Maarif-ul-Quran - Saad : 46
اِنَّاۤ اَخْلَصْنٰهُمْ بِخَالِصَةٍ ذِكْرَى الدَّارِۚ
اِنَّآ : بیشک ہم اَخْلَصْنٰهُمْ : ہم نے انہیں ممتاز کیا بِخَالِصَةٍ : خاص صفت ذِكْرَى : یاد الدَّارِ : گھر ( آخرت کا)
ہم نے امتیاز دیا ان کو ایک چنی ہوئی بات کا وہ یاد اس گھر کی
فکر آخرت انبیاء کا امتیازی وصف ہے
ذکری الدار۔ اس کے لفظی معنی ہیں ”گھر کی یاد“ اور ”گھر“ سے مراد آخرت ہے۔ آخرت کے بجائے یہ لفظ استعمال کر کے تنبیہ کردی گئی ہے کہ انسان کو اپنا اصلی گھر آخرت ہی کو سمجھنا چاہئے اور اسی کی فکر کو اپنے افکار و اعمال کی بنیاد بنانا چاہئے۔ یہیں سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ فکر آخرت انسان کی فکری اور عملی قوت کو اور زیادہ جلا بخشتی ہے۔ بعض ملحدین کا یہ خیال بالکل بےبنیاد ہے کہ فکر آخرت انسان کی قوتوں کو کند کردیتی ہے۔
Top