Tafseer-e-Madani - Saad : 17
اِصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ اذْكُرْ عَبْدَنَا دَاوٗدَ ذَا الْاَیْدِ١ۚ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ
اِصْبِرْ : آپ صبر کریں عَلٰي : اس پر مَا يَقُوْلُوْنَ : جو وہ کہتے ہیں وَاذْكُرْ : اور یاد کریں عَبْدَنَا : ہمارے بندے دَاوٗدَ : داؤد ذَا الْاَيْدِ ۚ : قوت والا اِنَّهٗٓ : بیشک وہ اَوَّابٌ : خوب رجوع کرنے والا
(لہٰذا) آپ صبر ہی سے کام لیتے رہیں ایسے (ہٹ دھرم) لوگوں کی ان باتوں پر جو یہ (حق کے خلاف) بناتے ہیں اور یاد کرو ہمارے ایک خاص بندے داؤد (اور ان کی سبق آموز زندگی) کو جو کہ بری قوتوں والے تھے بیشک وہ ہمیشہ رجوع رہنے والا شخص تھا (اپنے رب کے حضور)2
21 حضرت داؤد کی زندگی سے درس عبرت لینے کی تعلیم و تلقین : سو اس ارشاد سے مخالفین کی دلآزاریوں پر حضرت ِداؤد کی زندگی سے تسلی حاصل کرنے کی تلقین وتعلیم فرمائی گئی ہے۔ " ایدی " جمع ہے " ید " کی۔ جس کے معنیٰ ہاتھ کے آتے ہیں۔ مگر یہاں یہ کنایہ ہے قوت سے۔ کیونکہ ہاتھ قوت کا ذریعہ اور مظہر ہوتا ہے۔ اور داؤد (علیہ السلام) کو واقعۃً اللہ پاک نے عقیدئہ و ایمان، عمل و اخلاق، دولت و سلطنت اور دین و دنیا کی بہت سی قوتوں سے خاص طور پر نوازا تھا۔ سو یہاں پر آنحضرت ﷺ کو اور آپ کے توسط سے آپکی امت کے ہر داعی حق کو اپنے مخالفین کی دلآزار باتوں پر صبر و برداشت سے کام لینے کیلئے حضرت داؤد (علیہ السلام) کے حالات کو یاد کرنے کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے۔ سو حضرت داؤد کے ذکر و تذکرہ اور آپ کی حیات طیبہ میں اہل حق کے لیے بھی عظیم الشان درسہائے عبرت و بصیرت ہیں اور اہل کفر و باطل کے لیے بھی۔ اہل حق کے لیے یہ کہ وہ اتنی قوت اور طاقت رکھنے کے باوجود کس طرح لوگوں کے ناگوار رویے کو برداشت کرتے۔ کس حلم وتحمل کے ساتھ ان سے برتاؤ کرتے اور کس طرح کمال عدل وانصاف اور لطف و عنایت سے کام لیتے۔ ان سے نرمی اور مہربانی کا معاملہ کرتے اور دوسروں کے واقعات سے خود اپنے زندگی کے لیے سبق لیتے تھے۔ اور منکرین کے لیے آنجناب کی زندگی میں یہ درس عظیم ہے کہ حضرت داؤد اس قدر شان و شوکت عزت و عظمت اور دنیا و دولت سے سرفرازی کے باوجود ایسے عاجزی کرنے والے تھے تو تم لوگ اتنا تکبر کیوں اور کیسے کرتے ہو ؟۔ اللہ حق کو سمجھنے اور اپنانے کی توفیق بخشے ۔ آمین۔ 22 حضرت داؤد کی شان اوابیت کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا اور ادوات تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " بیشک وہ ہمیشہ رجوع رہنے والے تھے اپنے رب کے حضور "۔ چناچہ آپ (علیہ السلام) ہمیشہ اللہ پاک کی یاد اور اس کی عبادت و بندگی میں لگے رہتے تھے۔ جیسا کہ صحیحین کی حدیث میں وارد و منقول ہے کہ سب سے بہتر نماز حضرت داؤد کی نماز ہے۔ اور سب سے بہتر روزہ حضرت داؤد کا روزہ ہے کہ آپ (علیہ السلام) آدھی رات آرام فرماتے پھر ایک تہائی رات نماز میں گزارتے اور پھر آخری چھٹا حصہ آرام فرماتے۔ اور ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن افطار فرماتے۔ اسی لئے بخاری شریف کی روایت کے مطابق آپ کو " اَعْبَدُ الْبَشَر " ۔ یعنی " سب سے بڑا عبادت گزر انسان " فرمایا گیا۔ روایات کے مطابق آپ کے گھر کا نظام اس طرح تھا کہ دن رات کے چوبیس گھنٹوں میں وہاں پر لگاتار عبادت ہوتی رہتی تھی۔ سو بےمثال بادشاہی و حکمرانی میں عبادت کا ایسا عظیم الشان نظام قائم کرنا حضرت داؤد کی ایک عظیم الشان اور بےمثال امتیازی شان تھی جو اور کسی کے حصے میں نہیں آئی۔ بہرکیف آنجناب کی شان اوابیت کے ذکر وبیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا کہ آپ اپنے رب کی طرف بڑے ہی رجوع رہنے والے بندے تھے۔ دوسرے مختلف مقامات پر حضرت داؤد اور حضرت سلیمان دونوں کی شکر گزاری کے اس وصف خاص کو طرح طرح سے واضح فرمایا گیا ۔ علی نبینا وعلیہما الصلاۃ والسلام -
Top