Tafseer-e-Madani - Yaseen : 20
وَ جَآءَ مِنْ اَقْصَا الْمَدِیْنَةِ رَجُلٌ یَّسْعٰى قَالَ یٰقَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِیْنَۙ
وَجَآءَ : اور آیا مِنْ : سے اَقْصَا : پرلا سرا الْمَدِيْنَةِ : شہر رَجُلٌ : ایک آدمی يَّسْعٰى : دوڑتا ہوا قَالَ : اس نے کہا يٰقَوْمِ : اے میری قوم اتَّبِعُوا : تم پیروی کرو الْمُرْسَلِيْنَ : رسولوں کی
ادھر ایک شخص دوڑتا ہوا آیا شہر کے اس (پرلے) کنارے سے (اور اس نے آکر ان سے) کہا اے میری قوم کے لوگو ! تم پیروی کرو رسولوں کی
24 رسولوں کی تایید کے لیے غیبی امداد کا ایک مظہر و نمونہ : سو اس موقع پر ان رسولوں کی تایید وتقویت کے لیے غیبی امداد کا ایک نمونہ و مظہر اس طرح سامنے آیا کہ ان کا ساتھ دینے کے لیے شہر کے اس دور کے کنارے سے ایک شخص دوڑتا ہوا ان کے پاس پہنچا۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا " اور دوڑتا ہوا آیا ایک شخص شہر کے اس کنارے سے "۔ روایات کے مطابق اس شخص کا نام حبیب نجار تھا جو پہلے ہی ایمان سے مشرف ہوچکا تھا۔ بڑا عابد و زاہد اور نیک و صالح انسان تھا۔ یہ شخص شہر کے دوسرے کونے پر اپنی عبادت میں مصروف تھا کہ اس کو ان پیغمبروں کے ساتھ اپنی قوم کی اس بدسلوکی کا علم ہوا تو اس سے رہا نہ گیا اور وہ دوڑتا ہوا وہاں پہنچا۔ اور جن لوگوں کے نزدیک اس بستی سے مراد مصر ہے، ان کے نزدیک اس رجل سے مراد آل فرعون سے تعلق رکھنے والا وہ مرد مومن ہے، جس نے انکے اندر سے اٹھ کر حضرت موسیٰ کے حق میں زوردار انداز سے کلمہ حق بلند کیا تھا۔ جس کی تفصیل سورة مومن میں مذکور ہے۔ بہرکیف اس بندئہ خدا نے اس موقع پر پہنچ کر ان رسولوں کے حق میں بڑے زوردار اور معقول و موثر انداز سے اپنی قوم سے خطاب کیا اور ان کو پیغمبروں پر ایمان لانے اور ان کا ساتھ دینے کے لیے کہا۔ اور ان کو اس کے لیے ترغیب دی اور ابھارا۔ اور اس طرح ان رسولوں کی تایید وتقویت کے لیے غیبی امداد کا ایک نمونہ و مظہر سامنے آیا ۔ والحمد للہ جل وعلا -
Top