Tafseer-e-Madani - Yaseen : 12
اِنَّا نَحْنُ نُحْیِ الْمَوْتٰى وَ نَكْتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَ اٰثَارَهُمْ١ۣؕ وَ كُلَّ شَیْءٍ اَحْصَیْنٰهُ فِیْۤ اِمَامٍ مُّبِیْنٍ۠   ۧ
اِنَّا نَحْنُ : بیشک ہم نُحْيِ : زندہ کرتے ہیں الْمَوْتٰى : مردے وَنَكْتُبُ : اور ہم لکھتے ہیں مَا قَدَّمُوْا : جو انہوں نے آگے بھیجا (عمل) وَاٰثَارَهُمْ ڳ : اور ان کے اثر (نشانات) وَكُلَّ : اور ہر شَيْءٍ : شے اَحْصَيْنٰهُ : ہم نے اسے شمار کر رکھا ہے فِيْٓ : میں اِمَامٍ مُّبِيْنٍ : کتاب روشن (لوح محفوظ
بلاشبہ ہم زندہ کرتے ہیں (اور کریں گے) مردوں کو اور ہم لکھتے جا رہے ہیں ان کے وہ اعمال بھی جو انہوں نے آگے بھیج دئیے ہیں اور ان کے وہ آثار (اور نشانات) بھی جو انہوں نے اپنے پیچھے چھوڑے ہیں اور (اس سے بھی بہت پہلے) ہم نے ہر چیز کو ضبط کر رکھا ہے ایک واضح کتاب میں
16 روز جزا اور اس کے تقاضوں کی تذکیر و یاددہانی : سو روز جزا جو کہ خدائے رحمن کی رحمانیت کا تقاضا ہے اس کی تذکیر و یاددہانی کراتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم یقینا مردوں کو زندہ کریں گے اور ہم لکھ رہے ہیں جو کچھ کہ انہوں نے آگے بھیجا اور انکے نشانات کو "۔ خواہ انکے وہ آثار و نشانات اچھے ہوں یا برے۔ آثار حسنہ کی مثال جیسے کوئی علم چھوڑا۔ یعنی کچھ لوگوں کو علم دین سکھا گیا۔ اللہ کے لئے کوئی علمی و دینی کتاب لکھ گیا یا کوئی مدرسہ قائم کر گیا۔ یا مسجد بنا گیا وغیرہ وغیرہ۔ اور آثار سیئہ جیسے برائی کا کوئی اڈہ قائم کر گیا۔ کچھ لوگوں کو غلط راہ پر ڈال گیا۔ کوئی گندہ لڑیچر چھوڑ گیا۔ کوئی بدعت نکال گیا یا دین میں کوئی تحریف کر گیا۔ یا کسی غلط اور باطل فرقے کی بنیاد ڈال گیا وغیرہ وغیرہ ۔ والعیاذ باللہ ۔ جیسا کہ صحیح حدیث میں فرمایا گیا کہ " جس کسی نے اسلامی تعلیمات کے مطابق کسی نیکی کی بنا ڈالی اس کو اس کا اجر بھی ملے گا اور ہر اس شخص کے اجر کے برابر بھی جس نے اس کے بعد اس نیکی کو اپنایا۔ اور جس نے اسلام میں کوئی بری رسم ڈالی اس کو اس کا وبال بھی اٹھانا ہوگا اور آئندہ ہر اس شخص کے کئے کا وبال بھی جو اس کی راہ پر چلا بغیر اس کے کہ ان پیروکاروں کے اجر یا ان کے وبال میں کوئی کمی واقع ہو " ۔ والعیاذ باللہ ۔ پس نیکی وہ معتبر ہے جو دین میں ثابت ہو۔ ورنہ وہ بدعت ہوگی۔ جو صحیح احادیث کی رو سے مردود ہے۔ اسی طرح مسجد کی طرف اٹھنے والے قدم بھی اس میں داخل ہیں۔ جیسا کہ روایات میں وارد ہے کہ قبیلہ بنو سلمہ کے کچھ لوگوں کے مکانات مسجد نبوی سے دور تھے تو انہوں نے مسجد کے قریب منتقل ہونا چاہا۔ تو آنحضرت ﷺ نے ان سے فرمایا ۔ " بني سَلَمہ دِیَارُکُمْ تَکْتُبُ اٰثَارَکُمْ " ۔ یعنی " بنو سلمہ تم اپنے انہی گھروں میں رہو کہ تمہارے قدموں کے نشانات تمہارے نامہ ٔ اعمال میں لکھے جا رہے ہیں " ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید - 17 امام مبین کا معنیٰ و مفہوم اور اس سے مراد ؟ : سو اس سے مراد ہے لوح محفوظ۔ یعنی ہمیں تو لکھنے کی ضرورت نہیں۔ یہ تو محض ضابطے کی ایک کاروائی کے طور پر ہے۔ ورنہ ہمارے علم ازلی کے اعتبار سے تو یہ سب کچھ پہلے ہی سے لوح محفوظ میں ثبت ہے ۔ " اللَّوح المحفوظ " ۔ (جامع البیان : ج 3 ص 194، معارف القرآن، مدارک التنزیل، محاسن التاویل اور تفسیر المراغی وغیرہ) ۔ اور بعض نے کہا کہ اس سے مراد نامہ اعمال ہے۔ (ابن کثیر، فتح القدیر اور صفوۃ التفاسیر وغیرہ) ۔ لیکن اس کو تعبیر امام کے لفظ سے فرمایا گیا ہے جسکے اصل معنیٰ پیشوا، مقتدا، راہنما، لیڈر اور مرجع وغیرہ کے آتے ہیں۔ اور یہیں سے یہ لفظ اس کتاب کیلئے بھی استعمال ہوتا ہے جو سب کیلئے راہنما اور مرکز و مرجع کی حیثیت رکھتی ہے۔ چناچہ سورة ہود کی آیت نمبر 17 اور سورة احقاف کی آیت نمبر 12 میں یہ لفظ تورات کے لیے بھی آیا ہے۔ اور یہاں یہ اس مرکزی کتاب کیلئے استعمال ہوا ہے جس میں ہر شخص کے اعمال درج ہوں گے اور جس کے مطابق ہر کوئی اپنے زندگی بھر کے کیے کرائے کا صلہ اور بدلہ پائے گا۔ سو اس سے مزید وضاحت فرما دی گئی کہ کوئی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ لوگوں کے اعمال و اَقوال کے ضبط و تحریر میں ہم نے کسی غفلت یا لاپرواہی سے کام لیا ہے۔ سو ایسا نہیں اور ہرگز نہیں۔ بلکہ ہم نے انکا سب کیا کرایا ایک بڑے ہی واضح دفتر میں درج کر رکھا ہے جو وقت آنے پر ہر کسی کا کچا چٹھا سب اس کے سامنے رکھ دے گا اور ہر کسی نے اسی کے مطابق صلہ و بدلہ پانا ہوگا ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
Top