Kashf-ur-Rahman - Saad : 5
اَجَعَلَ الْاٰلِهَةَ اِلٰهًا وَّاحِدًا١ۖۚ اِنَّ هٰذَا لَشَیْءٌ عُجَابٌ
اَجَعَلَ : کیا اس نے بنادیا الْاٰلِهَةَ : (جمع) معبود اِلٰهًا : معبود وَّاحِدًا ښ : ایک اِنَّ ھٰذَا : بیشک یہ لَشَيْءٌ : ایک شے (بات) عُجَابٌ : بڑی عجیب
کیا اس نے اتنے سارے معبودوں کی جگہ ایک ہی معبود کردیا واقعی یہ معبودوں کو کاٹ چھانٹ تو بڑی ہی عجیب بات ہے۔
(5) کیا اس شخص نے اتنے سارے معبودوں کی جگہ ایک ہی معبود کردیا اور اتنوں کی بندگی کے بدلے ایک ہی کی بندگی کردی۔ بلا شبہ یہ معبودوں کی کاٹ چھانٹ بڑی عجیب بات ہے۔ حضرت نے اپنے چچا ابوطالب سے فرمایا جب چچا نے کہا مکہ والے تمہاری بڑی شکایت کرتے ہیں، اے چچا میں تو صرف ایک کلمہ کہتا ہوں ابوطالب نے لوگوں کو جمع کیا اور کہا محمد ﷺ تو صرف ایک کلمہ کہتا ہے چناچہ آپ ﷺ سے پوچھا گیا وہ کلمہ کیا ہے آپ نے فرمایا ۔ لاالہ الا اللہ اس پر تمام منکر بگڑ کر کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے کیا ایک معبود اس کی گنجائش رکھتا ہے کہ تمام خلائق کا کام چلا سکے۔ ہم تین سو ساٹھ معبود رکھتے ہیں اور وہ سب مل کر ایک مکہ کا انتظام نہیں کرسکتے تو ایک معبود کو کہتا ہے بھلا وہ تمام دنیا کا کام کیسے چلا سکتے ہے۔
Top