Maarif-ul-Quran - Saad : 21
وَ هَلْ اَتٰىكَ نَبَؤُا الْخَصْمِ١ۘ اِذْ تَسَوَّرُوا الْمِحْرَابَۙ
وَهَلْ : اور کیا اَتٰىكَ : آپ کے پاس آئی (پہنچی) نَبَؤُا الْخَصْمِ ۘ : خبر جھگڑنے والے اِذْ : جب تَسَوَّرُوا : وہ دیوار پھاند کر آئے الْمِحْرَابَ : محراب (مسجد)
اور پہنچی ہے تجھ کو خبر دعوے والوں کی
خلاصہ تفسیر
اور بھلا آپ کو ان اہل مقدمہ کی خبر بھی پہنچی ہے (جو داؤد ؑ کے پاس مقدمہ لائے تھے) جبکہ وہ لوگ (داؤد ؑ کے) عبادت خانہ کی دیوار پھاند کر داؤد ؑ کے پاس آئے (کیونکہ دروازے سے پہرہ داروں نے اس لئے نہیں آنے دیا کہ وہ وقت آپ کی عبادت کا تھا، مقدمات کے فیصلے کا نہیں) تو وہ (ان کے اس بےقاعدہ آنے سے) گھبرا گئے (کہ کہیں یہ لوگ دشمن نہ ہوں جو قتل کے ارادے سے اس طرح تنہائی میں آ گھسے ہوں) وہ لوگ (ان سے) کہنے لگے کہ آپ ڈریں نہیں، ہم دو اہل معاملہ ہیں کہ ایک نے دوسرے پر (کچھ) زیادتی کی ہے (اس کے فیصلے کے لئے ہم آئے ہیں، چونکہ پہرہ داروں نے دروازہ سے نہیں آنے دیا۔ اس لئے اس طرح آنے کے مرتکب ہوئے) سو آپ ہم میں انصاف سے فیصلہ کر دیجئے، اور بےانصافی نہ کیجئے، اور ہم کو (معاملہ کی) سیدھی راہ بتلا دیجئے (اور پھر ایک شخص بولا کہ صورت مقدمہ یہ ہے کہ) یہ شخص میرا بھائی ہے (یعنی دینی بھائی جیسا کہ در منثور میں حضرت ابن مسعود سے منقول ہے اور) اس کے پاس ننانوے دنبیاں ہیں اور میرے پاس (کل) ایک دنبی ہے۔ سو یہ کہتا ہے کہ وہ بھی مجھ کو دے ڈال اور بات چیت میں مجھ کو دباتا ہے (اور میری بات کو منہ زوری سے چلنے نہیں دیتا) داؤد ؑ نے کہا کہ یہ جو تیری دنبی اپنی دنبیوں میں ملانے کی درخواست کرتا ہے تو واقعی تجھ پر ظلم کرتا ہے اور اکثر شرکاء (کی عادت ہے کہ) ایک دوسرے پر (یوں ہی) زیادتی کیا کرتے ہیں، مگر ہاں جو لوگ ایمان رکھتے ہیں اور نیک کام کرتے ہیں، اور ایسے لوگ بہت ہی کم ہیں (یہ بات آپ نے مظلوم کی تسلی کے لئے ارشاد فرمائی) اور داؤد ؑ کو خیال آیا کہ (اس مقدمہ کو اس طرح پیش کر کے) ہم نے ان کا امتحان کیا ہے، سو انہوں نے اپنے رب کے سامنے توبہ کی اور سجدہ میں گر پڑے اور (خاص طور پر خدا کی طرف) رجوع ہوئے، سو ہم نے ان کو وہ (امر) معاف کردیا، اور ہمارے یہاں ان کے لئے (خاص) قرب اور (اعلیٰ درجہ کی) نیک انجامی (یعنی جنت کا درجہ علیا) ہے۔

معارف و مسائل
