Tafseer-e-Madani - Yaseen : 18
قَالُوْۤا اِنَّا تَطَیَّرْنَا بِكُمْ١ۚ لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهُوْا لَنَرْجُمَنَّكُمْ وَ لَیَمَسَّنَّكُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِیْمٌ
قَالُوْٓا : وہ کہنے لگے اِنَّا تَطَيَّرْنَا : ہم نے منحوس پایا بِكُمْ ۚ : تمہیں لَئِنْ : اگر لَّمْ تَنْتَهُوْا : تم باز نہ آئے لَنَرْجُمَنَّكُمْ : ضرور ہم سنگسار کردیں گے تمہیں وَلَيَمَسَّنَّكُمْ : اور ضرور پہنچے گا تمہیں مِّنَّا : ہم سے عَذَابٌ : عذاب اَلِيْمٌ : دردناک
(پھر بھی) بستی والوں نے کہا کہ ہم تمہیں منحوس پاتے ہیں اگر تم باز نہ آئے تو ہم یقینا سنگسار کردیں گے تم (تینوں) کو اور تمہیں ضرور پہنچ کر رہے گا ہماری طرف سے ایک دردناک عذاب2
22 منکرین کی ایک اور گستاخی کا ذکر : سو اس سے منکرین و معاندین کی ایک اور گستاخی اور بدتمیزی کا ذکر فرمایا گیا ہے کہ انہوں نے حضرات انبیاء و رسل پر نحوست کا الزام لگایا ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ان بستی والوں نے ان رسولوں سے کہا کہ ہم تمہیں منحوس پاتے ہیں "۔ کہ تمہاری وجہ سے ہم پر طرح طرح کی آفتیں اور مصیبتیں آرہی ہیں۔ سو یہ بھی مشرکوں کا ہمیشہ کا اور مشترکہ وطیرہ رہا ہے کہ اپنی مصیبتوں اور مشکلوں کو اپنے کفر و شرک کا نتیجہ سمجھنے کی بجائے حق والوں کی نحوست قرار دیتے رہتے ہیں۔ کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہو رہا ہے۔ مثال کے طور پر ملاحظہ ہو سورة نساء آیت نمبر 78 اور سورة اعراف آیت نمبر 131 اور سورة نمل آیت نمبر 47 وغیرہ وغیرہ میں ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِ الْعَظِیْم وَلَاحَوْلَ ولا قُوَّۃَ اِلّا بِہٖ سبحانہ وتعالی ۔ بہرکیف پیغمبروں کے انکار اور ان کی تکذیب و استہزاء کے باعث ان لوگوں پر تنبیہی نوعیت کے عذاب دستور خداوندی اور سنت الیہہ کے مطابق آئے تاکہ یہ لوگ ہوش کے ناخن لیں، سنبھل جائیں اور اپنی غلط اور تباہ کن روش سے باز آجائیں اور اس کی اصلاح کریں۔ مگر ان عذابوں سے سبق لینے اور باز آنے کی بجائے الٹا انہوں نے اس کو پیغمبروں کی نحوست قرار دیا اور صاف کہہ دیا کہ ہم تمہیں منحوس پاتے ہیں۔ اور اس طرح اپنے کفر و انکار کی میل کو انہوں نے اور پکا کردیا۔ اور یہی نتیجہ ہوتا ہے حق اور اہل حق سے منہ موڑنے، ان سے دشمنی رکھنے اور ان سے تکذیب و استہزاء کا معاملہ کرنے کا کہ اس سے انسان کی مت مار دی جاتی ہے۔ اور اس کے نتیجے میں وہ سیدھی بات کو بھی الٹا سمجھنے لگتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ زیغ و ضلال کے ہر شائبے سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین۔ بہرکیف اس سے آگہی بخشی گئی کہ ان بدبختوں نے رسولوں کی دعوت کو قبول کر کے اپنی اصلاح کی طرف متوجہ ہونے اور راہ حق و ہدایت کو اپنانے کی بجائے الٹا ان کی شان میں گستاخی اور بدتمیزی کا ارتکاب کرتے ہوئے ان پر نحوست کا الزام لگایا اور ان کو سخت الفاظ میں دھمکی دی کہ اگر تم لوگ باز نہ آئے تو ہم تم کو سنگسار کردیں گے اور تم کو ہماری طرف سے ایک سخت قسم کا دردناک عذاب پہنچ کر رہے گا۔ اور یہی حال ہوتا ہے ان لوگوں کا جن کی مت مار دی جاتی ہے اور وہ اپنے آخری اور ہولناک انجام کو یہنچنے والے ہوتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Top