Maarif-ul-Quran - Yaseen : 20
وَ جَآءَ مِنْ اَقْصَا الْمَدِیْنَةِ رَجُلٌ یَّسْعٰى قَالَ یٰقَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِیْنَۙ
وَجَآءَ : اور آیا مِنْ : سے اَقْصَا : پرلا سرا الْمَدِيْنَةِ : شہر رَجُلٌ : ایک آدمی يَّسْعٰى : دوڑتا ہوا قَالَ : اس نے کہا يٰقَوْمِ : اے میری قوم اتَّبِعُوا : تم پیروی کرو الْمُرْسَلِيْنَ : رسولوں کی
اور آیا شہر کے پرلے سرے سے ایک مرد دوڑتا ہوا بولا اے قوم چلو راہ پر بھیجے ہوؤں کی
(آیت) وجاء من اقصی المدینہ رجل یسعیٰ ، پہلی آیت میں اس مقام کو جس میں یہ قصہ پیش آیا لفظ قریہ سے تعبیر کیا گیا جو عربی زبان کے اعتبار سے صرف چھوٹے گاؤں کو نہیں بلکہ مطلق بستی کو کہتے ہیں، چھوٹی بستی ہو یا بڑا شہر۔ اور اس آیت میں اس مقام کو لفظ مدینہ سے تعبیر کیا جو صرف بڑے شہر ہی کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جس بستی میں یہ واقعہ ہوا ہے وہ کوئی بڑا شہر تھا، اس سے بھی اس قول کی تائید ہوتی ہے جس میں اس کو انطاکیہ قرار دیا ہے۔ اقصی المدینہ سے مراد شہر کے کسی گوشہ سے آنا ہے۔ رجل یسعیٰ ، لفظ یسعیٰ سعی سے ماخوذ ہے جس کے لغوی معنی دوڑ کر چلنے کے ہیں۔ اس لئے معنی یہ ہوئے کہ شہر کے کسی دوسرے گوشہ سے ایک شخص دوڑتا ہوا آیا، اور کبھی لفظ سعی اہتمام کے ساتھ چلنے کے معنے میں بھی آتا ہے چاہے دوڑ کر نہ چلے، جیسے سورة جمعہ میں (آیت) فاسعوا الیٰ ذکر اللہ میں یہی معنی مراد ہیں۔
گوشہ شہر سے آنے والے شخص کا واقعہ
قرآن کریم نے اس کو بھی مبہم رکھا ہے، اس شخص کا نام اور حال ذکر نہیں فرمایا۔ تاریخی روایات میں ابن اسحاق نے حضرت ابن عباس اور کعب احبار اور وہب بن منبہ کے حوالے سے یہ نقل کیا ہے کہ اس شخص کا نام حبیب تھا، اس کے پیشہ کے متعلق مختلف اقوال ہں، ان میں مشہور یہ ہے کہ نجار تھا لکڑی کا کام کرتا تھا۔ (ابن کثیر)
اور تاریخی روایات جو مفسرین نے اس جگہ نقل کی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص بھی شروع میں بت پرست تھا، دو رسول جو پہلے اس شہر میں آئے اس کی ملاقات ان سے ہوگئی ان کی تعلیم سے اور بعض روایات کے اعتبار سے ان کا معجزہ یا کرامت دیکھ کر اس کے دل میں ایمان پیدا ہوا۔ بت پرستی سے تائب ہو کر مسلمان ہوگیا اور کسی غار وغیرہ میں جا کر عبادت میں مشغول ہوگیا جب اس کو یہ خبر ملی کہ شہر کے لوگ ان رسولوں کی تعلیم و ہدایت کو جھٹلا کر ان کے درپے آزار ہوگئے اور قتل کی دھمکیاں دے رہے ہیں، تو یہ اپنی قوم کی خیر خواہی اور ان رسولوں کی ہمدردی کے ملے جلے جذبے سے جلدی کر کے اپنی قوم میں آیا اور ان کو رسولوں کا اتباع کرنے کی نصیحت کی۔ اور پھر اپنے مومن ہونے کا اعلان کردیا۔
Top