ان آیتوں میں باری تعالیٰ نے حضرت داؤد ؑ کا واقعہ ذکر فرمایا ہے۔ قرآن کریم میں یہ واقعہ جس انداز سے بیان کیا گیا ہے، اس سے صرف اتنا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی عبادت گاہ میں دو فریقوں کو جھگڑتے ہوئے بھیج کر ان کا کوئی امتحان کیا تھا۔ حضرت داؤد ؑ نے اس امتحان پر متنبہ ہو کر اللہ تعالیٰ سے استغفار کیا اور سجدے میں گر پڑے، اور اللہ تعالیٰ نے ان کی مغفرت فرما دی۔ قرآن کریم کا اصل مقصد چونکہ یہاں یہ بیان کرنا ہے کہ حضرت داؤد ؑ اپنے ہر معاملے میں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع فرماتے تھے، اور کبھی ذرا سی لغزش بھی ہوجائے تو فوراً استغفار کی طرف متوجہ ہوتے تھے۔ اس لئے یہاں یہ تفصیل بیان نہیں کی گئی کہ وہ امتحان کیا تھا ؟ حضرت داؤد ؑ سے وہ کونسی لغزش ہوئی تھی جس سے انہوں نے استغفار کیا ؟ اور جسے اللہ تعالیٰ نے معاف فرما دیا۔ اسی لئے بعض محقق اور محتاط مفسرین نے ان آیات کی تشریح میں یہ فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خاص حکمت و مصلحت سے اپنے جلیل القدر پیغمبر کی اس لغزش اور امتحان کی تفصیل کو کھول کر بیان نہیں فرمایا، اس لئے ہمیں بھی اس کے پیچھے نہیں پڑنا چاہئے۔ اور جتنی بات قرآن کریم میں مذکور ہے، صرف اسی بات پر ایمان رکھنا چاہئے۔ حافظ ابن کثیر جیسے محقق مفسر نے اپنی تفسیر میں اسی پر عمل کرتے ہوئے واقعہ کی تفصیلات سے خاموشی اختیار کی ہے۔ اور کوئی شک نہیں کہ یہ سب سے زیادہ محتاط اور سلامتی کا راستہ ہے۔ اسی لئے علماء سلف سے منقول ہے کہ ابھموا ما ابھمہ اللہ، یعنی جس چیز کو اللہ نے مبہم چھوڑا ہے تم بھی اس کو مبہم رہنے دو۔ اسی میں حکمت و مصلحت ہے اور یہ ظاہر ہے کہ اس سے مراد ایسے معاملات کا ابہام ہے جن سے ہمارے عمل اور حلال و حرام کا تعلق نہ ہو اور جن معاملات سے مسلمانوں کے عمل کا تعلق ہو اس ابہام کو خود رسول اللہ ﷺ نے اپنے قول و عمل سے رفع کردیا ہے۔
البتہ دوسرے مفسرین نے روایات وآثار کی روشنی میں اس امتحان اور آزمائش کو متعین کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس سلسلہ میں ایک عامیانہ روایت تو یہ مشہور ہے کہ حضرت داؤد ؑ کی نظر ایک مرتبہ اپنے ایک فوجی افسر اور یا کی بیوی پر پڑگئی تھی۔ جس سے ان کے دل میں اس کے ساتھ نکاح کرنے کی خواہش پیدا ہوئی، اور انہوں نے اور یا کو قتل کرانے کی غرض سے اسے خطرناک ترین مشن سونپ دیا جس میں وہ شہید ہوگیا اور بعد میں آپ نے اس کی بیوی سے شادی کرلی۔ اس عمل پر تنبیہ کرنے کے لئے یہ دو فرشتے انسانی شکل میں بھیجے گئے۔
