Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
View Ayah In
Navigate
Surah
1 Al-Faatiha
2 Al-Baqara
3 Aal-i-Imraan
4 An-Nisaa
5 Al-Maaida
6 Al-An'aam
7 Al-A'raaf
8 Al-Anfaal
9 At-Tawba
10 Yunus
11 Hud
12 Yusuf
13 Ar-Ra'd
14 Ibrahim
15 Al-Hijr
16 An-Nahl
17 Al-Israa
18 Al-Kahf
19 Maryam
20 Taa-Haa
21 Al-Anbiyaa
22 Al-Hajj
23 Al-Muminoon
24 An-Noor
25 Al-Furqaan
26 Ash-Shu'araa
27 An-Naml
28 Al-Qasas
29 Al-Ankaboot
30 Ar-Room
31 Luqman
32 As-Sajda
33 Al-Ahzaab
34 Saba
35 Faatir
36 Yaseen
37 As-Saaffaat
38 Saad
39 Az-Zumar
40 Al-Ghaafir
41 Fussilat
42 Ash-Shura
43 Az-Zukhruf
44 Ad-Dukhaan
45 Al-Jaathiya
46 Al-Ahqaf
47 Muhammad
48 Al-Fath
49 Al-Hujuraat
50 Qaaf
51 Adh-Dhaariyat
52 At-Tur
53 An-Najm
54 Al-Qamar
55 Ar-Rahmaan
56 Al-Waaqia
57 Al-Hadid
58 Al-Mujaadila
59 Al-Hashr
60 Al-Mumtahana
61 As-Saff
62 Al-Jumu'a
63 Al-Munaafiqoon
64 At-Taghaabun
65 At-Talaaq
66 At-Tahrim
67 Al-Mulk
68 Al-Qalam
69 Al-Haaqqa
70 Al-Ma'aarij
71 Nooh
72 Al-Jinn
73 Al-Muzzammil
74 Al-Muddaththir
75 Al-Qiyaama
76 Al-Insaan
77 Al-Mursalaat
78 An-Naba
79 An-Naazi'aat
80 Abasa
81 At-Takwir
82 Al-Infitaar
83 Al-Mutaffifin
84 Al-Inshiqaaq
85 Al-Burooj
86 At-Taariq
87 Al-A'laa
88 Al-Ghaashiya
89 Al-Fajr
90 Al-Balad
91 Ash-Shams
92 Al-Lail
93 Ad-Dhuhaa
94 Ash-Sharh
95 At-Tin
96 Al-Alaq
97 Al-Qadr
98 Al-Bayyina
99 Az-Zalzala
100 Al-Aadiyaat
101 Al-Qaari'a
102 At-Takaathur
103 Al-Asr
104 Al-Humaza
105 Al-Fil
106 Quraish
107 Al-Maa'un
108 Al-Kawthar
109 Al-Kaafiroon
110 An-Nasr
111 Al-Masad
112 Al-Ikhlaas
113 Al-Falaq
114 An-Naas
Ayah
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48
49
50
51
52
53
54
55
56
57
58
59
60
61
62
63
64
65
66
67
68
69
70
71
72
73
74
75
76
77
78
79
80
81
82
83
84
85
86
87
88
Get Android App
Tafaseer Collection
تفسیر ابنِ کثیر
اردو ترجمہ: مولانا محمد جوناگڑہی
تفہیم القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی
معارف القرآن
مفتی محمد شفیع
تدبرِ قرآن
مولانا امین احسن اصلاحی
احسن البیان
مولانا صلاح الدین یوسف
آسان قرآن
مفتی محمد تقی عثمانی
فی ظلال القرآن
سید قطب
تفسیرِ عثمانی
مولانا شبیر احمد عثمانی
تفسیر بیان القرآن
ڈاکٹر اسرار احمد
تیسیر القرآن
مولانا عبد الرحمٰن کیلانی
تفسیرِ ماجدی
مولانا عبد الماجد دریابادی
تفسیرِ جلالین
امام جلال الدین السیوطی
تفسیرِ مظہری
قاضی ثنا اللہ پانی پتی
تفسیر ابن عباس
اردو ترجمہ: حافظ محمد سعید احمد عاطف
تفسیر القرآن الکریم
مولانا عبد السلام بھٹوی
تفسیر تبیان القرآن
مولانا غلام رسول سعیدی
تفسیر القرطبی
ابو عبدالله القرطبي
تفسیر درِ منثور
امام جلال الدین السیوطی
تفسیر مطالعہ قرآن
پروفیسر حافظ احمد یار
تفسیر انوار البیان
مولانا عاشق الٰہی مدنی
معارف القرآن
مولانا محمد ادریس کاندھلوی
جواھر القرآن
مولانا غلام اللہ خان
معالم العرفان
مولانا عبدالحمید سواتی
مفردات القرآن
اردو ترجمہ: مولانا عبدہ فیروزپوری
تفسیرِ حقانی
مولانا محمد عبدالحق حقانی
روح القرآن
ڈاکٹر محمد اسلم صدیقی
فہم القرآن
میاں محمد جمیل
مدارک التنزیل
اردو ترجمہ: فتح محمد جالندھری
تفسیرِ بغوی
حسین بن مسعود البغوی
احسن التفاسیر
حافظ محمد سید احمد حسن
تفسیرِ سعدی
عبدالرحمٰن ابن ناصر السعدی
احکام القرآن
امام ابوبکر الجصاص
تفسیرِ مدنی
مولانا اسحاق مدنی
مفہوم القرآن
محترمہ رفعت اعجاز
اسرار التنزیل
مولانا محمد اکرم اعوان
اشرف الحواشی
شیخ محمد عبدالفلاح
انوار البیان
محمد علی پی سی ایس
بصیرتِ قرآن
مولانا محمد آصف قاسمی
مظہر القرآن
شاہ محمد مظہر اللہ دہلوی
تفسیر الکتاب
ڈاکٹر محمد عثمان
سراج البیان
علامہ محمد حنیف ندوی
کشف الرحمٰن
مولانا احمد سعید دہلوی
بیان القرآن
مولانا اشرف علی تھانوی
عروۃ الوثقٰی
علامہ عبدالکریم اسری
معارف القرآن انگلش
مفتی محمد شفیع
تفہیم القرآن انگلش
سید ابو الاعلیٰ مودودی
Maarif-ul-Quran - Saad : 30
