Kashf-ur-Rahman - Saad : 63
اَتَّخَذْنٰهُمْ سِخْرِیًّا اَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الْاَبْصَارُ
اَتَّخَذْنٰهُمْ : کیا ہم نے انہیں پکڑا تھا سِخْرِيًّا : ٹھٹھے میں اَمْ : یا زَاغَتْ : کج ہوگئی ہیں عَنْهُمُ : ان سے الْاَبْصَارُ : آنکھیں
کیا ہم نے ان کا مذاق بنارکھا تھا۔ یا اس وقت ان کے دیکھنے سے آنکھیں عطا کررہی ہیں۔
(63) کیا ہم نے بلاوجہ ان کا مذاق بنارکھا تھا اور ان سے ٹھٹھا کرتے تھے یا اس وقت ان کو دیکھنے سے ہماری آنکھیں خطا کررہی ہیں اور آنکھیں دیکھنے سے چوک گئیں اور چکراگئی ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ دنیا میں جوان کا مذاق ہم اڑاتے تھے وہ بلا وجہ کا مذاق تھا یا وہ بھی اس عذاب میں موجود ہیں مگر نگاہ نہیں پڑ رہی ان پر جیسا کہ کثرت اژدھا میں ایسا ہوتا ہے شاید ان اشرار سے مراد ان کی عمار، بلال صہیب اور خباب وغیرہ ؓ فقرائے مہاجرین ہوں گے کیونکہ منکر ایک دوسرے کو دیکھ کر پہچانیں گے لیکن کوئی مسلمان ان کا جاننے والا نظر نہیں آئے گا تب ان کو تعجب ہوگا۔
Top