ان ھھنا مبتلی فھل لک ان تداویہ۔ ان الشیطان طلب منہا ان تذبح لغیر اللہ تعالیٰ اذا عالجہ و برا فمالت لذالک، فعظم علیہ، (علیہ السلام) الامر فنادی الخ (روح ج 23 ص 206) ۔ اشار بقولہ ” مَسَّنِیَ الشَّیْطٰنُ “ الی تعریضہ لامرتہ و طلبہ ان تشرک باللہ وکانہ یتش کی ھذا الامر۔ کان علیہ اشد من مرضہ۔ (بحر ج 7 ص 400) ۔
Top