Kashf-ur-Rahman - Saad : 41
وَ اذْكُرْ عَبْدَنَاۤ اَیُّوْبَ١ۘ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَسَّنِیَ الشَّیْطٰنُ بِنُصْبٍ وَّ عَذَابٍؕ
وَاذْكُرْ : اور آپ یاد کریں عَبْدَنَآ : ہمارا بندہ اَيُّوْبَ ۘ : ایوب اِذْ نَادٰى : جب اس نے پکارا رَبَّهٗٓ : اپنا رب اَنِّىْ : بیشک میں مَسَّنِيَ : مجھے پہنچایا الشَّيْطٰنُ : شیطان بِنُصْبٍ : ایذا وَّعَذَابٍ : اور دکھ
اور اے پیغمبر آپ ہمارے بندے ایوب کو یاد کیجئے جب کہ اس نے اپنے رب کو پکارا کہ شیطان نے مجھ کو رنج اور تکلیف پہنچا رکھی ہے۔
(41) اور اے پیغمبر آپ ہمارے بندے ایوب ﷺ کو یاد کیجئے جبکہ اس نے اپنے پروردگار کو پکارا کہ مجھ کو شیطان نے درد اور تکلیف پہنچا رکھی ہے - یوں تو حضرت ایوب ﷺ عرصہ سے بیمار تھے لیکن شیطان نے ان کی بیوی کو پریشان دیکھ کر کہا کہ ایک طبیب بہت اچھا ہے وہ اس کے ہمراہ چلی گئیں وہ ایک طبیب کے پاس لے گیا انہوں نے اس سے اپنی خاوند کی بیماری کا ذکر کیا۔ اس طبیب نے کہا اگر تو ایوب کو تھوڑی سی شرات پلادے تو اس کو آرام ہوجائے گا اور جب آرام ہوجائے تو یوں کہیو فلاں طبیب نے شفا دی ہے یہ نہ کہیو خدا نے شفادی ہے۔ یہ سن کر یہ بیوی جن کا نام رحمت تھا واپس گھر آئیں اور انہوں نے حضرت ایوب ﷺ کو اس طبیب کا تمام قصہ سنایا وہ یہ قصہ سن کر بہت ناراض ہوئے اور انہوں نے قسم کھائی کہ اگر میں اچھا ہوگیا تو تیرے ایک سو قمچیاں ماروں گا۔ وہ شیطان تھا تو اس کے پاس کیوں گئی۔ بعض نے کہا کہ اس طبیب نے کہا مجھ کو سجدہ کرے تو تیرا خاوند اچھا ہوجائے گا بعض نے کہا بیوی کے تاخیر سے پہنچنے پر قسم کھائی۔ بہر تقدیر انہوں نے حضرت حق تعالیٰ سے عرض کی۔ ربہ انی مسنی الشیطان بنصب و عذاب۔ پہلے بھی دعا کرتے رہتے تھے جیسا کہ سورة انبیاء میں گزر چکا ہے جب وہ امتحان اور آزمائش کا دور ختم ہوا تو حضرت حق نے حکم فرمایا۔
Top