Tafseer-e-Usmani - Al-Maaida : 60
سَلْ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ كَمْ اٰتَیْنٰهُمْ مِّنْ اٰیَةٍۭ بَیِّنَةٍ١ؕ وَ مَنْ یُّبَدِّلْ نِعْمَةَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ
سَلْ : پوچھو بَنِىْٓ اِسْرَآءِ يْلَ : بنی اسرائیل كَمْ : کس قدر اٰتَيْنٰھُمْ : ہم نے انہیں دیں مِّنْ : سے اٰيَةٍ : نشانیاں بَيِّنَةٍ : کھلی وَ : اور مَنْ : جو يُّبَدِّلْ : بدل ڈالے نِعْمَةَ : نعمت اللّٰهِ : اللہ مِنْۢ بَعْدِ : اس کے بعد مَا : جو جَآءَتْهُ : آئی اس کے پاس فَاِنَّ : تو بیشک اللّٰهَ : اللہ شَدِيْدُ : سخت الْعِقَابِ : عذاب
تو کہہ میں تم کو بتلاؤں ان میں کس کی بری جزا ہے اللہ کے ہاں وہی جس پر اللہ نے لعنت کی اور اس پر غضب نازل کیا اور ان میں سے بعضوں کو بندر کردیا اور بعض کو سور اور جنہوں نے بندگی کی شیطان کی وہی لوگ بدتر ہیں درجہ میں اور بہت بہکے ہوئے ہیں سیدھی راہ سے1
1 یعنی اگر " ایمان باللہ " پر مستقیم ہونا اور ہر اس چیز کی جو خدا کی طرف سے کسی زمانہ میں نازل ہو سچے دل سے تصدیق کرنا ہی تمہارے زعم میں مسلمانوں کا سب سے بڑا جرم اور سب سے بڑی برائی ہے اور اسی وجہ سے تم ان کو مورد طعن و ملام بناتے ہو تو آؤ کہ میں تم کو ایک ایسی قوم کا پتہ بتلاؤں جو اپنی شرارت اور گندگی کی وجہ سے بدترین خلائق ہے۔ جن پر خدا کی لعنت اور غضب کا اثر آج بھی نمایاں طور پر آشکارا ہے۔ جس کے بہت سے افراد اپنی مکاری اور بےحیائی اور حرص دنیا کی سزا میں بندر اور سور بنائے جا چکے ہیں اور جس نے خدا کی بندگی سے نکل کر شیطان کی غلامی اختیار کرلی۔ اگر انصاف سے دیکھا جائے تو یہ بدترین خلائق اور گم کردہ راہ قوم ہی اصلی معنی میں تمہارے طعن و استہزاء کی مستحق ہوسکتی ہے اور وہ خود تم ہی ہو۔
Top