Kashf-ur-Rahman - Saad : 4
وَ عَجِبُوْۤا اَنْ جَآءَهُمْ مُّنْذِرٌ مِّنْهُمْ١٘ وَ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا سٰحِرٌ كَذَّابٌۖۚ
وَعَجِبُوْٓا : اور انہوں نے تعجب کیا اَنْ : کہ جَآءَهُمْ : ان کے پاس آیا مُّنْذِرٌ : ایک ڈرانے والا مِّنْهُمْ ۡ : ان میں سے وَقَالَ : اور کہا الْكٰفِرُوْنَ : (جمع) کافر ھٰذَا سٰحِرٌ : یہ جادوگر كَذَّابٌ : جھوٹا
اور کافروں نے اس بات پر تعجب کیا کہ انہی میں سے ان کے پاس ایک ڈرانے والا آیا اس پر یہ کافرکہنے لگے یہ شخص تو ایک جادوگر ہے جھوٹا۔
(4) اور ان دین حق کے منکروں نے اس بات پراچنبھا اور تعجب کیا کہ ان کے پاس انہی میں سے ایک ڈرانے والا آیا اور اس پر یہ کافرکہنے لگے کہ یہ شخص ایک جادوگر ہے جھوٹا۔ یعنی نبوت اور بشریت میں منافات سمجھ کر تعجب کرنے لگے کہ ہم ہی جیسا ایک آدمی جو ہم ہی میں سے ہے ہم کو ڈرانے والا نبی بن کر آگیا۔ لہٰذا کہنے لگے کہ یہ شخص معجزات اور خوارق نہیں دکھاتا یہ تو جادوگر ہے اور دعویٰ نبوت میں جھوٹا ہے حالانکہ علاوہ اور معجزات کے قرآن شریف خود ایک مستقل معجزہ تھا بہرحال ! خوارق کو جادو بتایا اور آپ کی نبوت کی تکذیب کی۔
Top