لیکن یہ روایت بلاشبہ ان خرافات میں سے ہے جو یہودیوں کے زیر اثر مسلمانوں میں بھی پھیل گئی تھیں۔ یہ روایت دراصل بائبل کی کتاب سموئیل دوم باب نمبر 11 سے ماخوذ ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ بائبل میں کھلم کھلا حضرت داؤد ؑ پر یہ الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے معاذ اللہ اور یا کی بیوی سے نکاح سے قبل ہی زنا کا ارتکاب کیا تھا۔ اور ان تفسیری روایتوں میں زنا کے جز کو حذف کردیا گیا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کسی نے اس اسرائیلی روایت کو دیکھا اور اس میں سے زنا کے قصے کو نکال کر اسے قرآن کریم کی مذکورہ آیتوں پر چسپاں کردیا۔ حالانکہ یہ کتاب سموئیل ہی سرے سے بےاصل ہے اور یہ روایت قطعی کذب وافتراء کی حیثیت رکھتی ہے۔ اسی وجہ سے تمام محقق مفسرین نے اس کی سخت تردید کی ہے۔
حافظ ابن کثیر کے علاوہ علامہ ابن جوزی، قاضی ابو السعود، قاضی بیضاوی، قاضی عیاض، امام رازی، علامہ ابو حیان اندلسی، خازن، زمحشری، ابن حزم، علامہ خفاجی، احمد بن تصر، ابو تمام اور علامہ آلوسی وغیرہ نے بھی اسے کذب وافتراء قرار دیا ہے۔ حافظ ابن کثیر ؒ لکھتے ہیں۔
”بعض مفسرین نے یہاں ایک قصہ ذکر کیا ہے جس کا اکثر حصہ اسرائیلیات سے ماخوذ ہے آنحضرت ﷺ سے اس بارے میں کوئی ایسی بات ثابت نہیں جس کا اتباع واجب ہو، صرف ابن ابی حاتم نے یہاں ایک حدیث روایت کی ہے۔ مگر اس کی سند صحیح نہیں ہے۔“
غرض بہت سے دلائل کی روشنی میں جن کی کچھ تفصیل امام رازی کی تفسیر کبیر اور ابن جوزی کی زاد المسیر وغیرہ میں موجود ہے، یہ روایت تو اس آیت کی تفسیر میں قطعاً خارج از بحث ہوجاتی ہے۔
حکیم الامت حضرت تھانوی نے اس آزمائش اور لغزش کی تشریح اس طرح فرمائی ہے کہ مقدمہ کے یہ دو فریق دیوار پھاند کر داخل ہوئے، اور طرز مخاطبت بھی انتہائی گستاخانہ اختیار کیا کہ شروع ہی میں حضرت داؤد ؑ کو انصاف کرنے اور ظلم نہ کرنے کی نصیحتیں شروع کردیں، اس انداز کی گستاخی کی بنا پر کوئی عام آدمی ہوتا تو انہیں جواب دینے کے بجائے الٹی سزا دیتا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد ؑ کا یہ امتحان فرمایا کہ وہ بھی غصہ میں آ کر انہیں سزا دیتے ہیں یا پیغمبرانہ عفو و تحمل سے کام لے کر ان کی بات سنتے ہیں۔
حضرت داؤد ؑ اس امتحان میں پورا اترے، لیکن اتنی سی فروگذاشت ہوگئی کہ فیصلہ سناتے وقت ظالم کو خطاب کرنے کے بجائے مظلوم کو مخاطب فرمایا۔ جس سے ایک گونہ جانبداری مترشح ہوتی تھی مگر اس پر فوراً متنبہ ہوا اور سجدے میں گر گئے اور اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف فرما دیا۔ (بیان القرآن)
