Kashf-ur-Rahman - Saad : 20
وَ شَدَدْنَا مُلْكَهٗ وَ اٰتَیْنٰهُ الْحِكْمَةَ وَ فَصْلَ الْخِطَابِ
وَشَدَدْنَا : اور ہم نے مضبوط کی مُلْكَهٗ : اس کی بادشاہت وَاٰتَيْنٰهُ : اور ہم نے اس کو دی الْحِكْمَةَ : حکمت وَفَصْلَ : اور فیصلہ کن الْخِطَابِ : خطاب
اور ہمنے اس کی سلطنت کو خوب مضبوط کیا تھا اور ہم نے اس کو حکمت اور واضح و فیصلہ کن تقریر عطا کی تھی۔
(20) اور ہم نے اس کی سلطنت کو اور اس کو حکمت یعنی نبوت اور واضح اور فیصلہ کن تقریر عطا فرمائی تھی۔ یعنی وہ سلطنت جو طالوت سے چھینی تھی اس کو بہت مضبوط کردیا اور ان کی سلطنت کی دھاک بیٹھ گئی اور ان کا اقتدارجمادیا اور ان کو حسن تدبیر یا نبوت عطا فرمائی اور قوۃ فیصلہ اور فیصلہ کردینے والی تقریر کا ملکہ یا علم قضا اور فیصلہ کرنا اور مدعی مدعا علیہ کے درمیان حق و باطل کا سمجھ لینا یا ایسی تقریر جو مخاطب بلا تکلف سمجھ لے۔ شعبی فرماتے ہیں کہ خطبہ کے بعد امابعد کہنا یہ انہی سے شروع ہوا۔ بہرحال ہر قسم کے علم و حکمت سے اس کو نوازا اب آگے ان کا ان کے ایک معاملہ میں مبتلا ہوکر ان کی لغزش کا بیان ہے۔
Top