وَ وَهَبْنَا لِدَاوٗدَ سُلَیْمٰنَ١ؕ نِعْمَ الْعَبْدُ١ؕ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌؕ
وَوَهَبْنَا
: اور ہم نے عطا کیا
لِدَاوٗدَ
: داؤد کو
سُلَيْمٰنَ ۭ
: سلیمان
نِعْمَ الْعَبْدُ ۭ
: بہت اچھا بندہ
اِنَّهٗٓ
: بیشک وہ
اَوَّابٌ
: رجوع کرنے والا
اور ہم نے داؤد کو سلیمان عطا کئے بہت خوب بندے (تھے اور) رجوع کرنے والے تھے
قصہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) وبیان انابت الی اللہ مع حکومت وسلطنت وجملہ انعامات دنیویہ : قال اللہ تعالیٰ (آیت ) ” ووھبنا لداؤد سلیمن ....... الی ...... وحسن ماب “۔ گذشتہ آیات میں حضرت داؤد (علیہ السلام) کا واقعہ اور انکو دین ودنیا کی نعمتوں اور حق تعالیٰ کی طرف سے خلافت فی الارض کے اعزاز سے نوازے جانے کا ذکر تھا اس ضمن میں خلافت الہیہ کا مقصد اس کی ذمہ داریوں اور ذمہ داریوں کی تکمیل میں جو چیزیں حائل ہوتی ہیں ان کا بیان کرکے تخلیق کائنات کی حکمت کا ذکر تھا اور یہ کہ نیک وبد کا انجام یوم حساب میں سامنے آکر رہے گا اب اس آیات میں داؤد (علیہ السلام) کے فرزند حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا واقعہ بیان فرمایا جارہا ہے جو نبوت وسلطنت اور جملہ کمالات علمیہ وعملیہ کا حامل ہے حق تعالیٰ کے انعامات میں سے ایک عظیم انعام ہے اس سے بڑھ کر کسی پر کیا انعام ہوسکتا ہے کہ اس کو سلیمان (علیہ السلام) جیسا فرزند نصیب ہوا اور خود سلیمان (علیہ السلام) کا کس قدر عظیم رتبہ ہے کہ انکو دین ودنیا کے ہر اعزاز اور ہر طرح کی نعمت دونوں ہی کمالات و فضائل میں عجیب بلند مقام رکھنے والے تھے (آیت) ” ذلک فضل اللہ یؤتیہ من یشآء “۔ چناچہ ارشاد فرمایا اور عطا کیا ہم نے داؤد (علیہ السلام) کو سلیمان جیسا فرزند کیا ہی اچھے بندے تھے کہ خدا کی عبودیت و بندگی ان کی زندگی کا ذوق بنی ہوئی تھی بیشک وہ خد کی طرف بڑے ہی رجوع ہونے والے تھے چناچہ ان کا وہ قصہ ایک یادگار اور قابل ذکر قصہ ہے جب کہ ایک روز۔ 1 حاشیہ نمبر 1 (العشی لغت میں زوال کے بعد سے غروب تک وقت کے لیے اطلاق کیا جاتا ہے۔ شام کے وقت انکے سامنے اصیل اور عمدہ۔ 2 حاشیہ نمبر 2 (صافنات جمع صافن کی ہے بعض ائمہ لغت صافن بمعنی واقف بایں معنی عمدہ گھوڑے پر اطلاق کرتے ہیں کہ عمدہ گھوڑے اگلے قدم اٹھا کر پچھلے قدموں پر کھڑے ہوجاتے ہیں جو انکی انکی نجابت و عمدگی کی نشانی ہوتی ہے چناچہ ابو عبیدہ (رح) یہی بیان کرتے ہیں جہاد جمع جواد کی ہے تیز دوڑنے والے گھوڑے کو جواد کہتے ہیں بعض کا قول ہے کہ لمبی گردن کے گھوڑوں کو جیاد کہتے ہیں حافظ ابن کثیر (رح) (آیت ) ” حتی تو ارت بالحجاب “۔ کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ سلیمان (علیہ السلام) کا جہاد والے گھوڑوں کے ملاحظہ میں مشغول ہونا خود رحقیقت ایک عبادت تھا جس میں انہماک واشتغال سے نماز عصر کا فوت ہونا ایسا ہی ہوا جیسے آنحضرت ﷺ کے لئے غزوۂ احزاب میں پیش آیا تھا کہ سورج غروب ہوگیا اور نماز عصر نہ پڑھ سکے تو خدا کے پیغمبر سلیمان (علیہ السلام) کو یہ واقعہ غفلت سے الیعاذ باللہ۔ ہرگز نہیں پیش آیا بلکہ ایک عبادت میں انہماک واشتغال دوسری عبادت کے فوت ہونے کا ذریعہ بنا اس پر سلیمان (علیہ السلام) کے رنج وغصہ کی مثال آنحضرت ﷺ کے غزوۂ احزاب والے واقعہ میں وہ تھی جس کو حدیث نے بیان کیا کہ عمر فاروق ؓ آنحضرت ﷺ کے پاس آئے غروب شمس کے بعد اور کفار مکہ کو بددعائیں دیر ہے تھے کہ خدا ان کی ہلاک کرے یا رسول اللہ ﷺ میں عصر کی نماز نہ پڑھ سکا حتی کہ سورج غروب ہونے لگا آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ خدا کی قسم میں بھی نہیں پڑھ سکا اور آپ ﷺ نے یہ کلمات فرمائے ” ملأ اللہ بیوتھم وفی روایۃ بطونھم وقبورھم نارا حبسونا عن الصلوۃ الوسطی صلوۃ العصر : یعنی خدا تعالیٰ ان کے گھروں اور ان کی قبروں کو آگ سے بھر دے کہ انہوں نے ہمیں نماز عصر سے روکے رکھا تو یہاں اس قصہ میں سلیمان (علیہ السلام) کا رنج وغم اور غصہ اس طرح ظاہر ہوا کہ ان گھوڑوں کی کونچیں کاٹنے لگے یہی تفسیر اکثر ائمہ مفسرین نے اختیار کی ہے حافظ ابن کثیر (رح) (آیت ) ” وطفق مسحا “۔ کا ایک مفہوم بروایت علی عبد اللہ بن عباس ؓ سے یہ نقل کیا ہے کہ ان گھوڑوں کی گردنوں اور پنڈلیوں پر ہاتھ پھیرنے لگے جذبہ محبت اور مسرت کے ساتھ لیکن جمہور مفسرین نے اس تفسیر کو پسند نہیں فرمایا راجح قول یہی ہے کہ غم وغصہ میں ان کی گردنیں اور پنڈلیاں کاٹنے لگے۔ 12۔ ) تیز رو گھوڑے بغرض جہاد پیش کئے گئے اور ان کے دیکھنے میں اس قدر غالب تھا کہ اس امر کا خیال نہ رہا کہ وقت نکلا جارہا ہے اور ہیبت و جلال کے باعث کسی خادم کو اس بات کی جرأت نہ ہوئی کہ مطلع یا متوجہ کردے جونہی وقت کے فوت ہونے پر تنبہ ہوا تو چونک کر کہنے لگے افسوس میں تو مال کی محبت میں لگ کر اپنے رب کی یاد سے یعنی نماز ومعمول سے غافل ہوگیا یہاں کہ آفتاب پردہ میں چھپ گیا اور میری عصر کی نماز فوت ہوگئی اگرچہ جہاد کی تیاری اور جہاد کے لئے گھوڑوں کا معائنہ بھی عبادت ہے لیکن ایمان کے بعد نماز سے اور فرائض سے بڑھ کر کوئی عبادت نہیں اس وجہ سے نماز کے فوت ہونے کا دل پر بےصدمہ ہوا اور اس رنج و صدمہ کی کیفیت میں خدام کو حکم دیا کہ ان گھوڑوں کو میرے سامنے پھر آؤ چناچہ جب وہ لائے گئے تو ان گھوڑوں کی پنڈلیوں اور گردنوں پر تلوار سے ہاتھ صاف کرنا شروع کردیا یعنی اس ملال ورنج اور غصہ کی کیفیت میں سب کو ذبح کرنا شروع کردیا اگر یہ مال کی محبت نہ تھی بلکہ جذبہ جہاد کے باعث تھا مگر صورت ایسی واقع ہوگئی کہ اس کا یہ اثر ہوا خواص اور مقربین کی یہی شان ہوتی ہے کہ اگر بال برابر بھی فرق ہوجائے تو غم اور فکر و پریشانی کی حد نہیں رہتی۔ گرز باغ دل خلالے کم بود، بردل سالک ہزاراں غم بود۔ یہ بات ایسی ہی ہوتی ہے جس طرح ایک صحابی کو نماز میں اپنے باغ کا خیال آیا تو سلام پھیرتے ہی اس کو اللہ کی راہ میں صدقہ کردیا گیا گویا سلیمان (علیہ السلام) نے انکی اللہ کی راہ میں قربنی کر ڈالی اور ہوسکتا ہے کہ اس زمانہ میں گھوڑے کا گوشت حلال ہو یا اسکی قربانی درست ہو یا یہ عمل شدت غضب میں واقع ہوا ہو بہرکیف حضرت سلیمان (علیہ السلام) جیسے برگزیدہ پیغمبر کی غیرت ایمانی نے اس بات پر ان کو آمادہ کیا کہ جس مال کے معاینہ میں نماز ضائع ہوئی اور وہ مال ذکر خداوندی سے غفلت کا سبب بنا اس کو اس طرح ختم کردیا جائے یہ ایمانی غیرت اور ذکر خدا کی محبت کا یہ جوش اور غلبہ یقیناً قابل مدح واقعہ تھا اس وجہ سے اس واقعہ کو اس عنوان سے ذکر فرمایا گیا (آیت ) ” نعم العبد انہ اواب “۔ کہ کیا ہی اچھے بندے تھے کہ کیسے اللہ کی طرف انابت ورجوع والے تھے شوق جہاد اور جذبہ اعلاء کلمۃ اللہ اور قہر اعداء اللہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی عظیم منقبت اور فضیلت کا قصہ تو تھا ہی اسی کے ساتھ ایک دوسرا قصہ بھی ذکر فرمادیا گیا جو انکے ایک ابتلاء وآزمائش کا تھا اور وہ بھی اسی طرح ان کی عظمت وفضیلت کی ایک عظیم نشانی ہے اور یہ دونوں قصے انکے صبر و استقامت کا کامل ترجمانی کرنے والے ہیں اس لحاظ سے گویا داؤد (علیہ السلام) کا جو ایک خاص رنگ (آیت) ” واصبر علی مایقولون “۔ کا تھا وہ اس وراثت نسبی کے ساتھ سلیمان (علیہ السلام) کو بطور وارثت کمالات نبوت کے عطا کردیا گیا۔ فرمایا اور بیشک ہم نے سلیمان (علیہ السلام) کو ایک اور طرح سے بھی آزمایا اور ان کے تخت پر لا ڈالاایک ناتمام دھڑ جس سے وہ سمجھ گئے اور متنبہ ہوئے کہ یہ تو میرا امتحان کیا گیا اور اسی ندامت و پریشانی کی حالت میں پھر ہماری طرف رجوع کیا اور تضرع وزاری کے ساتھ بارگاہ خداوندی میں دعا مانگنے لگے کہ میرے پروردگار میرا قصور معاف کردیجئے جو ہم سے واقع ہوا اور آیندہ کے لئے مجھ کو ایسی سلطنت عطا کر دیجئے جو میرے بعد کسی کو لائق وزیبا نہ ہو بیشک تو ہی بڑا دینے والا ہے کہ جو چاہے عطا فرما دے تیری بارگاہ میں نہ دعا کی قبولیت کوئی دشوار کام ہے اور نہ وہ چیز عطا کرنا دشوار ہے جو مانگی ہے پس ہم نے ان کی دعا قبول کرتے ہوئے تابع کردیا ان کے ہوا کو وہ چلتی نرمی کے ساتھ جہاں وہ جانا چاہتے تو اس نعمت سے گھوڑوں سے مستغنی ہوگئے جن میں وہ جذبہ جہاد کی وجہ سے مصروف ومنہمک ہوئے تھے اور اس انہماک واشتغال میں نماز کا وقت فوت ہوگیا تھا اور اس کے بعد رنج وغصہ میں ان کی کونچیں کاٹ ڈالی تھیں اور جنات و شیاطین کو بھی ان کے واسطے مسخر کردیا جو ہر عمارت بنانے والے اور سمندروں میں غوطہ لگانے