Maarif-ul-Quran - Saad : 12
كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ عَادٌ وَّ فِرْعَوْنُ ذُو الْاَوْتَادِۙ
كَذَّبَتْ : جھٹلایا قَبْلَهُمْ : ان سے پہلے قَوْمُ : قوم نُوْحٍ : نوح وَّعَادٌ : اور عاد وَّفِرْعَوْنُ : اور فرعون ذُوالْاَوْتَادِ : میخوں والا
جھٹلا چکے ہیں ان سے پہلے نوح کی قوم اور عاد اور فرعون میخوں والا
وَّفِرْعَوْنُ ذُوالْاَوْتَادِ اس کے لفظی معنی ہیں ”میخوں والا فرعون“ اور اس کی تفسیر میں مفسرین کے مختلف اقوال ہیں، بعض حضرات نے فرمایا کہ اس سے اس کی سلطنت کے استحکام کی طرف اشارہ ہے، اسی لئے حضرت تھانوی نے اس کا ترجمہ یہ کیا ہے کہ ”جس کے کھونٹے گڑ گئے تھے“ اور بعض حضرات نے فرمایا کہ وہ لوگوں کو اس طرح سزا دیا کرتا تھا کہ اسے چت لٹا کر اس کے چاروں ہاتھ پاؤں میں میخیں گاڑ دیتا اور اس پر سانپ، بچھو چھوڑ دیتا تھا۔ اور بعض نے کہا کہ وہ رسی اور میخوں سے کوئی خاص کھیل کھیلا کرتا تھا۔ اور بعض کا کہنا ہے کہ ”میخوں“ سے مراد عمارتیں ہیں اور اس نے بڑی مضبوط عمارتیں بنائی تھیں۔ (تفسیر قرطبی) واللہ سبحانہ، اعلم۔
Top