Maarif-ul-Quran - Saad : 18
اِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَهٗ یُسَبِّحْنَ بِالْعَشِیِّ وَ الْاِشْرَاقِۙ
اِنَّا سَخَّرْنَا : بیشک ہم نے مسخر کردیے الْجِبَالَ : پہاڑ مَعَهٗ : اس کے ساتھ يُسَبِّحْنَ : وہ تسبیح کرتے تھے بِالْعَشِيِّ : شام کے وقت وَالْاِشْرَاقِ : اور صبح کے وقت
ہم نے تابع کئے پہاڑ اس کے ساتھ پاکی بولتے تھے شام کو اور صبح کو
اِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَهٗ الخ۔ اس آیت میں پہاڑوں اور پرندوں کے حضرت داؤد ؑ کے ساتھ شریک تسبیح ہونے کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ اس کی تشریح سورة انبیاء اور سورة سباء میں گزر چکی ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ پہاڑوں اور پرندوں کی تسبیح کو باری تعالیٰ نے یہاں اس طرح ذکر فرمایا ہے کہ یہ حضرت داؤد ؑ پر ایک خاص انعام تھا۔ سوال یہ ہے کہ یہ حضرت داؤد ؑ کے لئے نعمت کیسے ہوئی ؟ پہاڑوں اور پرندوں کی تسبیح سے کیا خاص فائدہ پہنچا ؟
اس کا ایک جواب تو یہ ہے کہ اس سے حضرت داؤد ؑ کا ایک معجزہ ظاہر ہوا، اور ظاہر ہے کہ یہ ایک بڑا انعام ہے۔ اس کے علاوہ حضرت تھانوی نے ایک لطیف توجیہہ فرمائی ہے کہ پہاڑوں اور پرندوں کی تسبیح سے ذکر و شغل کا ایک خاص کیف پیدا ہوگیا تھا جس سے عبادت میں نشاط اور تازگی وہمت پیدا ہوتی ہے۔ اجتماعی ذکر کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ ذکر کی برکتوں کا ایک دوسرے پر انعکاس ہوتا رہتا ہے۔ صوفیائے کرام کے یہاں ذکر وشغل کا ایک خاص طریقہ معروف ہے جس میں ذکر کرتے ہوئے یہ تصور کیا جاتا ہے کہ پوری کائنات ذکر کر رہی ہے، اصلاح باطن اور شوق عبادت میں اس طریقہ کی عجیب تاثیر ہے۔ اس آیت سے اس طریقہ ذکر کی بنیاد بھی مستنبط ہوتی ہے۔ (مسائل السلوک)
صلوٰة الضحیٰ
(آیت) بِالْعَشِيِّ وَالْاِشْرَاقِ۔ عشی کے معنی ہیں ظہر کے بعد سے اگلے دن صبح تک کا وقت اور اشراق کے معنی صبح کا وہ وقت جس میں دھوپ زمین پر پھیل گئی ہو۔ اس آیت سے حضرت عبداللہ بن عباس نے صلوٰة الضحیٰ کے شروع ہونے پر استدلال فرمایا ہے۔ صلوٰة الضحیٰ کو صلوٰة الاوابین اور بعض حضرات صلوٰة الاشراق بھی کہتے ہیں۔ اگرچہ بعد میں صلوٰة الاوابین کا نام مغرب کے بعد کی چھ نفلوں کے لئے اور صلوٰة الاشراق طلوع آفتاب کے متصل والی دو چار نفلوں کے لئے زیادہ مشہور ہوگیا۔
صلوٰة الضحیٰ میں سے دو سے لے کر بارہ تک جتنی رکعتیں چاہیں پڑھی جاسکتی ہیں۔ حدیث میں اس کے بہت سے فوائد وارد ہوئے ہیں۔ جامع ترمذی میں حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا، ”جو شخص صلوٰة الضحیٰ کی دو رکعتوں کی پابندی کرلے اس کے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں، خواہ وہ سمندری جھاگ جتنے ہوں“ اور حضرت انس سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا۔ ”جو شخص صلوٰة الضحیٰ کی بارہ رکعتیں پڑھے، اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں سونے کا محل بنا دے گا۔“ (قرطبی)
علماء نے فرمایا ہے کہ یوں تو دو سے لے کر بارہ تک جتنی رکعتیں پڑھی جاسکیں وہ ٹھیک ہیں، لیکن تعداد کے لئے کوئی خاص معمول بنا لیا جائے تو بہتر ہے، اور یہ معمول کم از کم چار رکعت ہو تو زیادہ اچھا ہے کیونکہ آپ کا عام معمول چار رکعتیں ہی پڑھنے کا تھا۔
Top