Tafseer-e-Madani - Al-Baqara : 39
وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ یٰقَوْمِ اِنَّكُمْ ظَلَمْتُمْ اَنْفُسَكُمْ بِاتِّخَاذِكُمُ الْعِجْلَ فَتُوْبُوْۤا اِلٰى بَارِئِكُمْ فَاقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ عِنْدَ بَارِئِكُمْ١ؕ فَتَابَ عَلَیْكُمْ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ
وَاِذْقَالَ : اور جب کہا مُوْسَىٰ : موسیٰ لِقَوْمِهِ : اپنی قوم سے يَا قَوْمِ : اے قوم اِنَّكُمْ : بیشک تم ظَلَمْتُمْ : تم نے ظلم کیا اَنْفُسَكُمْ : اپنے اوپر بِاتِّخَاذِكُمُ : تم نے بنالیا الْعِجْلَ : بچھڑا فَتُوْبُوْا : سو تم رجوع کرو اِلَىٰ : طرف بَارِئِكُمْ : تمہاراپیدا کرنے والا فَاقْتُلُوْا : سو تم ہلاک کرو اَنْفُسَكُمْ : اپنی جانیں ذَٰلِكُمْ : یہ خَيْرٌ : بہتر ہے لَكُمْ : تمہارے لئے عِنْدَ : نزدیک بَارِئِكُمْ : تمہارا پیدا کرنے والا فَتَابَ : اس نے توبہ قبول کرلی عَلَيْكُمْ : تمہاری اِنَّهُ هُوَ : بیشک وہ التَّوَّابُ : توبہ قبول کرنے والا الرَّحِیْمُ : رحم کرنے والا
اور اس کے (برعکس) جن لوگوں نے کفر کیا اور جھٹلایا میری آیتوں کو تو وہ ساتھی (اور یار) ہوں گے دوزخ کے جس میں ان کو ہمیشہ رہنا ہوگا3
121 اِتّباع ہوی کا نتیجہ ہلاکت و تباہی ۔ والعیاذ باللہ : سو ھوی کے راستے کو اپنانے کا نتیجہ و انجام، دوزخ کا ہمیشہ کا عذاب اور ہلاکت و تباہی ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ایسے بدبختوں کو اپنے کفر و انکار اور تکذیب و اعراض کے نتیجے میں اس ہولناک انجام سے دوچار ہونا پڑے گا ۔ والعیاذ باللہ ۔ پس معلوم ہوا کہ حق سے محرومی ہر خیر سے محرومی ہے ۔ والْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْمِ ۔ اور حق سے سرفرازی حقیقی کامیابی اور فائز المرامی کی شاہ کلید ہے۔ نیز یہاں سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ راستے دو ہی ہیں ایک اتباع ہدی یعنی حق و ہدایت کی پیروی کا راستہ، جو کہ سراسر خیر، سلامتی، اور حقیقی و ابدی کامیابی کا راستہ ہے، اور دوسرا اتباع ھویٰ یعنی خواہشات نفس کی پیروی کا راستہ، جو کہ تباہی اور ہلاکت کا راستہ ہے، مگر افسوس کہ اس کے باوجود دنیا کی عظیم اکثریت اور خاص کر مغرب و مشرق کی مادہ پرست اور دنیوی ترقی کے گھمنڈ سے مخمور اکثریت آج ہلاکت و تباہی کے اسی راستے پر چلی جا رہی ہے، اور اس ضمن میں حق و صداقت کی کوئی آواز ان کے دل و دماغ تک پہنچ ہی نہیں پاتی۔ انہوں نے اپنے دل و دماغ کو اس سے بالکل بند اور مقفل کر رکھا ہے، اور ان کی زندگی کی گاڑی صرف اسی محور پر گھوم رہی ہے کہ نفس کی خواہش کی تکمیل کس طرح کی جائے اور بس۔ جو کہ تمام خرابیوں سے بڑی خرابی اور تمام فتنوں اور مہالک کی جڑ بنیاد ہے۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْمَ -
Top