Tafseer-e-Madani - Yaseen : 21
اتَّبِعُوْا مَنْ لَّا یَسْئَلُكُمْ اَجْرًا وَّ هُمْ مُّهْتَدُوْنَ
اتَّبِعُوْا : تم پیروی کرو مَنْ : جو لَّا يَسْئَلُكُمْ : تم سے نہیں مانگتے اَجْرًا : کوئی اجر وَّهُمْ : اور وہ مُّهْتَدُوْنَ : ہدایت یافتہ
پیروی کرو تم ان کی جو تم سے کوئی اجر نہیں مانگتے اور وہ ہیں سیدھی راہ پر
25 اتباع حق کا تقاضا کرنے والی دو اہم بنیادیں : سو اس مرد مومن نے اپنی قوم سے کہا کہ " تم ان کی پیروی کرو جو تم سے کوئی اجر نہیں مانگتے اور وہ خود ہیں بھی حق پر "۔ یعنی اول تو ان کا ہدایت پر ہونا ہی اس بات کا اصل اور بڑا مقتضیٰ ہے کہ ان حضرات کی بات کو مانا جائے اور صدق دل سے ان کی پیروی کی جائے۔ اور مزید یہ کہ ان کی اس میں کوئی ذاتی غرض بھی نہیں۔ یہ تم لوگوں سے کسی بھی قسم کا کوئی اجر اور بدلہ بھی نہیں مانگتے۔ تو پھر تمہیں ان کی پیروی کرنے میں آخر کیا عذر و تامل ہوسکتا ہے ؟ سو راہ حق و ہدایت پر قائم رہنا اور کوئی دنیاوی لالچ اور طمع نہ رکھنا دو ایسی اہم بنیادیں ہیں جو کسی کے اتباع کا بدیہی طور پر تقاضا کرتی ہیں ۔ وباللہ التوفیق ۔ بہرکیف اس سے واضح فرمایا گیا کہ اس مرد مومن نے رسولوں کی اتباع اور پیروی کے حق میں اس موقع پر دو اہم دلیلیں پیش کیں۔ اول یہ کہ ان رسولوں کا اس دعوت کے ساتھ کوئی ذاتی مفاد وابستہ نہیں بلکہ وہ ہر غرض سے بالاتر ہو کر محض خلق خدا کی بہتری و بھلائی اور ان کی ہدایت و راہنمائی کے لیے یہ سب دکھ جھیل رہے ہیں۔ اور دوسری دلیل یہ کہ وہ خود ہیں بھی حق پر اور ان کی دعوت عقل و نقل کے تقاضوں کے عین مطابق ہے۔ سو ایسے میں ان کی دعوت سے اعراض برتنا اور منہ موڑنا بڑی شقاوت اور بدبختی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Top