Jawahir-ul-Quran - Saad : 65
قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا مُنْذِرٌ١ۖۗ وَّ مَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّا اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُۚ
قُلْ : فرما دیں اِنَّمَآ : اس کے سوا نہیں اَنَا : کہ میں مُنْذِرٌ ڰ : ڈرانے والا وَّمَا : اور نہیں مِنْ اِلٰهٍ : کوئی معبود اِلَّا اللّٰهُ : اللہ کے سوا الْوَاحِدُ : واحد (یکتا) الْقَهَّارُ : زبردست
تو کہہ میں تو یہی ہوں ڈر سنا دینے والاف 44 اور حکم کوئی نہیں مگر اللہ اکیلا دباؤ والا
44:۔ ” قُلْ اِنَّمَا۔ تا۔ اَلْعَزِیْزُ الْغَفَّارُ “۔ دلائل عقلی و نقلی اور وحی کے بعد دعوی سورت کا بصراحت ذکر ہے۔ دلائل سابقہ سے ثابت ہوگیا کہ انبیاء (علیہم السلام) تو بوقت مصائب خود اللہ کو پکارتے اور اس کے سامنے عاجزی کرتے ہیں۔ اس لیے وہ شفیع غالب نہی ہوسکتے۔ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق، کارساز، اپنی صفات میں یگانہ اور سب پر غالب ہے۔ ساری کائنات کا مالک اور سارے جہاں میں متصرف و مختار وہی ہ۔ جو چفاہتا ہے کرتا ہے اور اس کی بارگاہ میں کوئی شفیع قاہر نہیں۔
Top