Maarif-ul-Quran - Yaseen : 22
وَ مَا لِیَ لَاۤ اَعْبُدُ الَّذِیْ فَطَرَنِیْ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ
وَمَا : اور کیا ہوا لِيَ : مجھے لَآ اَعْبُدُ : میں نہ عبادت کروں الَّذِيْ : وہ جس نے فَطَرَنِيْ : پیدا کیا مجھے وَاِلَيْهِ : اور اسی کی طرف تُرْجَعُوْنَ : تم لوٹ کر جاؤ گے
اور مجھے کیا ہے کہ اس کی پرستش نہ کروں جس نے مجھے پیدا کیا اور اسی کی طرف تم کو لوٹ کر جانا ہے
بقیہ قصہ مرد صالح مشتمل برپندو نصائح برائے اصلاح قوم قال اللہ تعالیٰ وما لی لا اعبد الذی فطرنی۔۔۔ الی۔۔۔ وان کل لما جمیع لدینا محضرون۔ خلاصہء کلام یہ کہ منتہائے شہر سے ایک مرد صالح دوڑتا ہوا آیا اور اپنی قوم کو نصیحت کرنے لگا کہ تم مرسلین کی پیروی کرو کیونکہ یہ لوگ خود غرضی سے بالکلیہ پاک ہیں جو مانع اتباع ہے اس لئے کہ وہ تم سے کسی قسم کا معاوضہ نہیں مانگتے لا یریدون علوا فی الارض ولا فسادا کے مصداق کامل ہیں اور خود حق اور راہ راست پر ہیں اور تم کو بھی حق اور راہ راست کی دعوت دے رہے ہیں جو اتباع اور پیروی کا داعی اور مقتضی ہے اور میں نے تو حق کو پہچان لیا اور دل وجان سے ان کو قبول کرلیا اور جو بات میں نے اپنے لئے پسند کی ہے وہی تمہارے لئے پسند کرتا ہوں اور آخر مجھے کیا ہوا کہ حق واضح ہوجانے کے بعد تمہاری طرح شرک اور بت پرستی میں مبتلا رہوں اور کیا وجہ ہے کہ میں اس ذات کی عبادت نہ کروں جس نے مجھے پیدا کیا اور پردہ عدم سے نکال کر وجود کا خلعت مجھ کو پہنایا اور نیست سے ہست کیا ہم پر خالص حق اسی ذات کا ہے جس نے ہم کو پیدا کیا جس میں میں اور تم برابر ہیں ایک بندہ اور پروردہ اپنے آقا اور مربی سے کیسے آزاد ہوسکتا ہے بندہ پر حق ہے کہ وہ اپنے خالق کی بندگی کرے جس نے اس کو وجود بخشا اور پالا اور آخر کار اس چند روزہ زندگی کے بعد پھر تم کو جانا اور لوٹنا ہے اور اس کے سامنے پیش ہونا ہے کیا منہ دکھاؤ گے تم اس کے دائرہ حکومت سے نکل کر بھا گ نہیں سکتے وہی ہمارا مبدا ہے اور وہی ہمارا منتہا ہے تم ہر طرف سے گھرے ہوئے ہو بھاگنے کا کوئی راستہ نہیں فطرت کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنے خالق اور فاطر کے پیغام کو سنے اور اپنے مبد اور معاد کو پہچانے اسی وجہ سے حدیث میں آیا ہے کل مولود یولد علی الفطرۃ اور قرآن کریم میں ہے فطرۃ اللہ التی فطر الناس علیھا وہ انسان ہی کیا ہوا جسے اپنے خالق اور مربی سے انس نہ ہو۔ نکتہ : وما لی لا اعبد الذی فطرنی والیہ ترجعون اس مرد صالح نے بات اپنے اوپر رکھ کر قوم کو سنا دی اور والیہ ترجعون سے قوم کو خطاب کیا کہ اپنے مال اور انجام کی فکر کرو۔ یہ تو خالق کے مستحق عبادت ہونے کو بیان کیا اب آگے بت پرستی کا رد ہے کہ تمہارے یہ بت کسی طرح لائق عبادت نہیں کیا میں اپنے خالق اور فاطر کو چھوڑ کر ان بتوں کو اپنا معبود بنا لوں جو بالکل عاجز ہیں کہ باختیار خود اپنی جگہ سے جنبش بھی نہیں کرسکتے اور جن کی درماندگی اور عاجزی کی یہ کیفیت ہے کہ اگر خدائے مہربان اپنی کسی رحمت اور حکمت سے کسی وقت مجھے کسی تکلیف اور ضرر پہنچانے کا ارادہ کرے تو میرے لئے ان بتوں کی نہ تو کوئی سفارش کام آئے گی اور نہ یہ بت اپنی قدرت یا قوت سے مجھے اللہ کے عذاب سے چھڑا سکیں گے تحقیق میں ایسی حالت میں اگر ان کو معبود مان لوں تو صریح گمراہی میں جا پڑوں تم لوگ غور نہیں کرتے کہ تم کیسی صریح گمراہی میں مبتلا ہو میرے نصیحت کو گراں نہ جانو میں تمہارا صریح خیر خواہ ہوں تحقیق میں تمہارے پروردگار پر ایمان لے آیا ہوں جس نے تم کو پیدا کیا اور تم کو پرورش کرتا ہے پس تم میری بات سنو اور تم سبھی اپنے خالق اور پروردگار پر ایمان لے آؤ۔ (یا یہ معنی ہیں) کہ اگر تم ایمان نہیں لاتے تو تم میرا کلمہ ایمان سن لو اور میرے ایمان پر گواہ ہوجاؤ تاکہ تم دنیا اور آخرت میں میرے ایمان کی گواہی دے سکو۔ نکتہ : بربکم کے لفظ میں اشارہ اس طرف ہے کہ جو میرا خالق اور پروردگار ہے وہی تمہارا بھی پروردگار ہے پھر اس سے برگشتگی کی کیا وجہ پس جب مرد صالح نے اپنا کلام نصیحت التیام اس حد تک پہنچا دیا تو اہل قریہ سن کر غصہ میں جامہ سے باہر ہوگئے اور اس مرد صالح و ناصح پر ٹوٹ پڑے اور پتھروں سے یا گلا گھونٹ کر نہایت بےدردی سے اس کو مار ڈالا۔ اور بعض علماء سلف جیسے حسن بصری (رح) (ف 1) سے یہ منقول ہے کہ اہل قریہ اس مرد صالح کو ابھی قتل کرنے نہ پائے تھے اس کے مار ڈالنے کا ارداہ ہی کر رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو زندہ صحیح سالم آسمان پر اٹھا لیا اور اس کو یہ حکم ہوا کہ جنت میں داخل ہوجا دنیا کے جیل خانہ سے تو نکل آیا اب ہمارے مہمان خانہ میں قیام کر کما قال تاعلی یایتھا النفس المطمئنۃ ارجعی الی ربک راضیۃ مرضیۃ فادخلی فی عبادی وادخلی جنتی : جنت میں داخل ہونے کے بعد اس مرد صالح کو پھر اپنی قوم کی فکر ہوئی اور کہنے لگا کاش میری قوم جانتی کہ اللہ تعالیٰ نے ایمان اور انبیا کے اتباع کی برکت سے میری مغفرت کردی اور مجھ کو عزت اور کرامت والوں میں سے بنا دیا اگر میری قوم کو میرا حال معلوم ہوجائے تو وہ سب ایمان لے آئیں پس جب اہل قریہ مرسلین کی تکذیب کرچکے اور خدا کے ایک ولی کے قتل کے درپے ہوئے تو غضب الٰہی جوش میں آیا کہ ان سنگدلوں سے اس کا انتقام لیا جائے چناچہ فرماتے ہیں اور اس مرد صالح کے قتل کے بعد یا اس کے رفع الی السماء کے بعد یا تکذیب مرسلین کے بعد یا اس سارے ماجرے کے بعد ہم نے اس خبیث قوم سے انتقام لینے کے لئے آسمان سے فرشتوں کا کوئی لشکر نہیں اتارا اور نہ ہمیں اتارنے کی حاجت اور ضرورت تھی ان کا ہلاک کرنا کچھ مشکل نہ تھا کفار خواہ کتنے ہی کیوں نہ ہوں خدا کی نظر میں اس قدر ذلیل اور حقیر ہیں کہ ان کے ہلاک کرنے کے لئے آسمانی لشکر اتارنے کی ضرورت نہیں۔ یہ تفسیر عبد اللہ بن مسعود ؓ سے منقول ہے خدا تعالیٰ کے لئے تو آسمان اور زمین کا اور سارے عالم کا تباہ کرنا بھی مشکل نہیں ایک بستی کی تو حقیقت ہی کیا ہے اور اہل قریہ کے ہلاک کرنے کے لئے کچھ نہیں ہوا مگر صرف ایک چیخ کافی ہوئی چناچہ جبرئیل امین (علیہ السلام) نے یا کسی اور فرشتہ نے اس شہر کے کنارہ پر ایک چیخ ماری جس سے یکلخت سب کے سب تباہ اور برباد ہوگئے پس ناگاہ اسی وقت سب بجھے ہوئے ہوگئے جبرئیل (علیہ السلام) اور فرشتہ کی ایک کرخت آواز سے سب کے کلیجے پھٹے اور بجھی ہوئی آگ کی طرح سب ٹھنڈے ہوگئے اور حیات کی حرارت ختم ہوئی اور کوئی باقی نہ بچا خدا تعالیٰ دشمنوں سے اپنے دوستوں کا اس طرح انتقام لیتا ہے سن لو اور سمجھ لو مطلب یہ ہے کہ ہماری حکمت اور مصلحت اس بات کو مقتضی نہیں کہ کسی قوم کے ہلاک کرنے کے لئے آسمان سے فرشتوں کا کوئی لشکر اتاریں اور نہ ہمیں اس کی ضرورت تھی ہمارے نزدیک تو سارے جہان کا ہلاک کرنا بھی آسان ہے ہمارے نزدیک سب ہیچ اور ناچیز ہیں گذشتہ قوموں نے جب خدا کی نافرمانی کی اور پیغمبروں کا مقابلہ کیا تو خدا تعالیٰ نے کسی قوم کو ہوا سے تباہ کیا اور کسی قوم پر پتھر برسائے اور کسی قوم کو سخت آواز نے پکڑا اور کسی کو زمین میں دھنسایا اور کسی کو دریا میں غرق کیا۔ غرض یہ کہ گذشتہ قومیں اس طرح ہلاک کی گئیں، ان کے ہلاک کرنے کے لئے آسمان سے فرشتوں کا کوئی لشکر نازل نہیں کیا گیا۔ کما قال تعالیٰ فکلا اخذنا بذنبہ فمنہم من ارسلنا علیہ حاصبا ومنہم من اخذتہ الصیحۃ ومنہم من خسفنا بہ الارض ومنہم من اغرقنا۔ خدا تعالیٰ نے اس عالم کو عالم اسباب بنایا ہے اس لئے گذشتہ قوموں کے ہلاک کرنے کے لئے خدا تعالیٰ نے یہ اسباب پیدا کئے ورنہ خدا تعالیٰ کو تو اس کی بھی ضرورت نہ تھی وہ چاہتا تو دم کے دن میں سب کا دم نکل جاتا۔ اور جنگ بدر اور جنگ احزاب اور جنگ حنین میں فرشتوں کے جو لشکر اتارے گئے اس سے آنحضرت ﷺ کا اعزاز اور اکرام مقصود تھا یہ آپ ﷺ کی عظمت شان اور جلالت قدر کے اظہار کے لئے فرشتوں کے لشکر اتارے گئے نیز یہ معاملہ صحابہ کرام ؓ کی دلجوئی اور ان کی قدر افزائی کے لئے تھا ورنہ ابوجہل کا لشکر ہلاک کرنے کے لئے فرشتوں کے لشکر کی ضرورت نہ تھی غرض یہ کہ جنگ بدر اور جنگ احزاب میں فرشتوں کا لشکر اتارنا محض آنحضرت ﷺ کے شرف اور کرامت اور جلالت شان کو ظاہر کرنے کے لئے اور صحابہ کرام کی بشارت اور ان کی سکینت اور طمانینت کے لئے تھا کما قال تعالیٰ وما جعلہ اللہ الا بشری لکم ولتطمئن قلوبکم بہ وما النصر الا من عند اللہ ورنہ ہزار کافروں کے ہلاک کرنے کے لئے ایک فرشتہ بھی کافی تھا قوم لوط کی تمام بستیوں کو یکلخت اوپر سے نیچے پھینک دیا دیکھو تفسیر کبیر للامام الرازی (رح) ص 75 ج 7 وحاشیہ شیخزادہ علی تفسیر البیضاوی ص 127 ج 4۔ خلاصہ کلام یہ کہ جنگ بدر میں جو فرشتوں کا لشکر اتارا گیا اس سے قریش کے لشکر کو ہلاک کرنا مقصود نہ تھا بلکہ یہ آنحضرت ﷺ کی خصوصیت اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی کرامت تھی محض صحابہ کی تقویت قلوب کے لئے فرشتوں کا لشکر اتارا گیا اور کفار قریش صحابہ کرام کے ہاتھوں مارے گئے اور قید کئے گئے دیکھو روح المعانی ص 2 ج 23 و روح البیان ص 368 ج 7۔ اسی طرح سمجھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان اصحاب قریہ کی سرکشی اور شرارت کی سزا کے لئے فرشتوں کا کوئی لشکر نہیں اتارا اور نہ اس کی ضرورت تھی ایک تند آواز نے سب کا خاتمہ کر ڈالا فرشتہ کی ایک چیخ سب کی ہلاکت کے لئے کافی ہوئی۔ نکتہ : اور وما انزلنا علی قومہ من بعدہ من جند من السماء میں من بعدہ کی قید شاید اس لئے لگائی گئی تاکہ اشارہ ہوجائے کہ اگرچہ بعد میں بھی اس قسم کے لوگ ہوئے کہ جو اس قسم کے عذاب کے مستحق ہوئے مگر ہم نے اپنی رحمت سے ان کے ہلاک کرنے کے لئے آسمان سے کوئی لشکر نہیں اتارا اب آگے ان کے اس عمل بد پر اظہار افسوس تو کہاں ہے یہ وقت تیرے حاضر ہوجانے کا ہے تو حاضر ہو کر ان بندوں اور گندوں پر نازل ہوجا جو خدا کے نبیوں کی تکذیب اور استہزا میں اور خدا کے ولیوں کی تذلیل اور تحقیر میں کوئی کسر نہ چھوڑتے تھے۔ ان سرکشوں کا حال یہ ہے کہ نہیں آیا ان کے پاس کوئی رسول مگر اس کے ساتھ ٹھٹھا کرتے انبیا اور اولیاء کے ساتھ استہزاء اور تمسخر بھی ان کی حسرت کا سبب بنا پھر تعجب کی بات یہ ہے کہ یہ حاضرین گذشتہ امتوں کے حال بداعمال سے بھی عبرت نہیں پکڑتے اور نصیحت حاصل نہیں کرتے کیا ان لوگوں نے نہیں دیکھا اور نہیں جانا کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی قوموں کو تکذیب رسل اور ان کے ساتھ استہزا کی سزا میں غارت اور ہلاک کرڈالا اور باوجود اس کے پھر بھی تکذیب رسل اور ان کے ساتھ استہزا سے باز نہیں آتے کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ جو سرکش ہلاک کر دئیے گئے اور عذاب کی چکی میں پیس دئیے گئے اور ان کا قصہ ختم ہوا اب وہ لوٹ کر ان کی طرف نہیں آتے یعنی وہ پھر دنیا میں ان کے پاس نہیں آتے جو آکر لوگوں کو اپنا حال بتلائیں مرنے کے بعد کسی مردہ میں یہ قدرت نہیں کہ وہ باختیار خود عالم آخرت سے عالم دنیا میں دو چار گھنٹے ہی کے لئے آجائے اور جن مردوں کا دوبارہ زندہ ہونا قرآن اور حدیث سے ثابت ہے وہ محض اللہ کے حکم سے کسی حکمت کی بنا پر تھا باختیار خود نہ تھا اور کوئی نہیں مگر قیامت کے دن سب کے سب جمع کر کے ہمارے حضور میں حاضر کئے جائیں گے اور اپنے کئے کا بدلہ پائیں گے اور مجرم تو پابجولاں زنجیروں میں جکڑے ہوئے حاضر کئے جائیں گے اپنے انجام کو سوچ لیں۔
Top