Maarif-ul-Quran - Saad : 44
وَ خُذْ بِیَدِكَ ضِغْثًا فَاضْرِبْ بِّهٖ وَ لَا تَحْنَثْ١ؕ اِنَّا وَجَدْنٰهُ صَابِرًا١ؕ نِعْمَ الْعَبْدُ١ؕ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ
وَخُذْ : اور تو لے بِيَدِكَ : اپنے ہاتھ میں ضِغْثًا : جھاڑو فَاضْرِبْ بِّهٖ : اس سے مار اس کو وَلَا تَحْنَثْ ۭ : اور قسم نہ توڑ اِنَّا : بیشک ہم وَجَدْنٰهُ : ہم نے اسے پایا صَابِرًا ۭ : صابر نِعْمَ الْعَبْدُ ۭ : اچھا بندہ اِنَّهٗٓ : بیشک وہ اَوَّابٌ : (اللہ کی طرف) رجوع کرنے والا
اور پکڑ اپنے ہاتھ میں سینکوں کا مٹھا پھر اس سے مارے اور اپنی قسم میں جھوٹا نہ ہو ہم نے اس کو پایا جھیلنے والا بہت خوب بندہ، تحقیق وہ ہے رجوع ہونے والا۔
(آیت) وَخُذْ بِيَدِكَ ضِغْثًا۔ (تم اپنے ہاتھ میں ایک مٹھا سینکوں کا لو) اس واقعہ کا پس منظر اوپر خلاصہ تفسیر میں آ چکا ہے۔ یہاں اس واقعہ سے متعلق چند مسائل درج کئے جاتے ہیں۔
پہلا مسئلہ تو یہ ہے کہ اس واقعہ سے یہ معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص کسی کو سو قمچیاں مارنے کی قسم کھالے اور بعد میں سو قمچیاں الگ الگ مارنے کے بجائے تمام قمچیوں کا ایک گٹھا بنا کر ایک ہی مرتبہ مار دے تو اس سے قسم پوری ہوجاتی ہے۔ اسی لئے حضرت ایوب ؑ کو ایسا کرنے کا حکم دیا گیا۔ یہی امام ابوحنیفہ کا مسلک ہے۔ لیکن جیسا کہ علامہ ابن ہمام نے لکھا ہے کہ اس کے لئے دو شرطیں ضروری ہیں۔ ایک تو یہ کہ اس شخص کے بدن پر ہر قمچی طولاً یا عرضاً ضرور لگ جائے۔ دوسرے یہ کہ اس سے کچھ نہ کچھ تکلیف ضرور ہو۔ اگر اتنے ہلکے سے قمچیاں بدن کو لگائی گئیں کہ بالکل تکلیف نہ ہوئی تو قسم پوری نہیں ہوگی۔ حضرت تھانوی نے بیان القرآن میں جو لکھا ہے کہ قسم پوری نہیں ہوگی، تو غالباً اس کی مراد یہی ہے کہ تکلیف بالکل نہ ہو یا کوئی قمچی بدن کو لگ جانے سے رہ جائے اور نہ فقہائے حنیفہ نے تصریح فرمائی ہے کہ اگر مذکورہ دو شرطوں کے ساتھ مارا جائے تو قسم پوری ہوجاتی ہے۔ (ملاحظہ ہو فتح القدیر۔ ص 731 ج 4)

حیلوں کی شرعی حیثیت
اس آیت سے دوسرا مسئلہ یہ معلوم ہوا کہ کسی نامناسب یا مکروہ بات سے بچنے کیلئے کوئی شرعی حیلہ اختیار کیا جائے تو وہ جائز ہے۔ ظاہر ہے کہ حضرت ایوب ؑ کے واقعہ میں قسم کا اصلی تقاضا یہ ہے کہ آپ اپنی زوجہ مطہرہ کو پوری سو قمچیاں ماریں، لیکن چونکہ ان کی زوجہ مطہرہ بےگناہ تھیں اور انہوں نے حضرت ایوب ؑ کی بےمثال خدمت کی تھی، اس لئے اللہ تعالیٰ نے خود حضرت ایوب ؑ کو ایک حیلہ کی تلقین فرمائی اور یہ تصریح کردی کہ اس طرح ان کی قسم نہیں ٹوٹے گی۔ اس لئے یہ واقعہ حیلہ کے جواز پر دلالت کرتا ہے۔
لیکن یہ یاد رکھنا چاہئے کہ اس قسم کے حیلے اسی وقت جائز ہوتے ہیں جبکہ انہیں شرعی مقاصد کے ابطال کا ذریعہ نہ بنایا جائے۔ اور اگر حیلہ کا مقصد یہ ہو کہ کسی حقدار کا حق باطل کیا جائے، یا کسی صریح فعل حرام کو اس کی روح برقرار رکھتے ہوئے اپنے لئے حلال کرلیا جائے تو ایسا حیلہ بالکل ناجائز ہے۔ مثلاً زکوٰة سے بچنے کے لئے بعض لوگ یہ حیلہ کرتے ہیں کہ سال کے ختم ہونے سے ذرا پہلے اپنا مال بیوی کی ملکیت میں دے دیا، پھر کچھ عرصہ کے بعد بیوی نے شوہر کی ملکیت میں دے دیا اور جب اگلا سال ختم ہونے کے قریب ہوا تو پھر شوہر نے بیوی کو ہبہ کردیا۔ اس طرح کسی پر زکوٰة واجب نہیں ہوتی، ایسا کرنا چونکہ مقاصد شرعیہ کو باطل کرنے کی ایک کوشش ہے، اس لئے حرام ہے اور شاید اس کا وبال ترک زکوٰة کے وبال سے زیادہ بڑا ہو۔ (روح المعانی از مبسوط سرخسی)
نامناسب کام پر قسم کھانا
تیسرا مسئلہ یہ معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص کسی نامناسب، غلط یا ناجائز فعل پر قسم کھالے تو قسم منعقد ہوجاتی ہے، اور اس کے توڑنے پر بھی کفارہ آتا ہے۔ ظاہر ہے کہ اگر اس صورت میں کفارہ نہ آتا تو حضرت ایوب ؑ کو یہ حیلہ تلقین نہ فرمایا جاتا، لیکن ساتھ ہی یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ کسی نامناسب کام پر قسم کھالی جائے تو شرعی حکم یہ ہے کہ اسے توڑ کر کفارہ ادا کردیا جائے۔ ایک حدیث میں آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے کہ۔
”جو شخص ایک قسم کھالے، پھر بعد میں اس کی رائے یہ ہو کہ اس قسم کے خلاف عمل کرنا زیادہ بہتر ہے تو اسے چاہئے کہ وہ وہی کام کرے جو بہتر ہو، اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کر دے“
Top