بعض مفسرین نے لغزش کی یہ تشریح کی ہے کہ حضرت داؤد ؑ نے مدعا علیہ کو خاموش دیکھا تو اس کا بیان سنے بغیر صرف مدعی کی بات سن کر اپنی نصیحت میں ایسی باتیں فرمائیں جن سے فی الجملہ مدعی کی تائید ہوتی تھی، حالانکہ پہلے مدعا علیہ سے پوچھنا چاہئے تھا کہ اس کا موقف کیا ہے ؟ حضرت داؤد ؑ کا یہ ارشاد اگرچہ صرف ناصحانہ انداز میں تھا اور ابھی تک مقدمہ کے فیصلے کی نوبت نہیں آئی تھی، تاہم ان جیسے جلیل القدر پیغمبر کے شایان شان نہیں تھا۔ اسی بات پر آپ بعد میں متنبہ ہو کر سجدہ ریز ہوئے۔ (روح المعانی)
بعض حضرات نے فرمایا کہ حضرت داؤد ؑ نے اپنا نظم اوقات ایسا بنایا ہوا تھا کہ چوبیس گھنٹے میں ہر وقت گھر کا کوئی نہ کوئی فرد عبادت، ذکر اور تسبیح میں مشغول رہتا تھا، ایک روز انہوں نے باری تعالیٰ سے عرض کیا کہ پروردگار ! دن اور رات کی کوئی گھڑی ایسی نہیں گزرتی جس میں داؤد کے گھر والوں میں سے کوئی نہ کوئی آپ کی عبادت، نماز اور تسبیح و ذکر میں مشغول نہ ہو، باری تعالیٰ نے فرمایا کہ داؤد ! یہ سب کچھ میری توفیق سے ہے، اگر میری مدد شامل حال نہ ہو تو یہ بات تمہارے بس کی نہیں ہے، اور ایک دن میں تمہیں تمہارے حال پر چھوڑ دوں گا۔ اس کے بعد یہ واقعہ پیش آیا کہ وہ وقت حضرت داؤد ؑ کے مشغول عبادت ہونے کا تھا۔ اس ناگہانی قضیہ سے ان کے اوقات کا نظام مختل ہوگیا حضرت داؤد ؑ جھگڑا چکانے میں مشغول ہوگئے، آل داؤد ؑ کا کوئی اور فرد بھی اس وقت عبادت اور ذکر الٰہی میں مصروف نہ تھا۔ اس سے حضرت داؤد ؑ کو تنبہ ہوا کہ وہ فخریہ کلمہ جو زبان سے نکل گیا تھا، یہ مجھ سے غلطی ہوئی تھی۔ اس لئے آپ نے استغفار فرمایا اور سجدہ ریز ہوگئے۔ اس توجیہہ کی تائید حضرت ابن عباس کے ایک ارشاد سے بھی ہوتی ہے جو مستدرک حاکم میں صحیح سند کے ساتھ منقول ہے۔ (احکام القرآن)
ان تمام تشریحات میں یہ بات مشترکہ طور پر تسلیم کی گئی ہے کہ مقدمہ فرضی نہیں، بلکہ حقیقی تھا اور صورت مقدمہ کا حضرت داؤد ؑ کی آزمائش یا لغزش سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ اس کے برخلاف بہت سے مفسرین نے اس کی ایسی تشریح فرمائی ہے، جس کا حاصل یہ ہے کہ مقدمہ کے یہ فریقین انسان نہیں، بلکہ فرشتے تھے، اور انہیں اللہ تعالیٰ نے اس لئے بھیجا تھا کہ وہ ایسی فرضی صورت مقدمہ پیش کریں جس سے حضرت داؤد ؑ کو اپنی لغزش پر تنبہ ہوجائے۔
چنانچہ ان حضرات کا یہ کہنا ہے کہ اور یا کو قتل کرانے اور اس کی بیوی سے نکاح کرلینے کا وہ قصہ تو غلط ہے، لیکن حقیقت حال یہ تھی کہ بنی اسرائیل میں سے کسی شخص سے یہ فرمائش کرنا معیوب نہیں سمجھا جاتا تھا کہ ”تم اپنی بیوی کو طلاق دے کر اس کا نکاح مجھ سے کردو“ اس زمانے میں اس فرمائش کا عام رواج بھی تھا۔ اور یہ بات خلاف مروت بھی نہ سمجھی جاتی تھی۔ حضرت داؤد ؑ نے اسی بنا پر اور یا سے یہی فرمائش کی تھی، جس پر اللہ تعالیٰ نے یہ دو فرشتے بھیج کر آپ کو تنبیہ فرمائی۔ اور بعض حضرات نے فرمایا کہ بات صرف اتنی تھی کہ اور یا نے ایک عورت کو نکاح کا پیغام دیا ہوا تھا، حضرت داؤد ؑ نے بھی اسی عورت کو اپنا پیغام دے دیا، اس سے اور یا کو بہت رنج ہوا اللہ تعالیٰ نے اس پر تنبیہ کے لئے یہ دو فرشتے بھیجے اور ایک لطیف پیرایہ میں اس لغزش پر تنبیہ فرمائی۔ قاضی ابویعلی نے اس توجیہہ پر قرآن کریم کے الفاظ وَعَزَّنِيْ فِي الْخِطَابِ ، سے استدلال فرمایا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ یہ جملہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہ معاملہ محض خطبہ (منگنی) کے سلسلہ میں بھی آیا تھا۔ اور ابھی حضرت داؤد ؑ نے اس سے نکاح نہیں فرمایا تھا۔ (زادالمسیر لابن الجوزی۔ ص 611۔ ج 7)
اکثر مفسرین نے ان آخری دو تشریحات کو ترجیح دی ہے اور ان کی تائید بعض آثار صحابہ سے بھی ہوتی ہے۔ (ملاحظہ ہو روح المعانی، تفسیر ابی السعود، زاد المسیر، تفسیر کبیر وغیرہ) لیکن واقعہ یہ ہے کہ اس آزمائش اور لغزش کی تفصیل نہ قرآن کریم سے ثابت ہے، نہ کسی صحیح حدیث سے۔ اس لئے اتنی بات تو طے شدہ ہے کہ اور یا کو قتل کروانے کا جو قصہ مشہور ہے وہ غلط ہے، لیکن اصل واقعہ کے بارے میں مذکورہ بالا تمام احتمالات موجود ہیں اور ان میں سے کسی ایک کو قطعی اور یقینی نہیں کہا جاسکتا۔ لہٰذا سلامتی کی راہ وہی ہے جو حافظ ابن کثیر نے اختیار کی کہ جس بات کو اللہ تعالیٰ نے مبہم چھوڑا ہے، ہم اپنے قیاسات اور اندازوں کے ذریعہ اس کی تفصیل کی کوشش نہ کریں۔ جبکہ اس سے ہمارے کسی عمل کا تعلق نہیں۔ اس ابہام میں بھی یقینا کوئی حکمت ہے۔ لہٰذا صرف اتنے واقعہ پر ایمان رکھا جائے جو قرآن کریم میں مذکور ہے، باقی تفصیلات کو اللہ کے حوالے کیا جائے۔ البتہ اس واقعہ سے متعدد عملی فوائد حاصل ہوتے ہیں زیادہ توجہ ان کی طرف دینی چاہئے۔ اس لئے اب آیات کی تفسیر ملاحظہ فرمائیے جس میں انشاء اللہ ان فوائد کا ذکر آجائے گا۔
اِذْ تَسَوَّرُوا الْمِحْرَابَ۔ (جب وہ محراب کی دیوار پھاند کر داخل ہوئے) محراب دراصل بالاخانے یا کسی مکان کے سامنے کے حصہ کو کہتے ہیں۔ پھر خاص طور سے مسجد یا عبادت خانے کے سامنے کے حصہ کو کہا جانے لگا۔ قرآن کریم میں یہ لفظ عبادت گاہ کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ علامہ سیوطی نے لکھا ہے کہ مسجد کے دائرہ نما محرابیں جیسی آج کل معروف ہیں، یہ عہد نبوی میں موجود نہیں تھیں (روح المعانی)
Top