Kashf-ur-Rahman - Saad : 3
كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ قَرْنٍ فَنَادَوْا وَّ لَاتَ حِیْنَ مَنَاصٍ
كَمْ : کتنی ہی اَهْلَكْنَا : ہم نے ہلاک کردیں مِنْ قَبْلِهِمْ : ان سے قبل مِّنْ قَرْنٍ : امتیں فَنَادَوْا : تو وہ فریاد کرنے لگے وَّلَاتَ : اور نہ تھا حِيْنَ : وقت مَنَاصٍ : چھٹکارا
ہم ان سے پہلے بہت سی قوموں کو ہلاک کرچکے ہیں پھر وہ بہت کچھ چیختے پکارتے رہے لیکن وہ خلاصی کا وقت نہیں تھا۔
(3) ان سے پہلے ہم بہت سی قوموں کو ہلاک کرچکے ہیں پس انہوں نے ہلاکت کے وقت بہت فریاد کی اور بہت شورمچاتے اور پکارتے رہے اور وہ وقت خلاصی کا نہ تھا۔ یعنی جب ہلاکت آفریں عذاب آجائے تو پھر خلاصی اور کہیں بھاگنے کا موقعہ نہیں۔ مناص عرب کا ایک خاص لفظ تھا جو عام طور سے جنگ سے بھاگتے وقت بولا کرتے تھے اور ایک دوسرے کو کہا کرتے تھے شاید بدر میں بھی یہ لفظ کہا تھا حضرت حقنی فرمایا ہے کہ تم سے پہلے بھی بہت سی قوموں اور امتوں کو ایسے حالات پیش آئے مگر وہ وقت کہیں بھاگ کر چھٹکارا پانے کا نہ تھا مگر یہ لوگ عبرت حاصل نہیں کرتے۔
Top