Jawahir-ul-Quran - Saad : 42
اُرْكُضْ بِرِجْلِكَ١ۚ هٰذَا مُغْتَسَلٌۢ بَارِدٌ وَّ شَرَابٌ
اُرْكُضْ : (زمین پر) مار بِرِجْلِكَ ۚ : اپنا پاؤں ھٰذَا : یہ مُغْتَسَلٌۢ : غسل کے لیے بَارِدٌ : ٹھنڈا وَّشَرَابٌ : اور پینے کے لیے
لات مار اپنے پاؤں سے36 یہ چشمہ نکلا نہانے کو ٹھنڈا اور پینے کو
36:۔ ” اُرْکُضْ الخ “۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت جوش میں آئی فرمایا زمین پر اپنا پاؤں مارو۔ فورًا ٹھنڈے پانی کا چشمہ نمودار ہوگا۔ اس سے غسل کرو اور اس سے پیو۔ چناچہ انہوں نے زمین پر پاؤں مارا اس ٹھنڈے پانی کا چشمہ ابل پڑا اس میں غسل کیا اور اس میں سے پیا تو فورًا تندرست ہوگئے گویا بیمارے تھے ہی نہیں۔ “ وَوَھَبْنَا لَہٗ اَھْلَہٗ الخ “ ابتلا میں ان کی جو اولاد فوت ہوگئی تھی اس کو دوبارہ زندہ کردیا اور اس کے علاوہ بھی اولاد عطا فرمائی یہ سب اللہ کی مہربانی تھی۔ نیز اس میں عقلمند لوگوں کے لیے عبرت ہے کہ مصائب و شدائد میں صبر کرنے کا یہ ثمرہ ہے۔
Top