والے تھے کہ سلیمان (علیہ السلام) کا حکم پاتے ہی بڑی سے بڑی عمارتیں بنا ڈالیں اور سمندروں میں گھس کر ان کا حکم بجالائیں اور بہت سے اور ایسے جن بھی ان کے واسطے مسخر کردیئے جو زنجیروں میں جکڑے رہئے جو ان میں سے بعضوں کے تمرد اور سرکشی کی سزا بھی ہوئی یہ سب کچھ دے کر ہم نے سلیمان (علیہ السلام) سے کہہ دیا تھا اے سلیمان (علیہ السلام) یہ ہے ہماری عطا کو ہوائیں اور جن بھی تمہارے تابع کردیئے گئے جو دنیا کے کسی بھی بڑے سے بڑے بادشاہ کو حاصل نہیں ہوسکی اب تم جس کو چاہو اس میں سے دو یا جس سے چاہو روک لو بغیر اس کے کہ تم سے اس کا کوئی حساب وسوال ہو اور بیشک ان تمام نعمتوں کے علاوہ سلیمان (علیہ السلام) کے لئے ہمارے یہاں ایک خاص قرب کا مقام اور بہترین ٹھکانہ ہے جو قیامت کے روز ظاہر ہوگا اور اس مقام قرب اور اخروی نعمتوں کے سامنے ظاہر ہے کہ یہ ملک سلیمانی بھی اور دنیا میں حاصل شدہ نعمتیں ہیچ اور حقیر ہیں کیونکہ دنیا کی بڑی سے بڑی نعمت بھی آخرت کی معمولی نعمت کے مقابلہ میں کوئی حقیقت نہیں رکھتی (آیت ) ” تو ارت بالحجاب “۔ کا عنوان اس بات کی صراحت کر رہا ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے اس معاینہ کے وقت اتنا وقت گزرا کہ سورج غروب ہوچکا تھا اس کے بعد سورج کے دوبارہ طلوع ہوجانے کا بعض مفسرین نے ذکر کیا ہے لیکن کسی سند سے اس کا ثبوت نہیں بعض مفسرین نے بیان کیا کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لیے سورج کو لوٹایا جانا ایسا ہی تھا جیسا حضرت یوشع (علیہ السلام) کے لئے لوٹایا گیا اسماء بنت عمیس ؓ کی روایت میں آنحضرت ﷺ کے لیے بھی نماز عصر فوت ہوجانے کے بعد سورج لوٹانے کا ذکر ہے مقام صہبا میں جو خیبر کے قریب ایک جگہ ہے ابن الجوزی (رح) نے اس کو موضوعات میں شمار کیا ہے حافظ ابن تیمیہ (رح) نے بھی اس روایت کو رد کیا اور بیان کیا کہ یہ روایت روافض کی وضع کردہ حدیث ہے غزوۂ احزاب میں آنحضرت ﷺ کی نماز عصر فوت ہوجانا احادیث صحیحہ سے ثابت ہے جیسا کہ ارشاد ہے ملأ اللہ تعالیٰ قبورھم وبطونھم نارا شغلونا عن الصلوۃ الوسطی صلوۃ العصر رد شمس غزوۂ احزاب میں بھی ثابت نہیں صحیحین میں حضرت جابر ؓ کی روایت میں تصریح ہے آنحضرت ﷺ اور صحابہ ؓ نے یہ نماز غروب کے بعد ادا کی۔ بہرحال حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے قصہ میں سورج کی واپسی کا واقعہ صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہے تفصیل کیلئے تفسیر ابن کثیر (رح) اور تفسیر روح المعانی ملاحظہ فرمائیں۔ تفصیل ابتلاء سلیمان (علیہ السلام) : ان آیات میں ابتداء حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی فضیلت ومنقبت اس طرح بیان کی گئی کہ حق تعالیٰ نے انکو حضرت داؤد (علیہ السلام) کی وراثت سے نوازا اور ظاہر ہے کہ حق تعالیٰ نے داؤد (علیہ السلام) کو کمالات نبوت اور علم وفضل تقوی اور انابت الی اللہ کی جو عظیم خصوصیات عطا کی تھیں ان ہی میں وراثت دنیا مراد ہوسکتا ہے ان کمالات کے ساتھ جو انعام خلافت وسلطنت کا داؤد (علیہ السلام) کو عطا کیا گیا تھا ظاہر ہے کہ انعام کی اس دوسری نوع میں سلیمان (علیہ السلام) کو داؤد (علیہ السلام) کی وارثت سے نوازنا مراد ہے تو اس سلسلہ میں پہلے ان کی یہ فضیلت بیان کی گئی کہ شوق جہاد میں اس قدر انہماک تھا کہ گھوڑوں کا معاینہ کررہے ہیں مگر ساتھ ہی شوق عبادت کا یہ مقام ہے کہ اگر اس میں اشتغال وانہماک سے نماز ضائع ہوگئی تو ان گھوڑوں کی کونچیں کاٹنے لگے جن کی وجہ سے یہ بات پیش آئی انبیاء (علیہم السلام) کے لیے ایسا کوئی واقعہ جس کے باعث کسی بھی حیثیت سے کوئی چیز ان کے بلند ترین مقام سے کچھ کم ہو یا انکے خشیت وتقوی کے مدارج سے گری ہوئی ہو وہ چیز ایک طرح سے ابتلاء کا درجہ رکھتی ہے اگرچہ نہ وہ نقصیر ہوئی ہے اور نہ کچھ امر اور حکم کا ترک یا خلاف ورزی ہوتی ہے لیکن بایں ہمہ وہ واقعہ ان کی عظمتوں اور کمالات کی مزید بلندی کا باعث ہوتا ہے اسی طرح یہ بات بھی تھی تو اس واقعہ کے ساتھ دوسرا ایک واقعہ بھی بیان فرما دیا گیا جس کو (آیت ) ” ولقد فتنا سلیمان والقینا علی کرسیہ جسدا “ سے ذکر فرمایا گیا۔ سلیمان (علیہ السلام) کا یہ ابتلاء کیا تھا اور وہ کون سا واقعہ تھا جس کو ابتلاء کے عنوان سے یہاں بیان کی جارہا ہے، قرآن کریم نے تو اس کی کوئی وضاحت و تفصیل نہیں کی اور نہ کسی صحیح اور نہ کسی صحیح حدیث میں خاص طور سے اس ابتلاء کو معین وواضح کیا گیا۔ بالعموم اس سلسلہ میں جو قصے مشہور ہیں وہ قطعا باطل اور لغو ہیں اور حضرت داؤد (علیہ السلام) کے ابتلاء کے واقعہ کی طرح یہ قصے بھی اسرائیلیات سے ماخوذ ہیں جن کو یہودیوں نے وضع کیا اور من گھڑت افسانوں اور کہانیوں سے زیادہ ہرگز کوئی درجہ نہیں رکھتے حافظ ابن کثیر (رح) اور علامہ آلوسی (رح) نے ان اکاذیب باطلہ میں سے بعض کو بیان کیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے ایک روز جب بیت الخلاء جانے کا ارادہ کیا تو وہ انگشتری جس پر اسم اعظم لکھا ہوا تھا اپنی ایک بیوی جو ان کی بیویوں میں ان کو زیادہ محبوب اور معتمد تھی دے گئے یا اپنی کسی خادمہ کو اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی حکومت جن وانس پر اسی انگشتری اور اس پر اسم اعظم کی وجہ سے تھی انکے بیت الخلاء جانے کے بعد کوئی شیطان یا ایک جنی صخر نامی سلیمان (علیہ السلام) کی شکل میں ظاہر ہوا اور وہ انگوٹھی لے چلا گیا اور تخت سلیمان پر جا بیٹھا اور حکمرانی شروع کردی اور اس طرح سلیمان (علیہ السلام) کی سلطنت اور نبوت دونوں چیزیں ختم ہوگئیں سلیمان (علیہ السلام) جب فارغ ہو کر واپس آئے اور اپنی انگوٹھی مانگی تو اس سے کہا میں تو سلیمان (علیہ السلام) کو وہ انگشتری دے چکی تو یا سلیمان (علیہ السلام) کی شکل و صورت بھی متغیر ہوگئی اور ان کی بیوی نے اب ان کو پہنچانا بھی نہیں تو سلیمان (علیہ السلام) بولے میں ہی تو سلیمان (علیہ السلام) ہوں بیوی نے کہا تم غلط کہتے ہو تم ہرگز سلیمان (علیہ السلام) نہیں ہو اسی طرح جس کسی شخص کے سامنے سلیمان (علیہ السلام) جاتے وہ نہ پہچانتا کہ یہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) ہیں اور انکی سلطنت وحکمرانی سب ختم ہوگئی اور انکے تخت پر یہ جنی آبیٹھا ان قصہ نگاروں نے بیان کیا کہ اسی کو الفاظ (آیت ) ” والقینا علی کرسیہ جسدا “۔ میں بیان کیا گیا ہے اور یہی وہ فتنہ ہے جس میں انکو مبتلا کیا گیا ان احوال کو دیکھ کر سلیمان (علیہ السلام) بہت گھبرائے اور دعا و استغفار اور تضرع وزاری کے ساتھ اللہ رب العزت کی طرف متوجہ ہوئے اسی توجہ کو (آیت) ” ثم اناب “ میں بیان کیا جارہا ہے چالیس روز کی مدت اسی طرح گزر گئی یہاں تک کہ ایک روز سمندر کے کنارے جب کہ سلیمان (علیہ السلام) مزدور کے طور پر وہاں کام کررہے تھے اور ایک شخص نے مچھلی خریدی تھی جس کو اٹھا کر اس کے گھر تک لے جارہے تھے تو اس نے وہی مچھلی بطور اجرت حمالی ان کو دے دی انہوں نے جب اس مچھلی کو چیرا تو اس کے پیٹ سے وہ انگشتری نکل آتی اور یہ مچھلی وہ تھی جس نے اس دیو کے ہاتھ سلیمان (علیہ السلام) کی انگشتری جب سمندر میں گرگئی تھی اس کو نگل لیا تھا تو وہ انگشتری سلیمان (علیہ السلام) کے پاس آتے ہی پھر حسب سابق ان کی سلطنت لوٹ آئی اور جن وانس ان کے مطیع ہوگئے اور سلطنت کے ساتھ نبوت کے احکام بھی جاری کرنے لگے ” العیاذ باللہ ثم العیاذ باللہ۔ یہ تمام داستان اور یاہ کے قصہ کی طرح بےہودہ لغو اور یہودیوں کی گھڑی ہوئی داستان ہے ان ہی یہودیوں کی جو سلیمان (علیہ السلام) کے بارے میں یہ مشہور کرتے تھے کہ وہ ساحر (جادوگر) ہیں جس کی تردید قرآن کریم نے (آیت) ” وما کفر سلیمان ولکن الشیطین کفروا یعلمون الناس السحر “۔ میں کی ہے کہ یہود خود سحر اور جادو جیسے کفر یہ عمل کرتے اور دوسروں کو بھی جادو سکھایا کرتے تھے سلیمان (علیہ السلام) تو ہز گز ایسے کفر کا ارتکاب نہیں کرسکتے تھے یہ قصہ یا اس طرح کے دوسرے مختلف بیان کردہ قصے نہ عقلا قابل تصور ہیں اور نہ ہی اصول شریعت سے ان کا امکان ہے بلکہ انبیاء (علیہم السلام) کے بارے میں ایسی چیزوں کا اعتقاد کفر ہے کیونکہ انبیاء معصوم ہوتے ہیں اور ان کی عصمت و حفاظت لازمہ نبوت ہے اور نبوت اللہ کی عطا کردہ ہوتی ہے یہ کیسے ممکن ہے کہ اللہ رب العزت کی عطا کردہ نبوت اور ایسے نبی کو اللہ ہی کی طرف سے عطا کردہ سلطنت کوئی جن سلیمان (علیہ السلام) کی شکل بنا کر درہم برہم کرڈالے اور صرف اتنی دیر میں کہ وہ بیت الخلاء گئے اور وہ دیو آکر تخت سلیمانی پر حکمرانی کرنے لگے کسی جن اور شیطان کو یہ قدرت ہی نہیں ہوسکتی کہ وہ پیغمبر کی شکل میں متشکل ہو کر لوگوں کو دھوکہ دے دے۔ آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے ” من رانی فی المنام فقد رانی فان الشیطان لایتمثل بی “۔ کہ جس کسی نے مجھے خواب میں دیکھا تو اس نے درحقیقت مجھے ہی دیکھا کیونکہ شیطان کو یہ قدرت نہیں کہ میری شکل بنا کر خواب میں کسی کے سامنے آجائے تو اس حدیث سے ظاہر ہوا کہ مقام نبوت کی عظمت وبلندی کا تو یہ عالم ہے کہ خواب میں بھی کسی مسلمان کے سامنے کوئی جن یا شیطان پیغمبر کی صورت بنا کر ظاہر نہیں ہوسکتا تو یہ کیونکر ممکن ہے کہ ایک دیو سلیمان (علیہ السلام) کی شکل بنا کر آگیا اور ایک آن میں سلیمان (علیہ السلام) کا تخت سلطنت اور کارہائے نبوت پر قابض ہوگیا۔ سلیمان (علیہ السلام) کے ابتلأ کی حقیقت : سلیمان کے اس ابتلاء کی حقیقت اور اس قصہ کی اصل تفسیر وتشریح صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی اس حدیث سے جو ابوہریرہ ؓ سے روایت سے معلوم ہوتی ہے جس کا مضمون یہ ہے کہ سلیمان (علیہ السلام) نے (جو جذبہ جہاد میں سرشار تھے اور اسی جذبہ میں گھوڑوں کا معاینہ بھی کررہے تھے جس میں سورج غروب ہوگیا تھا اور نماز فوت ہوگئی تھی) ایک روز یہ کہا کہ میں آج رات اپنی بیویوں پر گشت کروں گا جن کی تعداد سو تھی اور اس قربت کی وجہ سے ہر ایک عورت بچہ جنے گی اور ہر بچہ جوان ہو کر اللہ کی راہ میں مجاہد بنے گا فرشتہ نے ان کے اس کہنے کے وقت القاء کیا کہ انشاء اللہ کہہ لو مگر سلیمان (علیہ السلام) انشاء اللہ کہنا بھول گئے مقربین کا مقام اس قدر بلند ہوتا ہے کہ ان کی ایسی لغزش اور چوک بھی اللہ کی طرف سے باعث تنبیہ و گرفت ہوجاتی ہے تو اس چوک پر اس طرح متنبہ کیا گیا کہ کوئی بھی ان میں سے حاملہ نہ ہوئی بجز ایک کے اور اس ایک حاملہ بیوی نے بھی جو بچہ جنا وہ بھی ادھورا ناتمام تھا بغیر ہاتھ پاؤں کا یہ جسم (دھڑ) تخت پر لاڈالا گیا اسی کو فرمایا گیا (آیت ) ” والقینا علی کرسیہ جسدا “ کہ ہم نے سلیمان (علیہ السلام) کے تخت پر ایک ناتمام جسم (جسد) لاکر ڈال دیا فورا ہی چونک گئے اور سمجھ گئے کہ یہ میری اس چوک پر گرفت اور تنبیہ ہوئی ہے کہ میں نے انشاء اللہ نہیں کہا تھا حالانکہ پیغمبر کا مقام تو بہت عالی اور بلند ہوتا ہے ہر ایمان رکھنے والے شخص کو بھی ہر بات اللہ ہی کی قدرت اور اس کے ارادہ کی طرف حوالہ کرنی چاہیے اور یہ اعتقاد باطن میں ایسا راسخ ہونا چاہئے کہ کسی کام میں بھی اس بات کے تلفظ کو بھی فراموش نہ کرے تو سلیمان (علیہ السلام) فورا ہی متنبہ ہو کر خدا کی طرف استغفار کے ساتھ رجوع ہوئے اور بےقراری کے عالم میں زبان سے یہ دعا نکلی۔ (آیت ) ” رب ھب لی ملکا لا ینبغی لاحد من بعدی انک انت الوھاب “۔ اے پروردگار تو مجھے ایک ایسا ملک (سلطنت) عطا فرما دے جو میرے بعد کسی کو نصیب نہ ہوتا کہ نہ گھوڑوں کے معاینہ کی فکر رہے اور نہ ایسا واقعہ پیش آئے کہ ان کے معاینہ میں نماز فوت ہوجائے اور نہ ہی جذبہ جہاد میں مجاہد بیٹوں کا شوق رہے کہ اس میں کسی چوک ولغزش میں مبتلا ہوجاؤں بلکہ ایسی بادشاہی طاقت وقدرت عطا کر دے کہ ان تمام اسباب ووسائل اور ان کی فکر و تشویش سے بےنیاز ہوجاؤں تو جذبہ اخلاص وانابت سے کی ہوئی یہ دعا بارگاہ رب العزت سے قبول کی گئی اور اس قبولیت کے باعث (آیت) ” فسخرنا لہ الریح “۔ الخ ہوائیں انکے تابع کردی گئیں کہ جہاں چاہیں، ہوا ان کو پہنچا دے اب ان کو گھوڑوں کی ضرورت نہ رہی سلیمان (علیہ السلام) کو فکر لگی ہوئی تھی کہ برق رفتار گھوڑوں کو مرتب کریں اس سے بڑھ کر خدا نے ان پر یہ انعام فرمایا کہ ہوا بھی ان کے واسطے مسخر کردی گئی کہ ہوائیں ان کو اڑائے پھرتیں۔ اور مجاہدین کا شوق اور جذبہ تھا کہ ہر بیوی ایک لڑکا جنے جو اللہ کی راہ میں مجاہد ہو سو اس شوق اور آرزو کی تکمیل اس طرح کی دی کہ شیاطین وجنات کو ان کے واسطے مسخر کردیا یعنی ہر عمارت بنانے والے اور غوطہ لگانے والے کو ان کے حکم کے تابع کردیا جو بڑی سے بڑی عمارتیں اور قلعے تیار کرلیں اور سمندروں میں بھی کود پڑیں اس لیے اب ایسی فوج عطا ہونے کے بعد اس آرزو اور جستجو کی ضرورت نہ رہی کہ اولاد کی ولادت سے مجاہدین کی جماعت تیار ہو۔ اور بہت سے دوسرے جنوں کو بھی ان کے واسطے مسخر کردیا جو زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے یعنی جنات میں وہ جماعت جو مقاصد حسنہ اور دینی کاموں میں کام آنے والی تھی وہ تو ان کے حکم کے مطابق خدمات میں مصروف کردیئے گئے اور جنات سے جو سرکش ومفسد تھے ان کو زنجیروں میں جکڑ کر قید کردیا گیا تھا تاکہ وہ کسی قسم کا تمرد اور سرکشی نہ کرسکیں یہ سب کچھ عطا کرنے کے بعد ہم نے سلیمان (علیہ السلام) سے کہہ دیا کہ اے سلیمان یہ ہے ہماری عطا اور سلطنت وحکمرانی جو تم کو دی ہے اب اس میں تم جس کو چاہو دو یا جس سے چاہو روک لو تمہیں ان سب چیزوں کا حق اور اختیار دیا جارہا ہے جس کا تم سے کوئی حساب نہیں نہ دنیا میں اس پر کوئی محاسبہ ہوسکے گا کہ کسی کی ماتحتی کے باعث کوئی تم سے محاسبہ یا کسی چیز پر مواخذہ کرسکے اور نہ آخرت میں اس کا کوئی حساب ہوگا کیونکہ ان سب نعمتوں کا تم کو مالک بنادیا گیا اور مالک اپنی ملکیت میں ہر طرح تصرف کا مجاز ہے اور بلاشبہ سلیمان (علیہ السلام) کے لئے ہمارے یہاں بہت بڑا قرب کا مقام اور بہترین ٹھکانہ ہے کہ دنیا میں ان نعمتوں سے نوازا گیا اور آخرت میں قرب خاص عطا کیا گیا۔ غرض ان آیات میں جو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے قصہ پر مشتمل ہیں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی فضیلت چند وجوہ سے بیان فرمائی گئی سب سے پہلے تو یہ کہ داؤد (علیہ السلام) جیسے جلیل القدر پیغمبر کو ایسے بہترین فرزند کی عطا سے نوازا گیا جو اپنی ذات میں بڑی ہی خوبیوں والے تھے ان کا نشان اور زندگی کا شعار خدا کی طرف رجوع وانابت تھا خدا کی طرف انابت ورجوع کی کی یہ شان تھی کہ ہمہ وقت اللہ کے دین کی اشاعت وسربلندی کی فکر تھی اعلاء کلمتہ اللہ کے لیے جہاد کی فکر ہے اس میں گھوڑوں کا معاینہ ہورہا ہے اس انہماک میں نماز کا وقت نکل جاتا ہے تو غم وغصہ سے ان گھوڑوں کی کونچیں ہی کاٹی جارہی ہیں اسباب جہاد کی فکر کے ساتھ کبھی مجاہدین کا فکر ہے اور اس جذبہ میں کبھی یہ سوچتے ہیں کہ میری تمام بیویوں کی قربت سے اولاد پیدا ہو تو سب اللہ کی راہ میں شہسوار ومجاہد بنیں اسی انہماک میں ” انشاء اللہ “ کہنے کا خیال نہیں رہا تو مقام نبوت کی عظمت و بلندی کے پیش نظریہ کچھ گری ہوئی بات تھی فورا ہی اس طرح متنبہ کیا گیا کہ صرف ایک ہی بیوی سے ناتمام بچہ پیدا ہوا جس کو ان کے سامنے تخت پر لاکرڈال دیا گیا فورا ہی چونکے اور تضرع دزاری سے اللہ سے دعائیں مانگنے لگے کہ اے اللہ میرا یہ قصور معاف کردے اور جن جذبات کے باعث یہ بات واقع ہوئی اس کے پیش نظر دہ ملک وسلطنت عطا فرمادے جو میرے بعد کسی کو نصیب نہ ہو تو اسکی قبولیت میں ان کے لیے ہوائیں مسخر کردی گئیں جن کے مقابلہ میں گھوڑوں کی کوئی حقیقت نہیں اور جنات مسخر کردئیے گئے کہ ان کے سامنے سو مجاہد انسانوں کی کوئی طاقت نہیں۔ تو ان آیات کی یہ تفسیر حدیث صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی بنا پر الحمد للہ وہ تفسیر ہے جس کی بنا پر حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی وہ عظمت بھی ظاہر ہوجاتی ہے جو داؤد (علیہ السلام) کو سلیمان (علیہ السلام) جیسا فرزند ہبہ کیئے جانے کے باعث ہے پھر یہ کہ انکا شوق جہاد اور اعلاء کلمۃ اللہ کا جذبہ کس قدر بلند تھا اور اسی جذبہ کے باعث ایک ابتلاء وآزمائش بھی پیش آگئی جس سے ان کا مزید انابت الی اللہ کا درجہ معلوم ہوگیا اور ان ہی عظمتوں، فضیلتوں کا یہ نتیجہ وثمرہ ہوا کہ ان کے واسطے ہوائیں اور جنات مسخر کردیئے تو ان تمام وجوہ فضائل کے ساتھ ان واقعات کے اجزاء میں باہمی ربط ومناسبت بھی بخوبی ظاہر ہوجائے گی برخلاف من گھڑت ان واقعات اور کہانیوں کے جن کا عقلا اور شرعا خدا کے برگزیدہ پیغمبروں سے ہرگز کوئی تعلق نہیں ہوسکتا اور یہ بھی معلوم ہوگیا کہ یہ دعا دنیا کی کسی نعمت یا سلطنت وجاہ کی طلب نہ تھی بلکہ یہ صرف اس غرض سے تھی کہ جتنے بھی آدمی میری دعوت وتبلیغ سے دین میں داخل ہوں گے وہ میرے اجر وثواب کا ذریعہ ہوگا۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی دعاء رب ھب لی الخ : انبیاء (علیہم السلام) کے احوال وخصا ئص جو قرآن کریم اور نصوص شریعت سے واضح ہوتے ہیں ان سے یہ بات ثابت ہے کہ انبیاء کرام جو چیز مانگتے ہیں وہ خدا کی اجازت اور اس کی منشاء معلوم ہونے پر مانگتے ہیں اس امر کا ثبوت نہیں ملتا کہ بغیر اذن خداوندی کسی چیز کی درخواست کرتے ہوں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے جو دعا (آیت) ” رب لا تذر علی الارض من الکفرین دیارا “۔ مانگی تھی وہ اگرچہ عین منشاء خداوندی کے مطابق تھی اور مجرمین وباغیوں کی عذاب خداوندی سے سرکوبی جو عین حکمت الہیہ ہے اسی کی ترجمان تھی مگر صرف اس وجہ سے کہ صریح طور پر ایسی دعا کی وحی نہیں آئی تھی تو مدت العمر اس پر نادم رہے اور یہ ندامت روز قیامت تک ایسی باقی رہے گی کہ اس کے باعث بارگاہ خداوندی میں شفاعت کرنے سے شرمائیں گے اس لیے ظاہر یہی ہے کہ غیبی طور سے اللہ نے انکے قلب پر اس بات پر مطمئن کردیا ہو کہ اے سلیمان (علیہ السلام) اگر تو تم یہ دعا مانگو تو تمہاری یہ دعا قبول کرلی جائے گی لہذا انہوں نے یہ دعا کی اور وہ بارگاہ رب العزت سے قبول کرلی گئی اس درخواست کو محض قبولیت کے درجہ میں نہیں بیان کیا گیا بلکہ سلیمان (علیہ السلام) کی مدح وثناء کے طور پر بیان کیا۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے وقت میں بڑے بڑے جبار اور متکبر بادشاہ تھے اور حق تعالیٰ کی سنت یہی ہے کہ پیغمبر جس زمانہ میں مبعوث ہوا اس کی مناسبت سے عصا اور ید بیضاء کا معجزہ دیا گیا تو اس لحاظ سے سلیمان (علیہ السلام) کو یہ سلطنت عطا کی جو درحقیقت معجزہ تھی اس سے مقصود سلطنت وبادشاہت نہیں بلکہ تبلیغ دین اور مخلوق خدا کی اصلاح وہدایت تھی یہی وجہ ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) اپنے آپ کو مسکین کہا کرتے تھے تاریخی روایات سے یہ بھی ثابت ہے کہ سلیمان (علیہ السلام) اپنی ذات کے لیے سلطنت وبادشاہت سے کسی ادنی درجہ کا بھی انتفاع نہ کرتے حتی کہ ان کا گزران معاش زنبیل سازی بیان کی گئی گویا مزدوری کرکے اپنا کفاف مہیا کرتے۔ فائدہ : انسان فطری طور سے کمزور واقع ہوا ہے اکثر نعمتوں اور راحتوں میں یاد خدا سے کچھ نہ کچھ غفلت ہوجاتی ہے تو اس پہلو کے لحاظ سے بھی ان کو مطمئن کردیا گیا کہ سلیمان (علیہ السلام) کے واسطے ہمارے یہاں بہت ہی بلند واعلیٰ مقام قرب کا ہے اور اخروی انعامات سے اس قدر نوازا گیا کہ دنیوی نعمتیں اور سلطنت وبادشاہت کسی درجہ میں بھی حجاب یا غفلت کا سبب نہیں بن سکے گا ، حضرت والد صاحب مولانا محمد کاندھلوی (رح) کے قلم مبارک سے لکھی ہوئی ایک عبارت جو حکیم الامت مولانا تھانوی (رح) کے وعظ تعلیم العلم سے اقتباس ہے ملی دعا، (آیت) ” رب ھب لی ملکا لا ینبغی “۔ کی تفسیر میں فرمایا قولہ تعالیٰ (آیت ) ” رب ھب لی ملکا لا ینبغی لا حد من بعدی “۔ مولانا رومیرحمۃ اللہ علیہ اسکی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ ظاہرا اس سے حرص وحسد کا شبہ ہوتا ہے مگر واقع میں یہ ضعفاء کے حق میں ہے انہوں نے اس دعا میں عین رحمت فرماتی جس کی توجیہ یہ ہے کہ (آیت) ” من بعدی “۔ میں بعد یت زمانیہ مراد نہیں بلکہ بعدیت رتبیہ مراد ہے مطلب یہ ہے کہ مجھ کو ایسا ملک عطا فرما کہ جو مجھ سے کم درجہ والوں کے لیے مناسب نہ ہو کیوں کہ وہ ایسی سلطنت مل جانے سے کفر اور تکبر میں مبتلا ہوجائیں گے اب اس تفسیر پر حضور ﷺ کے متعلق کچھ اشکال نہیں ہوسکتا کیونکہ آپ ﷺ سلیمان (علیہ السلام) کے اعتبار سے (آیت ) ” من معی “۔ بلکہ من قبلی ہیں یعنی آپ ﷺ تو نبوت اور رسالت میں ان کے ہم مرتبہ ہیں اور درجہ میں ان سے بھی افضل ہیں اور خاقانی کا یہ شعر : پس از سی سال ایں معنی محقق شدبخاقانی، کہ یک دم باخدا بودن بہ از ملک سلیمانی۔ اس سے سلیمان (علیہ السلام) کی توہین کا شبہ نہ کیا جائے، یہ اس شخص کے حق میں ہے کہ جہاں دولت اور سلطنت کے ساتھ باخدا بودن جمع نہ ہوسکے بخلاف حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے کہ انکی سلطنت اور مملکت باخدا بودن کے منافی نہ تھی باوجود اتنی عظیم سلطنت کے وہ ایک لمحہ کے لیے بھی خدا تعالیٰ سے غافل نہ تھے اتنہی المراد کذا فی تعظیم العلم ص 29۔ 30 وعظ ششم از سلسلہ تبلیغ۔
Top